Friday, 7 November 2025

Hazrat Qibla Maulana Shah Sulaiman Phulwarvi by Allama Syed Sulaiman Nadvi

 مولانا سید سلیمان ندوی

شمس المشائخ حضرت مولانا شاہ سید سلیمان صاحب پھلوارویؒ 


ہندوستان کے مشہور پُرانے عالم وواعظ و خطیب مولانا شاہ سلیمان صاحب قادری چشتی پھلواروی نے جن کے نغموں نے ہمارے ملک کے پورے طول وعرض کو کم از کم نصف صدی تک پر شور رکھا تھا، وفات پائی، ۲۷؍ صفر ۱۳۵۴ھ کی تاریخ، جمعہ کا دن اور صبح ۷بجے کا وقت تھا کہ یہ طوطیٔ خوشنوا، ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا۔ پھلواریؔ صوبہ بہارؔ میں عظیم آباد پٹنہ سے ملحق ایک مردم خیز مشہور قصبہ ہے، جہاں ڈیڑھ سو برس کے عرصہ میں بہت سے باکمال اہل علم، علماء و صلحاء، مشائخ اور شعراء پیدا ہوئے،مرحوم بھی یہیں کے رہنے والے، اور یہاں کے بزرگوں کے مستند و معتبر خانوادہ کے چشم و چراغ تھے، ستتر اٹھتر برس کی عمر پائی، غالباً ۱۲۷۶ھ میں پیدا ہوئے۔

مرحوم کی جوانی کے عہد میں تین باکمالوں کے درس کی مسندیں ہندوستان میں بچھی تھیں فرنگی محل لکھنؤؔ میں مولانا عبدالحئی صاحب، سہارن پور میں مولانا احمد علی صاحب اور دلّی میں مولانا سید نذیر حسین صاحب کی، شاہ صاحب مرحوم نے فیض کے ان تینوں سر چشموں سے فائدہ اُٹھایا۔ پہلے فرنگی محل آئے، اور یہاں سے فارغ ہو کر سہارن پور اور دہلی گئے،دلّی کے قیام کا زمانہ جس کو ان کی تعلیم کا آخری عہد کہنا چاہئے۔ ۱۲۹۷ ھ مطابق ۱۸۸۰ء  ہے۔

لکھنؤ کے قیام میں درسیات کے ختم کرنے کے بعد انہوں نے طب پڑھی، اور اسی طبیب کی حیثیت سے انہوں نے دنیا میں اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ چنانچہ شروع میں حکیم محمد سلیمانؔ کہلائے، اور اسی کا اثر تھا کہ شاعری میں جس کا چسکا ان کو بچپن سے تھا، اور لکھنؤ کی صحبت میں جس کا چٹخارا اور بڑھ گیا تھا اپنا تخلص حاذق ؔرکھا تھا، وہ زیادہ تر اُردو اور عربی میں اور کمتر فارسی میں شعر کہتے تھے۔ اور لکھنؤ کے مشاعروں میں پڑھے بھی تھے۔ صوبہ بہار کے مشہور عالم شاعر شوقؔ نیموی ان کے ہمدرس و ہم صحبت و ہم استاد تھے، شاہ صاحب مرحوم کی زبان سے ان کے اس عہد کے ایک دو شعر سنے تھے،

اس عہد کے نوجوان علماء نے جو زمانہ کے انقلاب سے متاثر اور قوم و ملّت کی تباہ حالی کے درد سے بیتاب ہو کر روش زمانہ کے مطابق کچھ کام کرنا چاہتے تھے، ندوۃ العلماء کے نام سے پہلے کانپور میں اور پھر لکھنؤ میں ایک انجمن کی بنیاد ڈالی، مولانا سید محمد علی صاحب، مولانا شبلی صاحب، مولانا عبدالحق صاحب حقانی، مولانا ظہور الاسلامؔ صاحب فتح پوری، مولانا ابراہیم صاحب آروی، مولانا شاہ سلیمان صاحب پھلواروی وغیرہ اس جماعت کے ممتاز ارکان تھے۔ اسی انجمن کا پلیٹ فارم تھا۔ جس میں شاہ صاحب مرحوم کی خطیبانہ قوتِ بیان و تسخیر قلوب کا شہرہ عام ہوا۔ ندوۃ العلماء کا کانپورؔ سے لکھنؤ آنا اور وہاں دارالعلوم کی بنیاد پڑنا بھی شاہ صاحب ہی کی تحریک و تجویز کا نتیجہ ہے، ورنہ وہ کھینچ کرکب کا دہلی پہنچا ہوتا۔

