Friday, 24 April 2020

Maulana Shah Ghulam Hasnain Chishti Phulwarvi



حضرت     مولانا شاہ غلام حسنین چشتی پھلوارویؒ

        حضرت قبلہ مولانا شاہ سلیمان پھلواروی کے تیسرے صاحبزادے تھے۔  خبر آئی کہ خانقاہ سلیمانیہ پھلواری شریف کے سجادہ نشیں حضرت مولانا شاہ غلام حسنین چشتی پھلواروی نے اس دارِ فانی کو الوداع کہی۔ اناللہ۔ شعبان1394ھ  کی چوتھی اور اگست  1974ء کی تیئسویں تاریخ تھی۔ دن جمعہ کا تھا اور وقت پونے چار بجے شام کا۔ شام ہوئی اور ایک آفتاب علم وفضل بہ جانب قبلہ جھک گیا۔ ان کا سن پیدائش  1317ھ تھا اس لحاظ سے ان کی عمر ستتر سال ہوئی۔

        پھلواری شریف(ضلع پٹنہ بہار میں) ایک قدیم قصبہ اور مردم خیز خطّہ ہے جہاں ہر دور میں علماء اور فضلاء،صوفیہ، ادبا، شعراء اور اطباء پیدا ہوتے رہے۔ اب سے چالیس پچاس سال پہلے حضرت قبلہ مولانا شاہ سلیمان پھلواروی کی شہرت و عظمت کے ساتھ پھلواری کا نام بھی سارے برعظیم میں گونج رہا تھا۔ حضرت قبلہ مولانا شاہ سلیمان پھلواروی اپنے عہد کے عظیم المرتب عالم تھے، امام الصوفیہ تھے اور قومی وملّی مقتدا۔اُن کے چار فرزند ہوئے  اور چاروں نامور،سب سے بڑے حضرت مولاناشاہ حسن میاں پھلوراوی،دوسرےحضرت مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی تیسرے حضرت مولانا شاہ حسنین پھلواروی،اور چوتھے حضرت مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی۔

         حضرت مولانا شاہ حسن میاں نے اپنے والد ماجد کی زندگی میں ہی جواں عمری میں انتقال کیا وہ متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ حضرت قبلہ مولانا شاہ سلیمان پھلواروی نے  193ء میں رحلت فرمائی تو ان کے بعد حضرت مولانا شاہ حسین میاں جانشین ہوئے وہ بھی قومی وملّی تحریکات میں پیش پیش رہے۔خلافت کمیٹی، مسلم کانفرنس، بزم صوفیہ مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کے سب کے سر گرم رکن تھے اور ممتاز رہنما(پاکستان میں کوآپریٹو ہاوسنگ کے مشہور رہنما سید علی اکبرقاصد انہیں کے فرزند تھے)حضرت مولانا شاہ حسین میاں کے بعد پہلے مولاناشاہ محمد جعفر اور پھر مولانا شاہ غلام حسنین سجادہ نشین ہوئے، پاکستان میں نیشنل بنک کے سٹاف افسر شاہ محمد سلمان چشتی انہیں کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ اس خانوادۂ سلیمانیہ کی سب سے بڑی خصوصیت علم وفضل ہے اور خدمت خلق کہ بقول سعدی۔

طریقت بہ از خدمت خلق نیست

        حضرت مولانا شاہ حسین میاں،حضرت مولانا شاہ غلام حسنین اور حضرت مولانا شاہ جعفر پھلواروی نے قدیم علوم کے ساتھ جدید علوم بھی باقاعدہ کالج میں داخل ہو کر حاصل کئے تھے۔ جب تحریک ِخلافت نے زور پکڑا ترکِ موالات کا فیصلہ ہوا اور طلبہ نے درس گاہیں چھوڑ دیں تو ان میں یہ حضرات بھی تھے۔ دینی تعلیم انہوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے حاصل کی۔

