............................................................................................................................
حضرت قبلہ شاہ محمد
سلیمان پھلواروی کا شاخِ نہالِ غم پرمشہور شعر:۔۔۔۔
جب جل گئیں سب شاخیں اُمید وتمنا کی
اے شاخِ نہالِ غم اب تک
تُو ہری کیوں ہے
जब जल गईं सब शाखें उम्मीद-ओ-तमन्ना की,۔۔۔۔
ऐ शाख-ए-निहाल-ए-ग़म अब तक तू हरी क्यों है।।
(When all the branches of hope and desire have burnt to ashes,
O branch of the tree of sorrow, why are you still green?)
یہ شعر بہت ہی گہرا اور
حساس ہے، جس کا تعلق تصوف اور روحانیت کی باریکیوں سے ہے ،یہ دراصل ایک عارفانہ
نقطہ نظر کو بیان کرتی ہے، جس میں کئی پیچیدہ روحانی حقائق چھپے ہیں۔ آئیے ان
نکات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امید
و تمنا کی شاخوں کا جلنا:
شعر کا پہلا مصرعہ،
"جب جل گئیں سب شاخیں امید و تمنا کی"، ایک بہت بڑی حقیقت کی طرف اشارہ
کرتا ہے۔ عام طور پر انسان کی زندگی میں امیدیں اور خواہشیں ہی سب سے بڑی محرک
ہوتی ہیں۔ انسان دنیاوی معاملات میں الجھا رہتا ہے، چاہے اسےدولت کمانا ہو، شہرت
حاصل کرنا ہو یا کسی بھی قسم کا دنیاوی سرور پانا ہو۔ یہ تمام امیدیں اور تمنائیں
دراصل انسان کو حق سے دور لے جاتی ہیں۔ یہ انسان کے اندر کی دنیا کو "باہر کی
دنیا سے بہت بڑی" بنا دیتی ہیں
تصوف میں، اس حالت کو
نفسانی خواہشات کا سمندر کہا جاتا ہے۔ جب کوئی سالک (طالبِ حق) اس مرحلے سے گزرتا
ہے کہ اس کی تمام دنیاوی اور نفسانی خواہشات ختم ہو جاتی ہیں، یا بالفاظ دیگر،
اللہ کے "جلال" کی آگ میں جل کر راکھ ہو جاتی ہیں، تو اسے ایک نئی حالت
کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ جلنا دراصل ایک پاکیزگی کا عمل ہے، جس کے بعد انسان
اپنی اصل کی طرف لوٹتا ہے۔
شاخِ
نہالِ غم کیا ہے :
شعر کا دوسرا مصرعہ،
" اےشاخِ نہالِ غم ا ب تک تو ہری کیوں ہے"، اسی پاکیزگی کے عمل کا نتیجہ
ہے۔ جب تمام امیدیں اور تمنائیں جل جاتی ہیں، تو ایک چیز باقی رہ جاتی ہے جو ختم
نہیں ہوتی،اور وہ ہے "غم"۔ لیکن یہ عام دنیاوی غم نہیں ہے۔
دنیاوی
غم:
یہ وہ غم ہے جو پیسہ،
نوکری یا کسی اور دنیاوی نقصان کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ غم اصل میں ایک کمزوری ہے،
کیونکہ یہ انسان کو مایوسی اور لاچاری میں مبتلا کرتا ہے۔
عارفانہ
غم:
یہ وہ غم ہے جو اللہ کے
وصال کی تڑپ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ غم اس بات کا غم ہے کہ حق کو مکمل طور پر پایا
نہیں جا سکتا، کیونکہ وہ پردہِ غیب میں ہے۔ یہ غم عاشق کا وہ غم ہے جو اسے
اپنے محبوب سے دور ہونے
کا احساس دلاتا ہے۔ یہ غم، فنا ہونے کے بجائے، انسان کو مزید طاقت دیتا ہے کہ وہ
اپنے اصل مقصد کی طرف متوجز ہو۔
لہذا، "شاخِ نہالِ
غم" دراصل عارف کا قلب ہے۔ یہ وہ دل ہے جو امید و تمنا کی آگ میں نہیں جلتا،
کیونکہ اس کا تعلق دنیا سے نہیں، بلکہ آخرت اور حق سے ہے۔ جب دنیاوی خواہشات ختم
ہو جاتی ہیں، تو یہ غم اور بھی گہرا اور ہرا بھرا ہو جاتا ہے، کیونکہ اب اس دل میں
سوائے اللہ کی محبت اور وصال کی تڑپ کے اور کچھ نہیں بچتا۔
سرورِ
قلب کی توہین :
سرور قلب کےٹریجک ایسنس
کی توہین ہے"۔ یہ ایک بہت ہی اہم اور گہرا نقطہ ہے۔ عام طور پر ہم سرور اور
خوشی کو ا للہ کی قربت سمجھتے ہیں، لیکن حقیقی عارفانہ سرور وہ ہے جو اس غم سے
پیدا ہو۔ یہ سرور محض ایک عارضی کیفیت نہیں، بلکہ ایک ایسی کیفیت ہے جو وصال کی
تڑپ میں بڑھتی رہتی ہے۔ یہ ایک خوشی ہے جو غم میں چھپی ہوئی ہے۔شعر کا پیغام یہ ہے
کہ جب انسان کی تمام نفسانی خواہشات اور دنیاوی امیدیں جل کر ختم ہو جائیں، تب اس
کا قلب جو کہ "شاخِ نہالِ غم" ہے، مزید ہرا ہو جاتا ہے۔ یہ غم دراصل اللہ
کے وصال کی تڑپ اور اس حقیقت کا احساس ہے کہ کامل وصال ممکن نہیں، اور اسی غم میں
حقیقی عارفانہ خشیتِ الٰہی اور صداقت چھپی ہوئی ہے۔ یہ غم ہی ہے جو نفس کی کمر
توڑتا ہے اور انسان کے سکوت میں بھی ذکر پیدا کرتا ہے۔ یہ وہ غم ہے جو انسان کو اس
کے ہونے کے احساس سے ماورا لے جاتا ہے اور اسے حق کے قریب کرتا ہے۔ اس شعر میں عارفانہ
نقطےکی نہایت گہری تشریح کی گیٔ ہے۔
ریحان
چشتی قادری
..............................................................