ندوہ کی مجلسوں سے مرحوم کی خوش بیانیوں کی داستان اُڑ کر ملک کی انجمنوں اور مجلسوں اور کانفرنسوں میں عام ہوئی۔ سر سید مرحوم نے شاہ صاحب مرحوم کی وہ تقریر جو انہوں نے ندوہؔ کے ایک جلسہ سالانہ میں کی تھی، اپنے اخبار میں’’ شاہ سلیمان کا نیچریانہ وعظ‘‘ کی سرخی سے چھاپی، سر سیّد کے بعد نواب محسن الملک مرحوم نے ان کو اپنی محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس میں شریک کیا۔ جنہوں نے ان دنوں’’نیچری مسلمانوں‘‘ کو بھی مسحور کیا، رنگونؔ وغیرہ میں نواب صاحب کے ساتھ شاہ صاحب بھی کانفرنس کے کاموں میں شریک تھے، اور صاحبزادہ آفتاب احمد خاں کے زمانہ تک شریک رہے۔

مرحوم وسیع النظر عالم، بذلہ سنج ادیب، خوش بیان خطیب، پر اثر واعظ، موقع شناس مقرر اور بڑے بڑے بزرگوں کے حلقوں کے فیضیاب صوفی تھے، ان کو تاریخ کا شوق اور عربی نظم و نثر کا اچھا ذوق تھا۔ اچھے کتب خانوں اور کتابوں کی تلاش رہتی تھی۔ اور اس حیثیت سے وہ اپنے ہمعصروں میں پورا امتیاز رکھتے تھے۔ وہ مذہب کے لحاظ سے وسیع المشرب تھے، وہ سب کچھ تھے، اور سب کے ساتھ تھے:

باما شراب خورد، دوبہ زاہد نماز کرد

( ایک شخص نے ہمارے ساتھ شراب پی، اور (پھر وہی) زاہد نے دو بار نماز پڑھی۔")

تاہم دو باتوں میں وہ نہایت سخت تھے، ایک تو اعتزال کے خیالوں سے بہت برہم ہوتے تھے، اور دوسر ے حضرت علیٰ مرتضیٰ اور اہلبیت کرام رضی اللہ عنہم کی محبت و تعظیم میں بیحد غلو فرماتے تھے، اور اس راہ میں جب جوش میں آتے تھے، تو بڑوں بڑوں پر ہاتھ صاف کردیتے تھے، اس قسم کے ان کے دوستانہ مناظروں کے کئی منظر میں نے اپنی طالب علمی میں دیکھے ہیں۔

ان کا خاندان صوفیہ کا مجمع تھا، تصوف کے گودوں میں پیدا ہوئے، پرورش پائی اور پروان چڑھے، اور عمر بھر اسی رنگ میں رہے۔ اور یہی رنگ ان پر غالب تھا، قادری بھی تھے اور چشتی بھی تھے۔ جہاں اپنے گھر سے فیض پایا تھا، حاجی شاہ امداد اللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے بھی نسبت رکھتے تھے، پنجابؔ، مدراس، شمالی بہار، اور صوبہائے متحدہؔ میں ان کے مریدوں کی بڑی تعداد تھی۔

ان کے وعظوں میں عجب اثر تھا، کبھی رلاتے اور کبھی ہنساتے تھے، ان کے سنجیدہ چٹکلے اور ظریفانہ نکتے لوگوں کو بیحد محظوظ کرتے تھے، ان کی آواز بہت سُریلی اور موثر تھی، ان کالحن نہایت دلپذیر تھا، مثنوی خاص انداز سے پڑھتے تھے، کہ سننے والے جھوم جھوم جاتے تھے، ان کے وعظوں سے ہر خیال اور ہر قماش کے لوگ یکساں دلچسپی رکھتے تھے۔ جاہل، عالم، مولوی،مشائخ، دڑھ منڈے اور بزرگ ریش، نئے پرانے تعلیم یافتہ اور اہل علم سب لذت اندوز ہوتے تھے۔

میرے ساتھ مرحوم کے گوناگوں تعلقات تھے، مجھے اپنے عزیز سے کم نہیں سمجھتے تھے، میرے والد مرحوم ان کے ہم پیر، اور ان کے خسر کے مسترشد تھے، میرے بھائی مرحوم طبؔ میں ان کے شاگرد تھے۔ میں نے بچپن میں پھلواریؔ کے قیام کے زمانہ میں اُن سے ابتدائی منطق کے دو چار سبق پڑھے تھے، وہ جب ۱۹۰۲ء میں ندوہ کے معتمد تعلیمات منتخب ہوئے تھے۔ اور مستقل قیام ندوہؔ میں اختیار فرمایا تھا تو ان کی بزرگانہ عنایات اور حوصلہ افزائیوں نے میری علمی ترقیوں میں مدد دی۔ شاہ صاحب نے مجھے اور میرے ہمدرس مولانا ظہورؔ احمد صاحب وحشی شاہ جہاں پوری کو امتحاناً پیش فرمایا تھا۔ میں نے نواب صاحب کے خیر مقدم میں عربی میں ایک قصیدہ لکھا تھا۔ شاہ صاحب نے یہ کہہ کر مجھے پیش کیا کہ یہ میرے عزیز ہیں اور آپ کو اپنا قصیدہ سنائیں گے، نواب صاحب نے مزاحاً فرمایا کہ یہ جب آپ کے عزیز ہیں تو میں ان کا امتحان نہیں لوں گا۔ کہ امتحان سے پہلے ہی ان پر ایمان لا چکا۔ شاہ صاحب نے فرمایا یہ میرے ہم نام بھی ہیں تو اور بھی یہ امتحان سے بالا تر ہیں۔