        حضرت مولانا شاہ غلام حسنین چشتی بی اے میں تھے جب انہوں نے کالج چھوڑا تھا۔ وہ عالم بھی تھے، صوفی بھی تھے، مفتی بھی تھے اور مرشد بھی، ان کی نظر بہت وسیع تھی۔ سلاسل صوفیہ کی تاریخ شجرے اور شخصیات پر جتنا عبور اُن کو تھا شاید ہی کسی اور شخص کو اس برعظیم میں حاصل ہو۔ ان کی معلومات اہلِ تحقیق استفادہ کرتے تھے ان کا درجہ سند کا تھا۔ ان کو آثار قدیمہ سے بھی خاص دلچسپی تھی۔ انہوں نے اپنی قلمی یادگار ایک تو اپنے والد ماجد کی مختصر سانح عمری”خاتم سلیمانی“ کے نام سے چھوڑی ہے اور دوسری بیش بہا کتاب ”شمس المعارف“ یعنی حضرت قبلہ مولانا شاہ سلیمان پھلواروی کے علمی مکاتیب کا وہ جدید و ضخیم مجموعہ جس میں تزکیہء نفس،تربیت اخلاق، احسان و عرفان اور تاریخ وادب کا نادر ذخیرہ یکجا ہے(اس کے مرتبین میں حضرت مولانا شاہ غلام حسنین چشتی اور حضرت مولانا محمد جعفر پھلواروی،دونوں کے اسمائے گرامی درج ہیں)

        حضرت مولانا شاہ غلام حسنین چشتی کے بے شمار مضامین برعظیم کے مختلف علمی وادبی رسالون اور روزناموں میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اگر کوئی ان کو یکجا کردے تو یہ بذات خود علمی وادبی مقالات کا ایک قیمتی مجموعہ ثابت ہو۔ یہی حال ان کے مکاتیب کا ہے عہد حاضر کے تمام علمی گھرانوں اور صوفی خانوادوں سے ان کے گہرے روابط تھے اور بے شمار ممتاز شخصیتوں سے ان کی خط وکتابت تھی۔پھر مختلف حلقوں کے لوگ ان سےعلمی ادبی اورتاریخی باتیں دریافت کرتے تھے اور وہ سب کا جواب تفصیل سے دیتے تھے، ان کے مکاتیب لوگوں نے یقینا محفوظ رکھے ہوں گے، ان کی تحریر کا اسلوب بھی خاص تھا۔ وہ خیروعافیت کے خطوط بھی عزیزوں کو لکھتے تھے تو ان میں بھی ان کی فطری شگفتگی اور علمی نکتہ سنجی اپنے بہار پر ہوتی تھی۔

         1947 میں جب پاکستان وجود میں آیا تو اس وقت حضرت مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی ریاست کپورتھلہ میں تھے۔یہ سکھ ریاست تھی،اورمسلمانوں کی آبادی یہاں ۲۵ فیصد سے کم نہ تھی۔ لیکن اس ریاست میں بھی منصوبہ بند طریقہ سے قتل عام ہوا اور جو رہ گئےان کووہاں سے نکالا گیا تو ان مظلوم مسلمانوں کے قافلے کے ساتھ یہ بھی لاہور تشریف لے آئے۔ لیکن حضرت مولانا شاہ غلام حسنین چشتی اپنے وطن پھلواری شریف میں تھے اور اگرچہ بہار کے حالات بھی بدتر ہو رہے تھے مگر انہوں نے اپنی جگہ نہ چھوڑی وہیں رہ کر انہوں نے سرد گرم کا سامناکیا اور اپنی روایات کے تحفظ اور مسلمانوں کی ملّی اور روحانی خدمت میں صبر واستقامت کے ساتھ اپنی زندگی تمام کردی ان کی علمی وروحانی قصبت کا اثر پورے ہندوستان پر تھا۔ سیاسی و غیر سیاسی سبھی طرح کے لوگ ان سے ملنے آتے تھے۔ اور سب کے دل میں ان کا احترام تھا۔

