Sunday, 14 September 2025

Hazrat Maulana Shah Sulaiman Phulwarvi by Dr. Hafiz Qari Fayuz ar Rahan

 

ڈاکٹر حافظ قاری فیوض الرحمٰن

مولانا شاہ سُلیمان پھلوارویؒ

آپ ۱۲۷۶ھ کو پھلواری شریف صوبہ بہار (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وطن میں حاصل کی۔ پھر مولانا عبدالحئی فرنگی محلی،مولانا احمد علی محدّث سہارنپوری اور مولانا سید نذیر حسین محدّث دہلوی سے درسیات کی تکمیل کی۔ لکھنؤ کے قیام میں درسیات ختم کرنے کے بعد آپ نے طب پڑھی اور پھر کامیاب مطب کرتے رہے۔ آپ زیادہ تر اردو اور عربی میں اور کمتر فارسی میں شعر کہتے تھے۔

ندوۃ العلماء کے نام سے پہلے کانپورمیں اورپھرلکھنؤمیں ایک انجمن کی بنیاد ڈالی۔
مولانا سید سلیمان ندویؒ تحریر فرماتے ہیں کہ:۔

 مرحوم وسیع النظر عالم،بذلہ سنج ادیب،خوش بیان خطیب، پُر اثرواعظ، موقع شناس مقرر اور بڑے بڑے بزرگوں کے حلقہ سے فیض یاب صوفی تھے۔ان کو تاریخ کا شوق اور عربی نظم ونثر کا اچھا ذوق تھا۔اچھے کتب خانوں 
   اور کتابوں کی تلاش رہتی تھی اور اسی حیثیت سے وہ اپنے ہم عصروں میں پورا امتیازرکھتے تھے۔

حاجی شاہ امداد اللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے بھی نسبت رکھتے تھے۔ پنجاب، مدراس شمالی بہار اور صوبہ متحدہ میں ان کے مریدوں کی بڑی تعداد تھی۔ میں نے بچپن میں پھلواری شریف کے قیام کے زمانہ میں ان سے ابتدائی منطق کے دو چار سبق پڑھے تھے۔ وہ جب ؁۱۹۰۲ میں ندوہ کے معتمد تعلیمات منتخب ہوئے تھے اور مستقل قیام ندوہ میں اختیار فرمایا تھا تو ان کی بزرگانہ عنایات اور حوصلہ افزائیوں نے میری علمی ترقیوں میں مدد دی۔ یاد رہے کہ اسی زمانہ میں نواب محسن الملک مرحوم دارالعلوم ندوہ کے معائنہ کے لئے تشریف لائے تھے۔شاہ صاحب نے مجھے اورمیرے ہم درس مولانا ظہوراحمد صاحب وحشی شاہجہاں پوری کو امتحاناً پیش فرمایا۔ میں نے نواب صاحب کے خیرمقدم میں عربی میں ایک قصیدہ لکھا تھا۔ شاہ صاحب نے یہ کہہ کر مجھے پیش کیا کہ یہ میرے عزیز ہیں اورآپ کو قصیدہ سنائیں گے۔

شاہ صاحب کے چٹکلےاورتقریری دل آویز نکتے اس قدرہیں کہ کوئی ان کو جمع کرے تو رسالہ بن جائے۔ رنگون میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا جلسہ تھا۔ مولویوں نے کانفرنس والوں پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔ شاہ صاحب بھی نواب محسن الملک(مہدی علی)مرحوم کے ساتھ اس جلسہ میں گئے تھے تقریر کرنے کھڑے ہوئے توفرمایا: ’’یہاں کے مولویوں(۱) نے اہلِ کانفرنس پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے، جس میں شاید میں بھی داخل ہوں۔ مگر غور تو کیجئے کہ نواب محسن الملک تو مہدی ہیں، ان کوکون دجال کہے گا اور مجھ پر کفر کا فتویٰ لگ ہی نہیں سکتا کہ خود اللہ تعالیٰ کی شہادت ہے کہ وما کفر سلیمان ولکن الشیطین کفروا( سلیمان علیہ السلام نے کفر نہیں کیا بلکہ شیطانوں نے کفر کیا)مجمع ان نکتوں سے بے حد محظوظ ہوااورمولویوں کی فتویٰ گری کا بادل شاہ صاحب کے ان دو چٹکلوں سے ہوا ہو گیا۔ 