میں نے اپنا قصیدہ پڑھا جو افسوس ہے کہ اب موجود نہیں، تو نواب صاحب نے فرمایا۔ کہ میں تو اس پرانی ادب دانی کا قائل نہیں۔ عربی کا کوئی اخبار منگوائیے، اس کو یہ پڑھیں تو البتہ اس زمانہ میں اللواء اور المویدؔ عربی کے مشہور اخبار تھے، وہ منگوائے گئے، اور میں نے اُن کو پڑھا اور صحیح ترجمہ کیا۔ تو بیحد خوش ہوئے، شاہ صاحب بھی بیحد محظوظ ہوئے،اور اس زمانہ کے اخبارات،وکیلؔ،وطن، اور کرزن گزٹ میں نواب صاحب کے اس معائنہ کی جو کیفیت چھپوائی، اس میں میرا ذکر خاص طور سے فرمایا۔ یہ اخبارات میں میرا پہلا ذکر تھا، ان کی اس تحریر میں ایک فقرہ یہ بھی تھا کہ ’’ملک و ملت کی خدمت کے لئے ان شاء اللہ صوبہ بہار ہر دور میں ایک سلیمان پیش کرتا رہے گا‘‘۔رحمہ اللہ،۔

بات میں بات یاد آتی ہے، ندوہ کے ایک جلسہ میں جو لکھنؤ میں غالباً ۱۹۱۵ء؁ میں تھا، چار سلیمان جمع ہو گئے تھے، قاضی محمد سلیمان منصور پوری مصنف رحمتہ اللعالمینؔ، مولانا سلیمان اشرف صاحب بہاری(استاذ دینیات مسلم یونیورسٹی) مولانا شاہ سلیمانؔ صاحب پھلواروی، اور خاکسار سلیمانؔ، شاہ صاحب نے فرمایا کہ آج کل کئی کئی سلیمان پیدا ہو گئے ہیں، لیکن ان میں سلیمانؒ بن دائود میں ہوں۔ع

پریاں نئی نئی ہیں سلیمان نئے نئے

(شاہ صاحب کے والد ماجد کا نام داؤد تھا، اور اسی لئے ان کی مہر میں وورِثَ سلیمان داؤداً، کندہ تھا) مجمع بے اختیار ہنس پڑا۔

پھر فرمایا’’پہلے سلیمان فرد تھا(۱) ذو معینین ہے، فرد ایک بمعنی شعر فرد، دوسرا بمعنی یگانہ)اور اب رباعی ہے، چار چار سلیمان یکجا ہیں۔‘‘ افسوس کہ یہ رباعی قاضی سلیمانؔ کی وفات سے چند سال گزرے کہ مثلّت بن چکی تھی، اور اب ۲۷؍ صفر کو قطعہ ہو گئی، اب اس رباعی کے صرف دو مصرے باقی ہیں خدا جانے یہ بھی کب اس صفحۂ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جائیں گے۔واللہ ھو الباقی۔

شاہ صاحب کے چٹکلے اور تقریری دلآویز نکتے اس قدر ہیں کہ ان کو کوئی جمع کرے تو رسالہ بن جائے۔ رنگون میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا جلسہ تھا، مولویوں نے کانفرنس والوں پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔ شاہ صاحب بھی نواب محسن الملک مرحوم کے ساتھ اس جلسہ میں گئے تھے، تقریر کرنے کھڑے ہوئے۔ تو فرمایا ، یہاں کے مولویوں نے اہل کانفرنس پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے، جس میں شاید میں بھی داخل ہوں مگر غور تو کیجئے کہ نواب محسن الملک تو مہدی ہیں (نام مہدی علی تھا) ان کوکون مسلمان دجال کہے گا۔ اور مجھ پر تو کفر کا فتویٰ لگ ہی نہیں سکتا، کہ خود اللہ تعالیٰ کی شہادت ہے۔ وَ ما کَفَرَ سُلَیْمانُ وَ لکِنَّ الشَّیاطینَ کَفَرُوا (سلیمان علیہ السلام نے کفر نہیں کیا بلکہ شیطانوں نے کفر کیا) مجمع ان نکتوں سے بیحد محظوظ ہوا، اور مولویوں کی فتویٰ گری کا بادل شاہ صاحب کے ان دو چٹکلوں سے ہوا ہو گیا۔