        برعظیم کی تحریک آزادی کا نہایت ہی پر شور زمانہ اُن کی نظروں کے سامنے گزرا تھا۔ ان کے والد ماجد حضرت قبلہ مولانا شاہ سلیمان پھُلواروی  1857ء کے بعد کی جملہ ذہنی وفکری علمی وعملی،تعلیمی وسیاسی جدوجہد کی زندہ تاریخ تھےاور عہد خلافت میں تو ان کے گھر پر تمام بڑے بڑے ہندو اور مسلمان رہنماؤں کی آمد ورفت کاایک سلسلہ قائم تھا، محمد علی، شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا ظفرعلی خاں، حکیم اجمل خاں، مولانا آزاد، مولانا عبدالماجد بدایونی،مولانا آزاد سبحانی، مولانا مظہر الحق،مولانا شفیع داؤدی،راجندر پرشاداورگاندھی جی وغیرہ سب وہاں پہنچ رہے ہین۔ ان سب سےحضرت مولانا شاہ غلام حسنین کے تعلقات براہِ راست تھے پھر وہ اپنے والد ماجد کے ساتھ مختلف سیاسی کانفرنسوں میں بھی شریک ہوتے رہے جہاں اور دوسرے ہندو مسلم رہنماؤں سے ان کی جان پہچان پیدا ہوئی، مہاراجہ محمودآباد سید علی محمد خاں، مولانا عبدالباری فرنگی محلی، مفتی کفایت اللہ، مولانا حسین مدنی ومولانا احمد سعید سے تو مراسم پہلے سے تھے۔ ان کا اپنا مزاج بھی سیاسی ہی تھا،وہ سیاست کے ایک ایک گُر سے واقف تھے اور ان کے قلم نے جالانیاں بھی دکھائی ہیں لیکن پبلک لائف جسے کہتے ہیں اس میں وہ نہیں آئے۔ تحریک پاکستان کے بیشتر رہنماؤں سے بھی ان کے روابط گہرے تھے۔ ان کے بڑے بھائی حضرت مولانا شاہ حسین میاں باقاعدہ پبلک لائف میں تھے۔ اور تحریک کے ممتاز رہنما تھے۔

        حضرت مولانا شاہ غلام حسنین،عملی سیاست نہ ہونے کےباوجود نہایت ہی باخبر سیاستداں تھے،ہندوستان یا پاکستان کے کسی مسئلے پر جب بھی ان کی نظرپڑتی تو وہ اس کے سیاسی پہلو پر کوئی نہ کوئی چبھتا ہوا جملہ ضرور کہتے تھے  1956ء میں جب وہ پاکستان تشریف لائے تو اس وقت دستور پاکستان نیانیا تیار ہوا تھا اور اس کا بڑا چرچا تھا تو انہوں نے اپنے ایک خط میں اس پر یوں تبصرہ کیا تھا:-

        ”پاکستانی سمودھان“ کا سب سے کمزور پہلو میرے نزدیک یہی ہے کہ اس نے لسانی بنیاد پر اپنے مشرقی اورمغربی علاقوں کو دوقوموں کی طرح منقسم تصور کرلیا۔ مذہبی بنیاد پر دو قوموں کا نظریہ تو اب ایک ہی جنرل الکشن تک اور ہے۔ اس کے بعد مخلوط طریقہء انتخاب کا جاری ہو جانا بظاہر ایک یقینی امر ہے اُس وقت ملک دو لسانی قومیتوں میں منقسم رہے گا جس کا ایک بازو دوسرے کے مقابلے میں کس کس طرح جوڑ توڑ کرنے پر مجبور ہو گا اور بات کہاں تک جائے گی، اللہ ہی کو علم ہے“۔

        اٹھارہ سال بعد اس تبصرے کی یہ چند سطریں یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ وہ”حال کے آئینے میں ”مستقبل“ کا چہرہ کتنی آسانی سے دیکھ لیتے تھے حق تو یہ ہے کہ ایسی ہی بالغ نظر شخصیتیں تھیں جنہوں نے ماضی میں مسلمانوں کی قومی وملّی رہنمائی کی تھی اور ایک منزل پر اسے پہنچایا تھا جس شخص میں ایسی بالغ نظری نہ ہو تو وہ بنی بنائی چیز تو بگاڑ سکتا ہے کوئی تعمیر نہیں کرسکتا۔ حضرت کی طبعیت میں سنجیدگی بھی تھی، شگفتگی بھی اور طنز بھی۔انہوں نے اس دستور پر پاکستان کو”پاکستانی سمودھان“لکھا ہے، اس لئے کہ اس سے پہلے کی سطروں میں انہوں نے اردو پر گفتگو کی ہے اور اہل بنگال کی اردو دانی پر اظہار خیال کیا ہے۔ یوں کہئے کہ”سمودھان“کا لفظ لکھ کر انہوں نے اُس کے غیر پاکستانی رخ کی نشاندہی کی ہے۔