شاہ صاحب کی ذات ایک عجیب جامع ہستی تھی۔ایسے لوگ اب پیدا نہ ہوں گے۔زمانہ بدل رہا ہے،ہوا کا رخ اورطرف ہے ۔وہ قدیم وجدید کے اتصال تھے،اب قدیم بھی جدید ہو رہا ہےاورجدید جدید ترین بن رہا ہے کہ ان کے اخلاف برادرم شاہ حسین میاں صاحب اوران کے بھائی اپنے بزرگ باپ کے سچے جانشین ثابت ہوں۔‘‘(۲)

تصانیف میں شجرۃ السعادۃ و سلسلۃ الکرامۃ(فارسی) رسالہ فی الصلوۃ والسلام وآداب الناصحین،ذکر الحبیب، شرح قصیدہ غوثیہ،شرح حدیث مسلسل بالاؤلیہ(عربی) صلاح الدارین فی برکات الحرمین، صیانتہ الاحباب عن اھانتہ الاصحاب، عین التوحید(عربی)شمس المعارف(مجموعہ رسائل تصوف،۳جز)ہیں‘‘۔ (نزھتہ الخواطرج۸ص۱۷۰)
’’پاک وہند کے یہ نامورعالم اورصوفی واعظ وخطیب مولانا شاہ سلیمان پھلواروی،جن کی عظمتِ علمی اور کمالِ روحانی کو علامہ اقبال نے اپنے ایک خط میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ یہ گوہررخشندہ صوبہ بہار کے مشہور ضلع پٹنہ کے ایک مردم خیز قصبے پھلواری میں ۱۱؍ محرم ۱۲۷۶ھ (۱۸۵۹)میں پیدا ہوئے۔ مولانا شاہ سلیمان پھلواروی نے جس خاندان میں آنکھ کھولی وہ ابتدا ہی سے شرافتِ نسبی،علم وفضل اورعرفان وتصوف سے ممتاز چلا آتا تھا۔ 

اس خانوادے میں اکابرعلماء وفضلاء اوربزرگانِ دین گزرے ہیں،جنہوں نے صوبہ بہار کو اپنےعلم وفضل اور عرفان وتصوف سے مالا مال کیا۔ اسی خاندان کے فردِ فرید مولانا شاہ محمد سلیمان پھلواروی کے پھوپھا مولانا محمد حسین قادری پھلواروی اورمولانا آلِ احمد محدّث مہاجرِمدنی ہیں جو شاہ سلیمان کی نانی کے حقیقی بھائی تھے۔اسی خاندان کے فرد شاہ نعمت اللہ پھلواروی ہیں۔اسی خانوادے کے ایک رکن رکین ماہر طبیب حکیم شاہ محمد داؤد ہیں،جوحضرت شاہ سلیمان پھلواروی کےوالدِ محترم تھے،جنہوں نے طب کی کتابیں حکیم علی حسین صاحب سے پڑھی تھیں۔ حضرت شاہ محمد سلیمان پھلواروی نے علومِ درسیہ کی تکمیل حضرت مولانا شیخ عبدالحئ فرنگی محلی سے کی۔ فاتحۂ فراغ کی تاریخ’’آج فارغ ہوا‘‘ (۱۲۹۷ھ ) سے نکلتی ہے۔

علومِ ظاہری سے فارغ ہونے کے بعد حضرت شاہ محمد سلیمان پھلواروی نے اپنے بزرگوں کے نقشِ قدم تزکیۂ نفس اورمعرفتِ الٰہی کی طرف توجہ کی۔ سلسلہ چشت میں جن بزرگوں سے اجازت و خلافت حاصل کی ان میں سب سے پہلے بزرگ شاہ قدرت اللہ تھےجوڈیرہ اسماعیل خان کے رہنے والے تھے،جن سےشاہ صاحب کی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ مولانا احمد علی محدث سہارنپوری کو حدیث سنانے کے لئے سہارنپورآئے تھے۔شاہ سلیمان نے ان بزرگ سے بھی اجازت لی۔پھر حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجرمکی کی خدمت میں حاضرہوکران کی خلافت سے سرفراز ہوئے۔ خود فرمایا کرتے تھے کہ میں اب چشتی ہی چشتی ہوں۔