پورے پچاس برس تک ہندوستان کا گوشہ گوشہ ان کے پر کیف و پر اثر خطبوں سے معمور رہا ہے۔ جس جلسہ میں وہ ہوتے تھے،ان کے سوا ہر آواز ماند پڑ جاتی تھی، جلسہ کے اہم موقعوں پر ان کی طوطی گفتاری بڑی بڑی پیچیدگیوں کو حل کردیتی تھی، شاید ۱۹۰۰ء میں ندوہؔ کا عظیم الشان اجلاس پٹنہ میں تھا۔ شرکاء میں ملک کی مشہور ممتاز ارباب عمائم ایک طرف اور اس عہد کے مشہور تعلیم یافتگان جدید آنریبل جسٹس شرف الدین، سید علی امام، سید حسن امام۔ نصیر حسین بیرسٹر، شیخ(سر) عبدالقادر وغیرہ دوسری طرف شریک جلسہ تھے، یہ پہلا موقع تھا جس میں دستار بند اور ہیٹ پوش ایک جگہ مل بیٹھے تھے، اور ملک و ملّت کے درد کا درماں سوچ رہے تھے، حسنؔ امام صاحب کی تقریر کے ایک بے محل فقرہ پر علماء میں برہمی پیدا ہوئی، شاہ صاحب فوراً کھڑے ہو گئے، اور ایسی تقریر کی کہ سب دُھل گیا۔ فرمایا آج پہلا موقع ہے، کہ نئے اور پُرانے مل رہے ہیں، بدگمانیاں دور ہو رہی ہیں، پھر ایک دو فقروں کے بعد حافظ کا یہ شعر اس مزہ سے پڑھا کہ فریقین مسکرا کر رہ گئے۔

لللّٰہ الحمد میاں من واصلح فتاد حوریاں رقصِ کناں نعرئہ مستانہ زدند

  (اللہ کا شکر ہے! میرے اور محبوب کے درمیان صلح ہو گئی / وصل نصیب ہو گیا۔ حوروں نے رقص کرتے ہوئے مستانہ نعرے لگائے۔")

ندوہؔ کے اسی اجلاس میں نصیر حسینؔ صاحب بیرسٹر پٹنہ نے جواب صوفی صافی ہو چکے ہیں، ایک نہایت پر جوش و پر اثر تقریر کی تھی، اثر یہ تھا کہ صدر سے لے کر پائیں تک جو تھا رورہا تھا، بڑے بڑے عمامہ والوں اور ہیٹ پوشوں کو میں نے خود دیکھا(میری عمر اس وقت ۱۵۔۱۶ برس کی ہوگی) کہ وہ ڈھاریںمار مار کر رو رہے تھے، شاہ صاحب کی موقع شناسی ملاحظہ ہو۔ اسی عالم میں لوہا گرم تھا،  چندہ کی تحریک شروع کردی۔ نصیر حسینؔ صاحب نے اپنا کوٹ اور ویسٹ کوٹ اور جو کچھ ان جیبوں میں تھا، مع گھڑی کے ندوہ کی نظر کردیا۔ اسی حالت میں شاہ صاحب نے بر محل ایک شعر اپنی مخصوص لے میں ایسا پڑھا کہ سارے مجمع میں جادوکر گیا۔ مجھے صرف ایک مصرع یاد ہے۔ع

اے خوشا وقتیکہ من عریاں شوم (جسم گلزارم سراپا جاں شوم)

(ترجمہ:"وہ وقت کتنا اچھا ہوگا جب میں (دنیاوی پردوں سے) آزاد ہو جاؤں، اور میرا (یہ) جسم مکمل طور پر روح بن جائے (خالص روحانی وجود میں بدل جائے)۔"

یہ عالم ہو گیا کہ ہر طرف سے روپے کپڑے، گھڑیاں اور زیورات برسنے لگے۔ علماء نے جبے اور دستاریں اُتار اُتار کر نذر کردیں، یاد آیا کہ ایک بزرگ اس میں حضرت شاہ امداد اللہ صاحب مہاجر مکی کے خلیفہ تھے۔ اُن کے سر پر پیر کی دستار تھی، جوش میں آکر وہ بھی انہوں نے اُتار ڈالی وہ دستار جلسہ میں نیلام ہوئی، اور جناب مولانا حبیب الرحمن شروانی جیسے قدر شناس کی قسمت میں آئی۔ بات کہاں سے کہاں نکلی۔ع

لذیذ بود حکایت وراز تر گفتم

(کہانی مزے دار تھی، اور میں نے تمہارا راز بھی بتا دیا۔)