        اسی خط میں انہوں نے ایک عبارت یہ بھی لکھی تھی کہ۔

        ایک زمانہ تھا کہ مغرب کی نماز کے لئے کانگرس کا بھرا اجلاس ملتوی کرانے کے لئے مولانا ظفر علی خاں شیر کیطرح اُٹھ پڑے تھے۔ مولانا ظفرعلی خاں ابھی زندہ ہیں مگر اب ان کی اپنی قوم کے نوجوان کو قبلے کی سمت تک یاد نہیں“۔

        خان عبدالغفار خاں کے بھائی ڈاکٹر خان مغربی پاکستان کے وزیر اعلیٰ ہو گئے ان کے بارے میں بڑی لطافت سے یہ تبصرہ کیا تھا:-

        سنجیدہ لوگوں سے تو یہی سُنا کہ آدمی کیریکٹر رکھتا ہے۔جب ہاں کہتا ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ واقعی ہاں کہہ رہا ہے اور اس کے پیچھے کوئی”نہیں“ پوشیدہ نہیں ہے۔ مگر آج کل

ہاں کھائیو مت فریب ِ ہستی

                                    ہر چند کہیں کہ ہے،نہیں ہے

        یا بقول شاعر

ظاہر میں کہیں رہتے ہیں باطن میں کہیں ہیں            

یہ وصف انہیں میں ہے جو ہیں اور نہیں ہیں

        حضرت کا یہ مکتوب ہم نے اگست  1956ء کے شمارے میں پڑھا تھا ان کی یاد میں یہ خط کیا ایک مرتبہ پھر شائع کردیں؟ اس خط میں ایک درد مند صوفی اور بالغ نظر رہنما نے پاکستان کے ماضی،حال اور مستقبل پر بڑے دکھ سے لکھا تھا جو کچھ بھی لکھا تھا، ہم نے اٹھارہ سال پہلے اس خط کو شائع کیاتھا۔تو کس نے اس کو پڑھا تھا اور کیا اثر لیا تھا۔ اب اگر پھر شائع کریں تو کون اس کو پڑھے گا۔ اور پڑھے گا تو کیا واقعی کچھ اثر بھی لے گا؟

        حضرت مولانا غلام حسنین چشتی پھلواروی کی وفات سے پھلواری اور بہار کا ہی نہیں،اس برعظیم کا ایک بڑا عالم،بڑا صوفی اور بالغ نظر وباخبر انسان اُٹھ گیا۔

ذکر کسی سے سنئیے گا تو دیر تلک سر دھنیئے گا

 تحریر: مولانا سید حسن مثنیٰ ندوی                                                                     

ماہنامہ مہرنیمروز، کراچی   


Tasauwof Kya Hai..........Hazrat Maulana Shah Ghulam Hasnain Chishti Phulwarvi

تصوف کیا ہے


سچا اسلامی تصوف کیا ہے اور اصلی سالک وصوفی کیا ہوتا ہے؟۔

 صحیح تصوف کے جاننے والے جیسے جیسے اٹھتے جاتے ہیں ویسے ویسے تصوف کے بارے میں بے خبری اور غلط فہمی بڑھتی جاتی ہے۔عوام ”رہبانیت“۔ گوشہ نشینی اور ترک دنیا میں درویشی وعرفان کو منحصر سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ تعلقات دنیا کے ساتھ یادِخدا قاٸم رہے اور اس سے غفلت نہ ہو۔صحابہ کرام کی عموماً یہی حالت تھی تھیھم تجاّرة ولابیع عن ذکر اللہ۔ وہ دن کوحمکرانی و فرماں رواٸ کرتے تھے۔اور رات کو ذکرِ الٰہی و تذلل و ابتہال میں گزارتے تھے۔