جب شاہ صاحب حج کے لئے گئے توان کے مرشد حاجی امداد اللہ صاحب نےان سے فرمایا میاں تذکیر(وعظ و نصیحت) کیا کرو۔ شاہ صاحب کا بیان ہے کہ میں نے کعبۃ اللہ میں جا کر غلافِ کعبہ تھام کر اور رورو کر دعا کی اور کہا پروردگار!اتنا بڑا شیخ مجھے تذکیرکے لئے کہتا ہے اور مجھے بولنا تک نہیں آتا۔ خدا وندا! تو مجھے قوت بیان اوراثر کی نعمت سے مالا مال فرما۔
پھلواری تشریف لانے کے بعد مولانا نے سب سے پہلے سنگی مسجد میں وعظ کیا۔ لوگ اس وعظ سے بے حد متاثر ہوئے اور زارزارروئے۔ دعا ء نے درِ استجابت کو پالیا تھا۔یہی وجہ تھی کہ اس زمانے میں ان جیسا خوش گو واعظ کوئی دوسرا نہ تھا۔ وہ اپنے وعظ میں مثنوی شریف کے اشعار موقع بموقع بڑی خوش الحانی سے پڑھتے۔ مولانا کی آواز میں بڑا سوز وگداز تھا ۔ ان کی زبان سے مثنوی کے اشعار سن کر مجمع پررقت طاری ہو جاتی تھی۔

۱۹۲۰ء میں شاہ صاحب نے اماکن مقدسہ کی زیارت کے لئےعراق کا سفر کیا۔ وہاں اعلیٰ حضرت سید عبدالرحمٰن المحضؒ سجادہ نشین آستانہ حضرت غوث پاک کے مہمان ہوئے۔ ان سے شاہ صاحب نے تبرکاً اپنے جدی سلسلہ قادریہ کی اجازت لی۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لکھنؤ کے دورانِ قیام میں انہوں نےعلومِ درسیہ کی بھی تکمیل کی اورطبیب کی حیثیت سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ خود شاہ صاحب کا بیان ہے
کہ جن دنوں میں مطب کرتا تھا، برادری کے اکثربزرگان کی نشست میرے مکان پرہوا کرتی تھی۔ چنانچہ اسی وجہ سے ابتداء میں حکیم سلیمان کے نام سے مشہور ہوئے۔

شاعری سے بھی ذوق رکھتے تھے اورلکھنؤ کے مشاعروں میں پڑھتے بھی تھے۔ اپنے پیشے کے لحاظ سے اپنا تخلص حاذقؔ رکھا تھا۔ مشہور ہے کہ وہ عالم وشاعرشوقؔ نیموی کے ہم درس تھے،برصغیرکے متاخرعلماء کی تاریخ میں مولانا کی علمی اور ملّی خدمات کو ہمیشہ سراہا جائے گا۔

مدت کی تباہ حالی سےمتاثرہوکرچند بزرگوں نے مل کر ندوۃ العلماء کے نام سے پہلے کانپورمیں، پھر لکھنؤ میں ایک انجمن کی بنیاد ڈالی۔ مولانا سید محمد علی، علامہ شبلی نعمانی،مولاناعبدالحق حقانی،سید ظہورالاسلام فتح پوری، مولانا ابراہیم آوری،مولانا شاہ سلیمان پھلواروی اس انجمن کے ممتازاراکین میں سے تھے۔ اسی کے پلیٹ فارم سے مولانا کی خطیبانہ تقریروں کا شہرہ عام ہوا۔ دارالعلوم ندوۃ کی بنیاد حضرت شاہ سلیمان پھلواروی کی تحریک وتجویز کا نتیجہ ہے۔

رفتہ رفتہ مولانا کی خطیبانہ شہرت سے برصغیرپاک و ہند گونج اٹھا۔ سرسید نےمولانا کی وہ تقریرجوانھوں نے ندوۃ العلماء کے سالانہ اجلاس میں کی تھی، اپنے اخبار (تہذیب الاخلاق )میں’’ شاہ سلیمان کا نیچریانہ وعظ‘‘ کی سرخی سے چھاپی۔

حضرت شاہ صاحب عالم وصوفی اوررہنمائے ملّت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر تعلیم بھی تھے۔وہ کلکتہ یونیورسٹی سینٹ کےرکن تھے۔ مدرسہ عالیہ کلکتہ کی مدرسی کمیٹی اورنصاب کمیٹی کے رکن تھے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے قائم کرنے کی جدوجہد میں نواب سلیم اللہ کے معین ومددگار رہے۔