معلوم نہیں کہ عہد ماضی کی یہ کہانیاں حال کے ناظرین کو بھی لذیذ معلوم ہوں یا نہ ہوں، اس لئے اپنے مزہ کے لئے ان کو بے مزہ کرنا مناسب نہیں، شاہ صاحب کی ذات ایک جامع ہستی تھی۔ ایسے لوگ اب پیدا نہ ہوں گے زمانہ بدل رہا ہے، ہوا کا رخ اور طرف ہے، وہ قدیم و جدید کے درمیان حلقۂ اتصال تھے، اب قدیم بھی جدید ہو رہا ہے، اور جدید جدید ترین بن رہا ہے، دعاء ہے کہ ان کے اخلاف برادرم شاہ حسین میاں صاحب اور ان کے بھائی اپنے بزرگ باپ کے سچے جانشین ثابت ہوں۔

(نقل ازخاتمِ سلیمانی)                                                                      (معارف ۔ ماہ جولائی ۱۹۳۵ء)




 


Friday, 26 September 2025

Shah Muhammad Raihan Chishti Qadri

 

عکس شاہ  محمد ریحان چشتی قادری

ادب کا انمول خزانہ 

       ریحان شاہ ایک معروف شاعر، مصنف، اور صحافی ہیں، جو اردو زبان کے لیے اپنی زندگی بھر کی لگن کے لیے جانے جاتے  ہیں۔اپنی بےپناہ تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے انہوں نے تخلیقی ادب، صحافت، اور معاشرے کے لیے انمول اور دیرپا خدمات انجام دی ہیں۔

ادب اور زبان کے لیے خدمات:

   ریحان شاہ کا اردو سے گہرا تعلق ان کے وسیع  کام سے ظاہر ہوتا ہے، جس میں ان کی اپنی شاعری اور اہم تالیفات شامل ہیں۔ ان کی تصنیف کردہ  کتابوں میں شامل ہیں۔

   شعری مجموعہ:     صحراصحرا 

نسب نامہ:          خاندانی شجرہ نسب پرمبنی ایک کتاب۔
گلدستۂ سلیمانیہ: مختلف شخصیات پر مبنی  مضامین کا مجموعہ   

 اپنی تحریروں کے علاوہ، ریحان شاہ ادارت اور تالیف کے شعبے میں ایک اہم شخصیت ہیں، جنہوں نے مختلف موضوعات پر 25 سے زیادہ کتابیں مرتب کی ہیں۔ انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ تحریر، ادارت اور ترجمہ اور کراچی میں فاران پبلیکیشنز کے لیے بھی اہم خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے متنوع کام میں اسلامی   (فقہ) پر ترجمہ شدہ مضامین کا ایک مجموعہ بھی شامل ہے، جو ان کی ہمہ گیریت اور فکری گہرائی کو اجاگر کرتا ہے۔

کمیونٹی اور سماجی خدمات:

          ریحان شاہ نے مختلف کمیونٹی اور سماجی تنظیموں میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے، جو سماجی بہبود کے لیے ان کے عزم  کا   مظاہرہ ہے۔ 1989 سے، وہ کوآپریٹو تحریک میں سرگرم ہیں اور فی الحال کراچی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز یونین لمیٹڈ کے ڈائریکٹر اور فاران کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ کے اعزازی سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ کراچی میں سید علی اکبر میموریل ٹرسٹ کے منیجنگ ٹرسٹی بھی ہیں۔

اہم اداروں کے بانی:  

سید علی اکبر لائبریری اینڈ ریسرچ سینٹر، کراچی

بزمِ ادب    (ادبی سوسائٹی)

حلقہ ِ یاراں   (کلب)

          سن چوراسی سے ستاسی تک، انہوں نے کراچی میں عمران ڈائجسٹ کے سب ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ریحان شاہ کا تعلق ایک معزز اور صوفی گھرانے سے ہے، جس کی تاریخ برصغیر کی تحریک جنگِ آزادی اور پاکستان کی تخلیق سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔


Cooperation in Cooperatives, Page...24
Poet Digital Directory, Published at Calcutta, India, Page...221

ریحان شاہ کے چند اشعار کی تصویری جھلکیاں




























  مرتبہ :شجاع الدین مصباح



Tuesday, 23 September 2025

Sheema Salman Chishti

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

میں نے پاکستان بنتے دیکھا

        زندگی اپنی جو اِس رنگ سے گذری غالبؔ …

جانے کیا سوچ کر میں نے قلم اُٹھایا ہے۔ اِس وقت میرے ذہن میں ماضی ریشم کے کپڑے کی مانند آہستہ آہستہ رینگ رہا ہے۔ بس یہ جی چاہا کچھ لکھوں۔