             در کفے جامِ شریعت در کفے سندان عشق

خواص۔ یعنی پڑھے لکھے لوگ بھی جو دنیا کے ہر فلسفے پر سر دھنتے ہیں یہ نہیں جانتے کہ تصوف بھی ایک فلسفہ ہے اور عام فلسفہ اور تصوف کے درمیان فرق علم اور عمل کا ہے۔ ”فلسفی جانتا ہے اور صوفی دیکھتا ہے“۔ فلسفی دلاٸل سے ثابت کرتا ہے کہ سچ اچھی چیز ہے گرچہ خود بے تکلف جھوٹ بول جاتا ہے۔مگر صوفی کے زبان سے بلاقصد بھی سچ ہی نکلتا ہے۔اسی طرح صوفی اور زاہد کے درمیان بھی بڑا فرق ہے۔اور یہاں بھی یہ فرق زاویہ نگاہ کا ہے۔عبادت دونوں ہی کرتے ہیں مگر ایک ڈر سے کرتا ہے یا اجر پانے کے لٸے کرتا ہےدوسرا اس لٸے کرتا ہے ہے کہ عشق ومحبت کا تقاضا یہی ہے اسی لٸے اس راہ میں اگر اسے تکلیفیں بھی پہنچتی ہیں تو اس کو ان تکلیفوں میں بھی ایک راحت ملتی ہے۔مزہ آتا ہے۔ صوفیہ اسی مقام کو مقامِ رضا کہتے ہیں۔ ” تصوف کی اصل بنیاد عشق ہے۔ یہی عشق جب تلاشِ شاہد حقیقی میں کاٸنات پیماٸ کرنے لگتا ہے تو صوفی کو فلسفی کے دوش بدوش کھڑا کر دیتا ہے۔ فلسفی اپنے فلسفے کی عقل سے جانتا ہے کہ خدا ایک ہے اور صوفی اپنے تصوف کی آنکھ سے دیکھتا ہے کہ خدا ایک ہے۔مگر صوفی کہتا ہے کہ ” صرف جاننا ہی کافی  نہیں اسے دیکھنا بھی ضروری“

                     مغرور مشو کہ توحید خداٸے۔۔        

                     واحد دیدن بود نہ واحد گفتن       

چوتھی صدی( ھ)میں جب علم وفضل کا زمانہ تھا۔ شیخ بو علی سینا بڑا فلسفی گزرا ہے اس کے ہم عصر سلطان ابو سعید ابوالخیر بڑے صوفی بزرگ تھے دونوں میں مراسلت رہتی تھی اور خطوط میں بڑے دقیق مساٸل پر بحث ہوتی تھی وہ خطوط آج بھی تاریخ کے خزانے میں محفوظ ہیں اور ”واحد دیدن“ اور”واحد گفتن“ کے زندہ نمونے ہیں۔شیخ بو علی سینا اپنی فلسفیانہ تحقیق ودریافت ان کے سامنے پیش کرتا تھا اور مشکل مساٸل میں ان کی راٸے پوچھا کرتا تھا۔اور وہ اپنی صوفیانہ بصیرت کے جواب اس کو دیا کرتے تھے۔وہ کہتے تھے”او می گوید۔ من می بینم“