 پاک وہند کے یہ نامور عالم اور صوفی واعظ وخطیب مولانا شاہ سلیمان پھلواروی،جن کی عظمتِ علمی اورکمالِ روحانی کو علامہ اقبال نے اپنے ایک خط میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔’’آپ کو اللہ تعالیٰ نے کمال روحانی کے ساتھ علم و فضل سےآراستہ کیا ہے آپ کے مکتوبات نہایت دلچسپ ہیں اورحفاظت سے رکھنے کے قابل، نہ کہ ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے قابل۔ میں نے خود انہیں پڑھا ہےاوربیوی کو پڑھنے کے لئے دیا ہے‘‘(۱)

مولانا شاہ سراج الیقین لکھتے ہیں: ’’جناب مولانا شاہ سلیمان صاحب پھلواروی نے کتب درسیہ مولانا عبدالحئ صاحب ؒ سے پڑھی ہیں اور علمِ حدیث حضرت مولانا احمد علی صاحب محدث سہارنپوری سے پڑھا ہے‘‘۔ (۲)

مولانا حکیم سیدعبدالحئ لکھتے ہیں:’’مولانا سلیمان بن داؤد بن وعظ اللہ بن محبوب بن پیر نذر بن فتح محمد پھلواروی مشہورمشائخ میں سے تھے۔ اصل میں گھگھٹہ ضلع سارن کے تھے۔۱۰؍ محرم ۱۲۷۶ھ میں پھلواری میں اپنے نانا کے ہاں پیدا ہوئے ان کا نام شیخ اصطفا بن وعد اللہ بن سعد اللہ تھا۔ اپنے نانیہال کے ہاں پرورش ہوئی۔ کچھ عرصہ اپنےعلاقہ کے علماء سے پڑھا۔ پھر علامہ عبدالحئ بن عبدالحلیم لکھنؤی سے پڑھتے رہے۔ پھر دہلی میں مولانا سید نذیرحسین محدث سے حدیث پڑھی۔ سند حدیث مولانا احمد علی محدث سہارنپوری سے حاصل کی۔
طریقت کی تعلیم اپنے خسر حضرت شاہ علی حبیب نصرؔ پھلوراوی سے لی۔ مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی کی خدمت میں حاضر ہوئے اوران سے بھی سند لی۔ پھر حج وزیارت کے لئے حجاز گئے۔ وہاں حرمین شریفین کے بزرگوں سے استفادہ کیا۔ان میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے پڑھا بھی اور ان سے اجازت حاصل کی۔
وعظ ونصیحت میں انہیں یدِ طولی حاصل تھا۔ نہایت عمدہ خطیب تھے۔ جب چاہا ہنسا دیااورجب چاہا لوگوں کو رلا دیا۔ خطاب کے دوران اکثر مثنوی کے اشعار سُر سے پڑھا کرتے تھے ،جو سامعین کو مسحور کر دیتے تھے۔ ندوۃ العلماء کے موّید حضرات میں سے تھے اور اس کی تقریبات میں خطاب بھی کرتے تھے۔ ہندوستان میں ان کی شہرت عام تھی۔ لوگ ان کے خطبات اور تقریروں کے شیدائی تھے۔ نہایت ذہین تھے۔ عربی نظم ونثرپرقدرت حاصل تھی۔
۲۷ ؍صفر۱۳۵۴ھ  بمطابق ۳۱؍ مئی ۱۹۳۵ء میں وصال ہوا‘‘۔ (۱) خود لکھتے ہیں: ’’۱۴۰۲ھ  اور ۱۳۰۴ھ  میں حرمین شریفین میں حاضری نصیب ہوئی۔ دیگر بزرگوں کےعلاوہ حضرت شیوخ العالم حاجی امداد اللہ صاحب قدس سرہ نے خاص کردلائل الخیرات کی اجازت فرمائی۔