        ہاں تو بھئی جیسے سب بچے اپنے والدین کے ساتھ کہیں نہ کہیں رہتے ہیں کسی نہ کسی گھر میں رہتے ہیں ہم لوگ بھی ریاست کپور تھلہ میں رہ رہے تھے۔ والد وہاں کی شاہی مسجد میں خطیب تھے۔ ننیھال میری قنوّج میں تھی اورو ہاں ہم لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ مگر ایک بار ایسی مشرقی پنجاب کپور تھلے گئی کہ دوبارہ قنوج جانا نصیب ہی نہ ہوا۔ 1947 ء جب آخری بار قنوّج سے واپس آئی تو کپور تھلے میں بھی رہنا نصیب نہ ہوا۔ اور ایک ماہ میں ہی ہجرت کرنا پڑی۔کپور تھلے کی یادیں آج بھی سینے میں ویسے ہی پنہاں ہیں جیسے اپنے پیارے وطن قنوج کی۔ ہجرت کی کہانی کیونکہ کپور تھلے سے شروع ہوئی۔ لہذا وہیں سے شروع کرتی ہوں۔

کپور تھلہ کی شاہی مسجد

ایرل ویو

میں، میرے والدین اور میری بہنیں سب ٹھاٹھ دار اور عزت دار زندکی گذار رہے تھے گھر میں کسی شئے کی کمی نہ تھی۔ بے حد سجا سجایا خوبصورت گھر۔ والد چونکہ شاہی مسجد کے خطیب تھے لہٰذا اُس شاندار مسجد کا بے حد لق ودق باغ بھی تھا ۔میں تصور میں اکثر وہاں کے عظیم الشان باغ میں تتلیاں پکڑتی رہتی ہوں اپنی پالتو بکری کو بھگا رہی ہوں یا اپنے گھر کے دروازے پر لگے امرود کے درختوں پر چڑھی امرود توڑ رہی ہوں، گرمیوں کی جلتی دوپہروںمیں گھر سے ذرا فاصلے پر فالسے کے جو درخت تھے اُن کے فالسے میں نے کبھی پکنے نہ دئیے۔ امرودوں کی وہ قطار جو ہمارے گھر کے سامنے تو تھی مگر ہماری نہ تھی۔ جب والد صاحب نے یہ دیکھا کہ بچے توڑنے سے باز نہیں آتے تو انہوں نے کئی درخت خرید لئے۔ پھر تو ہمارے مزے ہو گئے تھے ہمارے گھر کے بائیں جانب ایک بالکل ’’منّا‘‘ سا کھیت تھا۔ جس میں ہمارے گھر کے لئے ہر قسم کی سبزیاں لگائی جاتی تھیں اور جو باغبانوں کے حصے میں بھی آتی تھیں۔ پچھواڑے پہلے ہری مرچوں کا کھیت تھا مختصر سا۔ اِس کے بعد دیوان صاحب کا آموں کا باغ تھا اور وہیں درختوں کے درمیان اُن کی بے حد شاندارکوٹھی تھی۔ کبھی کبھی دو چار ساتھی مل جاتے یا بڑی بہنیں اُکساتیں کہ جاؤ کچی کیریاں دو چار توڑ لاؤ۔ تو ہم تمھاری گڑیا کے اچھے اچھے کپڑے سی دیں گے۔ تو میں فوراً راضی ہو جاتی۔ آج بھی میرے کانوں میں وہاں کے مالی کی رعب دار آواز گونجا کرتی ہے جو وہ طوطوں اور دیگر پرندوں کو اڑانے کے لئے لگایا کرتا تھا۔