تصوف اصل میں وہی ہے جو علمِ دین کے ساتھ ہو۔ متفق علیہ حدیث میں ہے کہ حضرت جبریل نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا کہ ”ماالاحسان یا رسول اللہ؟“ احسان کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا ”ان تعبد اللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک“ یعنی اللہ کی عبادت یوں کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر یہ نہ ہوسکے تو یوں سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے“ صوفیہ کے یہاں ان ہی دونوں کیفیات کا نام ”مراقبہ“ ہے۔ پہلی کیفیت ”مراقبہٕ استغراق و مشاہدہ“ کی ہے اور دوسری کیفیت ”اللہ حاضری اللہ ناظری“ کا ملاحظہ ہے۔ یہ مراقبات مومن کو احسان کے درجے میں لاتے ہیں اور زمرہٕ محسنین میں داخل کرتے ہیں اور محسنین کے لٸے چونکہ میثیت الٰہی لازمی ہے”ان اللہ مع المحسنین“ پس محسنین کی شان میں سے ہے کہ ”ھو معکم ایمناکنتم“ کے مراقبات میں مستغرق رہیں اور قرب و معیت کی تجلیات سے نور ہی نور ہوجاٸیں۔ شریعت و طریقت و حقیقت ایسے مسلسل اور وابستہ ہیں کہ ان میں جداٸ ہو ہی نہیں سکتی۔ ”شریعت زادِ راہ وسازوسامان کا نام ہے۔ طریقت راستہ چلنا اور منازل طٸے کرنا ہے اور حقیقت منزلِ مقصود پر پہچنا ہے“۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں۔”رسول اللہﷺ  کے سوا ہمارے لٸے کوٸ نبی وہادی نہیں ہے جس کی ہم پیروی کریں اور نہ قرآن کے سوا ہمارے لٸے کوٸ کتاب و قانون ہے جس پر ہم عمل کریں۔ان دونوں سے نکلے تو ہلاک ہوٸے۔سلامتی صرف کتاب و سنت میں ہے۔ان کے سوا ہر دوسری راہ ہلاکت کی راہ ہے۔یہ قرآن و سنت ہی ہے جس کے ذریعے بندہ ولایت اور ابدالیت اور غوثیت کے مدارج تک پہنچتا ہے۔مومن کو چاہیۓ کہ پہلے فراٸض ادا کرے جب ان سے فارغ ہو تو سُنن میں مشغول ہو پھر نوافل و فضاٸل کا درجہ ہے۔ اگر کسی نے فراٸض سے فراغت نہیں کی تو سُنن میں مشغول ہونا حماقت ورعونیت ہے فراٸض سے پہلے سُنن و نوافل کی مشغولیت کبھی قبول نہ ہوگی۔

اور سلطان المحقیقین حضرت مخدوم شرف الدینؒ بہاری فرماتے ہیں۔

واجب ہےکہ طریقت کا راستہ شریعت کے موافق چلے جہاں کہیں تُو دیکھے کہ طریقت شریعت کے مطابق نہیں ہے تو اُس طریقت کا کچھ فاٸدہ نہیں ہے اور وہ ملحدوں کا مزہب (طریقہ) ہے کہ (وہ) ایک کے بغیر دوسرے کے قیام کو جاٸز سمجھتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ جب حقیقت کا کشف ہوا تو شریعت اُٹھ (ساقط ہو) گٸ اس اعتقاد پر لعنت ہو۔ ظاہر (شریعت) بے باطن (بغیر طریقت کے) نفاق ہے اور باطن (طریقت)بے ظاہر (بے شریعت کے) زندقہ ہے۔ شریعت کا ظاہر (جو) باطن (یعنی طریقت) کے بغیر ہو نفس (پرستی) ہے اور باطن (طریقت)  بے ظاہر (بغیر شریعت کے) ہوس ہے۔ ظاہر( یعنی شریعت)با باطن ( طریقت) کے ساتھ بندھی ہے۔ جسے حقیقت میں کوٸی جدا نہیں کر سکتا لااِلہٰ الااللہ حقیقت ہےاور محمدرسول اللہ شریعت ہےاگر کوٸ ایمان کی(اس)حقیقت کو ایک دوسرے سے جدا کرنا چاہے گا تو (وہ ایسا) نہیں کر سکتا اور اُس کی( یہ) خواہش باطن ٹھہرے گی۔


تحریر:حضرت مولاناسید شاہ غلام حسنینؒ چشتی پھلواروی۔ 

حضرت جس تصوف کے حامل رہے اس کا نام "احسان" ہے اور یہی تصوف اصلی اور اسلامی ہے۔ "احسان" کا ماحصل نیکوکاری اور حسنِ عمل ہے کہ دین ودنیا کا جو کام بھی ہو اس کو حسن و کمال اور خوبی و اخلاص کے ساتھ ہمہ تن ڈوب کر انجام دیا جائے، اس تصوف میں دین ودنیا دوالگ چیزیں نہیں ہیں اس تصوف کی روح محبت ہے اصلاً اللہ سے، پھر خلق اللہ سے۔



ماخوذ از ریاض۔کراچی.مارچ ١٩٥٤۔ تلخیص ریحان چشتی