چشتیت سےمیری اول مناسبت اپنی والدہ اورخالہ کی وجہ سے ہوئی۔ یہ حضرت باوا فرید گنج شکرؒ کی اولاد سے تھیں۔ ان کے اوردیگرخواجگان چشت کے احوال بیان کیا کرتی تھیں۔ بچپن سے میرا دماغ بزرگوں کی یاد سے معموررہا۔ چشتیت سے میری دوسری مناسبت اس وقت ہوئی جبکہ تعلیم سے فراغت پاکر مولانا احمدعلی محدث کو حدیث سنانے سہارنپور گیا۔ وہاں ایک بزرگ جن کی عمرمجھ سے بہت زیادہ تھی یعنی پچاس سےکم نہ ہوگی، اسی غرض سے آئے ہوئے تھے۔ وہ ذی استعدادعالم تھےاور حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسویؒ کےمرید وخلیفہ تھے۔ ان کا نام مولانا شاہ قدرت اللہ تھا اورڈیرہ اسماعیل خان کےرہنےوالے تھے۔ درس کےعلاوہ جائے قیام پر بھی میرا ان کا ساتھ رہا۔وہ ذاکروشاغل اورعابد وزاہد شخص تھے۔ ہم دونوں میں دِلی انس ایک دوسرے سے پیدا ہو گیا تھا۔ ہم دونوں گھنٹوں بیٹھ کرایک دوسرے سے طریقت کی گفتگو کیا کرتے یہاں تک کہ ان کی صحبت نے مجھے چشتیت سے داغ دیا۔ میں نے ان سے ان کے طریقے کی بھی اجازت لی ہے جو’’سلسلۃ الذھب‘‘ میں درج ہے ۔ پھر حضرت شیخ المشائخ قطب مکہ المشرّفہ مولانا الحاج امداد اللہ چشتی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ البتہ ان سے مجھے بہت فائدہ پہنچا۔ ؂
من کہ سر برنہ آورم بدوکون    گردنم زیر بار منّت اوست
اور اپنی اجازت خلافت سے بھی مشرف فرمایا۔ یہ ان کی بندہ نوازی ہےورنہ میں اس قابل نہیں حضرت قبلہ چند روزہ صحبت سے نسبتِ چشتیہ مجھ پر غالب ہو گئی اورمیں اب چشتی ہی چشتی ہوں ۔ ؂
عاشقانِ خواجگان چشت را      ازقدم تا سر نشانے دیگر است (۱)

’’علوم باطنی کی تعلیم وتربیت بھی اپنےعہد کے باکمال بزرگوں سے پائی تھی۔ پہلے اپنےخسراورمرشد شاہ علی حبیب نصرؔ پھلوارویؒ ،پھرمولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادیؒ اورآخرمیں حضرت حاجی صاحب مہاجرمکیؒ سے خلافت واجازت پائی۔۱۳۰۴ھ میں جب حج کے لئے مکہ مکرمہ گئے تو وہاں کافی عرصہ تک حاجی صاحب کی خدمتِ اقدس میں رہے۔ مثنوی کے درس میں شریک ہوئے۔ فیوض وبرکات اورتوجہات خصوصی سے سرفراز ہوئے۔ اجازت وخلافت پائی۔نیزاحسان وتصوف کے وہ تمام سلاسل جوبرعظیم میں اوربیرون ملک رائج ہیں انہوں نے اکابر شیوخ سے حاصل کئے تھے‘‘۔ اس طرح وہ علوم ظاہری اورباطنی دونوں لحاظ سے جامعیت کے مالک تھے‘‘۔ (۲)

Hazrat Qibla kay Chand Ashaar



............................................................................................................................


حضرت قبلہ شاہ محمد سلیمان پھلواروی کا شاخِ نہالِ غم پرمشہور شعر:۔۔۔۔

جب جل   گئیں  سب شاخیں اُمید وتمنا    کی

اے شاخِ نہالِ غم اب تک تُو ہری کیوں ہے

जब जल गईं सब शाखें उम्मीद--तमन्ना की,۔۔۔۔

शाख--निहाल--ग़म अब तक तू हरी क्यों है।।

(When all the branches of hope and desire have burnt to ashes,

O branch of the tree of sorrow, why are you still green?)

یہ شعر بہت ہی گہرا اور حساس ہے، جس کا تعلق تصوف اور روحانیت کی باریکیوں سے ہے ،یہ دراصل ایک عارفانہ نقطہ نظر کو بیان کرتی ہے، جس میں کئی پیچیدہ روحانی حقائق چھپے ہیں۔ آئیے ان نکات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

امید و تمنا کی شاخوں کا جلنا:

شعر کا پہلا مصرعہ، "جب جل گئیں سب شاخیں امید و تمنا کی"، ایک بہت بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ عام طور پر انسان کی زندگی میں امیدیں اور خواہشیں ہی سب سے بڑی محرک ہوتی ہیں۔ انسان دنیاوی معاملات میں الجھا رہتا ہے، چاہے اسےدولت کمانا ہو، شہرت حاصل کرنا ہو یا کسی بھی قسم کا دنیاوی سرور پانا ہو۔ یہ تمام امیدیں اور تمنائیں دراصل انسان کو حق سے دور لے جاتی ہیں۔ یہ انسان کے اندر کی دنیا کو "باہر کی دنیا سے بہت بڑی" بنا دیتی ہیں