        کیا پرُسکون زمانہ تھا نہ کوئی فکر نہ کوئی غم بس ہنسنا کھیلنا سمجھتی تھی زندگی اِسی کا نام ہے۔ مجھے خاصہ ہوش تھا جب ہم اپنا پیارا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ہم لوگوں کو قنوج سے آئے ہوئے صرف ایک ڈیڑھ ماہ کا قلیل عرصہ ہوا تھا کہ اچانک ایک روز دوپہر کے وقت ہمارے والد کے ایک دوست کیپٹن ڈاکٹر عباس نے ایک آدمی کے ہاتھ ایک مختصر سا پرچہ لکھ کر بھیجا ’’ابھی اور اِسی وقت بال بچوں سمیت میرے پاس آجائیے شہر میں فسادات کا شدید خطرہ ہے‘‘۔اور پھر ہم بد نصیب ایسے گھر سے نکلے کہ دوبارہ گھر میں آنا نصیب نہ ہوا والدین نے سوچا دو چار دنوں میں جب حالات قدرے بہتر ہو جائیں گے تو پھر گھر لوٹ آئیں گے۔ مگر کرفیو لگ گیا۔ مجھے یاد ہے جب گھر سے چلنے لگے تو والدہ نے ایک دری اپنا پاندان ایک بیگ میں چند کپڑے اور زیور کے سوا کچھ نہ لیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی کوٹھی میں ہم لوگ آٹھ دس روز رہے۔ جب کرفیو کھلاتو ہمارے والد کے ساتھ ڈاکٹر صاحب نے دو محافظ ہمراہ کئے جن کے ساتھ ہمارے والد گھر آئے، اُف والد صاحب نے جو کچھ آ کر بتایا۔ وہ دل دہلانے کے لئے کافی تھا۔جب میں سپاہیوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوا تو سکھ ننگی تلواریں لئے گھر میں گھوم رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگے کیا لینے آئے ہو۔ میں نے کتابوں کی طرف اشارہ کیا یہ کتابیں لینا چاہتاہوں۔ غرض کہ دو بوریوں میں کتابیں بھریں سپاہیوں نے اُن سکھوں سے کچھ کہہ سن کر باورچی خانے میں رکھا ہوا آٹا چاول اور کچھ برتن بوری میں بھر لئے اور یہ تھا ہمارا  اثاثہ۔ہاں کچھ کپڑے بھی یاد ہیں جو والد صاحب نے اپنے گھر سے اجنبی بن کر سکھوں کی اجازت سے اُٹھائے تھے۔ پھر والد صاحب نے پالتوکبوتروں کو ڈھیر سا دانہ ڈالا۔ اور پھر اپنے بھرے ہوئے خوبصورت گھر پر آخری نظر ڈال کر تانگے پر سوار ہو گئے۔ مجھے تو آج بھی ایسا محسوس ہوتا ہے۔ جیسے ہمارا گھر ہمارا منتظر ہے۔ آج بھی چینی کے خوبصورت برتن قیمتی صوفے مسہریاں میز کرسیاں کھلونے اور ہر ہر چیز ویسے ہی سلیقے سے رکھی ہے آج بھی وہاں کی ہر چیز ہمیں پکار رہی ہے۔ ہمیں یاد کر رہی ہے۔ وہاں کے پھل پھُول۔ آہ کیا کیا یاد کروں کیا کیا بھولنے کی کوشش کروں کیپٹن عباس کے وہاں چند دن رہنے کے بعد ہم سب لوگ ایک بڑے قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے۔ اُس قافلے میں سوائے ریل ہوائی جہاز کے ہر سواری تھی حتیٰ کہ پیدل بھی لوگ سفر کررہے تھے۔ کیپٹن عباس کی سربراہی میں یہ عظیم الشان قافلہ روانہ ہوا ،ہاں یاد پڑتا ہے کہ راستے میں کیپٹن عباس پر دو تین بار قاتلانہ حملہ ہوا ایک بار چھُرا کھینچ کر مارا گیا جو شیشہ توڑتا ہوا دوسری جانب نکل گیا اور خدا نے اُن کو بچا لیا۔ دوسری بار ایک سکھ ایک بم کی پن نکالتا رہ گیا جو اتفاق سے نہ نکل سکی۔ راستے میں چند ایسے خوفناک مناظر دیکھے جو آج بھی لرزا دیتے ہیں قافلہ چیونٹی کی چال سے رواں دواں تھا ،ہر سواری میں لوگ ماچس کی تیلیوں کی طرح بھرے ہوئے تھے۔ ہمارے گھر سے ٹوٹل لوگ یہ تھے نانی، والد والدہ دو بڑی بہنیں پھر میں، مجھ سے چھوٹی دو بہنیں۔ہماری سب سے چھوٹی بہن پانچ ماہ کی تھی۔ مجھے تھوڑا بہت یاد ہے کہ بھوک پیاس سے دونوں چھوٹی بہنوں کا بُرا حال تھا۔ ٹرک میں لوگ ایسے ٹھُسے ہوئے تھے جیسے ماچس کی تیلیاں۔ اگر کسی کے پاس تھوڑا بہت کھانا پانی تھا بھی تو وہ رش کی اِس دھکم پیل میں نکالنے کی پوزیشن میں نہیں تھے غرضکہ چھوٹی بہن جب روتے روتے بے ہوش ہو گئی تو لوگوں نے والدہ سے کہا’’ اِسے یہاں پھینک دو۔ ویسے بھی یہ تو مر ہی جائے گی‘‘۔ مگر ماں کی ممتا نے اُسے مزید سینے سے لگا لیا۔ کہ جب تک اس کے دم میں دم ہے ایسا نہیں کروں گی مجھے یاد ہے میں کھڑکی سے منہ نکالے باہر دیکھ رہی تھی۔ کہ اچانک میری نظر سات آٹھ درختوں کے ایک جھنڈ پر پڑی جن کے سائے میں تین سکھ بیٹھے تھے۔ آئیے آپ کو بتاؤں کہ اُن میں سے دو سکھ کہاں بیٹھے تھے وہ ایک آدمی کی پیٹھ پر اطمینان سے بیٹھے تھے جو اوندھا پڑا تھا اور مر چکا تھا۔ اُس کی پیٹھ میں چمکتا ہوا خنجر گڑا تھا۔ تیسراسکھ وہیں کھڑا خونخوار نظروں سے اُس شہید کو دیکھ رہا تھا ،آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ یہ منظر دیکھ کر ننھّے سے دل پر کیا گذری ہو گی ذہن پر کیسا دھجکا لگا ہو گا پھر ایک میں ہی کیا جانے کتنوں نے یہ بھیانک منظر دیکھا ہوگا بہر حال قافلے والے ہزاروں وسوسے دلوں میں لئے سفر کرنے پر مجبور تھے۔ ہر قدم پر خوف، تھکان، ہر ایک کو اپنا اپنا گھر اُجڑنے کا غم۔ غرضکہ اپنے لُٹنے بکھر جانے کی داستان ہر چہرے پرعیاں تھی۔اب سوچتی ہوں تو ایک شعر ذہن میں آتا ہے۔