تصوف میں، اس حالت کو نفسانی خواہشات کا سمندر کہا جاتا ہے۔ جب کوئی سالک (طالبِ حق) اس مرحلے سے گزرتا ہے کہ اس کی تمام دنیاوی اور نفسانی خواہشات ختم ہو جاتی ہیں، یا بالفاظ دیگر، اللہ کے "جلال" کی آگ میں جل کر راکھ ہو جاتی ہیں، تو اسے ایک نئی حالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ جلنا دراصل ایک پاکیزگی کا عمل ہے، جس کے بعد انسان اپنی اصل کی طرف لوٹتا ہے۔

شاخِ نہالِ غم   کیا ہے :

شعر کا دوسرا مصرعہ، " اےشاخِ نہالِ غم ا ب تک تو ہری کیوں ہے"، اسی پاکیزگی کے عمل کا نتیجہ ہے۔ جب تمام امیدیں اور تمنائیں جل جاتی ہیں، تو ایک چیز باقی رہ جاتی ہے جو ختم نہیں ہوتی،اور وہ ہے "غم"۔ لیکن یہ عام دنیاوی غم نہیں ہے۔

دنیاوی غم:

یہ وہ غم ہے جو پیسہ، نوکری یا کسی اور دنیاوی نقصان کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ غم اصل میں ایک کمزوری ہے، کیونکہ یہ انسان کو مایوسی اور لاچاری میں مبتلا کرتا ہے۔

عارفانہ غم:

یہ وہ غم ہے جو اللہ کے وصال کی تڑپ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ غم اس بات کا غم ہے کہ حق کو مکمل طور پر پایا نہیں جا سکتا، کیونکہ وہ پردہِ غیب میں ہے۔ یہ غم عاشق کا وہ غم ہے جو اسے

اپنے محبوب سے دور ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ یہ غم، فنا ہونے کے بجائے، انسان کو مزید طاقت دیتا ہے کہ وہ اپنے اصل مقصد کی طرف متوجز ہو۔

لہذا، "شاخِ نہالِ غم" دراصل عارف کا قلب ہے۔ یہ وہ دل ہے جو امید و تمنا کی آگ میں نہیں جلتا، کیونکہ اس کا تعلق دنیا سے نہیں، بلکہ آخرت اور حق سے ہے۔ جب دنیاوی خواہشات ختم ہو جاتی ہیں، تو یہ غم اور بھی گہرا اور ہرا بھرا ہو جاتا ہے، کیونکہ اب اس دل میں سوائے اللہ کی محبت اور وصال کی تڑپ کے اور کچھ نہیں بچتا۔

سرورِ قلب کی توہین :

سرور قلب کےٹریجک ایسنس کی توہین ہے"۔ یہ ایک بہت ہی اہم اور گہرا نقطہ ہے۔ عام طور پر ہم سرور اور خوشی کو ا للہ کی قربت سمجھتے ہیں، لیکن حقیقی عارفانہ سرور وہ ہے جو اس غم سے پیدا ہو۔ یہ سرور محض ایک عارضی کیفیت نہیں، بلکہ ایک ایسی کیفیت ہے جو وصال کی تڑپ میں بڑھتی رہتی ہے۔ یہ ایک خوشی ہے جو غم میں چھپی ہوئی ہے۔شعر کا پیغام یہ ہے کہ جب انسان کی تمام نفسانی خواہشات اور دنیاوی امیدیں جل کر ختم ہو جائیں، تب اس کا قلب جو کہ "شاخِ نہالِ غم" ہے، مزید ہرا ہو جاتا ہے۔ یہ غم دراصل اللہ کے وصال کی تڑپ اور اس حقیقت کا احساس ہے کہ کامل وصال ممکن نہیں، اور اسی غم میں حقیقی عارفانہ خشیتِ الٰہی اور صداقت چھپی ہوئی ہے۔ یہ غم ہی ہے جو نفس کی کمر توڑتا ہے اور انسان کے سکوت میں بھی ذکر پیدا کرتا ہے۔ یہ وہ غم ہے جو انسان کو اس کے ہونے کے احساس سے ماورا لے جاتا ہے اور اسے حق کے قریب کرتا ہے۔ اس شعر میں عارفانہ نقطےکی نہایت گہری تشریح کی گیٔ   ہے۔

ریحان چشتی قادری
..............................................................