اندھیری رات، تھکی ہمتیں، کڑی منزل

سلامتی کی دعا مانگ    کارواں   کے لئے

بہر حال بھوکے پیاسے تھکے ہارے جیسے تیسے کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد ہم لوگ اپنے قافلے کے ساتھ جالندھر پہنچ گئے، اٹھارہ دن کیمپ میں کیسے گذرے۔ شدید گرمی میں بھی فوجیوں کی لمبی لمبی بیرکوں میں اندھا دھند لوگ ٹھنسے ہوئے تھے ،باہر جدھر نگاہ جاتی تھی لوگ ہی لوگ نظر آتے تھے ایک حشر کا ساسماں تھا۔ جالندھر کیمپ میں جس مسلمان سپاہی نے ہماری مدد کی تھی۔ اُس کا نام فضل الٰہی تھا اور وہ ہم لوگوں کے لئے اپنے نام کی طرح ثابت ہواشدید ترین گرمی لوگوںمیں کو ایک ایک لوٹے پانی کے لئے شدیدجدوجہد کرنا پڑتی ایسے میں اُس نے بڑی بڑی دو بالٹی پانی کا بندوبست کیا کہ آپ لوگ تھوڑے تھوڑے پانی سے غسل کر لیں تو ہم لوگ خوشی کے مارے رو دئیے۔ میں تو وہ دو جھلنگی چار پائیاں بھی نہیں بھولی جن کو اُس سپاہی نے مہیا کیا تھا کہ جب اندھیرا ہو جائے تو اِن چارپائیوں کو آڑ بنا کر اِن پر کوئی کپڑا ڈال کر آپ لوگ نہا لیں۔ پھر فوجی کینٹین سے کئی بار کھانے کا بندوبست کیا۔ وہ اللہ کا بندہ ملا کیسے تھا آئیے میں آپ کو بتاتی ہوں۔ ہوا یوں کہ میں تھوڑے سے پانی کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی تھی۔ کیمپ سے کچھ ہی فاصلے پر ملٹری کی بیرک تھی۔ وہاں نلکا نظر آیا مگر نلکا کھول کرسوائے مایوسی کے کچھ نہ ملا جس تڑپ اور لگن سے نلکے کی طرف بڑھی تھی۔ اُتنی ہی مایوسی ہوئی، میں نے بڑی بے چارگی سے چاروں طرف دیکھا اور پھر جانے کیا سوچ کر نلکاکی ٹوٹی گھمانے لگی۔ اِتنی دیر میں ایک آدمی بیرک کے برآمدے میں نظر آیا اُس نے میرے ہاتھ میں خالی برتن دیکھ کر پوچھا، ’’بیٹی پانی چاہئے اندر آ کر لے لو‘‘۔’’ نہیں میں اندر نہیں آؤں گی تم پانی میں زہر ملا دو گے‘‘ اُس نے میری بات سنی۔ پھر ایک مہربان سی ہنسی اُس کے ہونٹوں پر آگئی۔ ’’بیٹی ڈرو نہیں میں مسلمان ہوں مجھے یقین نہ آیا‘‘۔ ذہن میں سکھوں، ہندؤں کی درندگی بسی ہوئی تھی۔ میں نے کچھ سوچا اور پھر یوں گویا ہوئی ’’ٹھیک ہے آپ کلمہ پڑھ کر سنا دیں پھر میں پانی لے لوں گی‘‘ اُس نے غور سے میری طرف دیکھا میں اُس کی آنسوؤں سے بھری آنکھیں کبھی نہیں بھول سکتی۔ پھر بغیر ایک منٹ کی دیر کئے وہ روانی سے کلمہ پڑھنے لگا۔ اندر میں پھر بھی نہیں گئی۔ پانی کا برتن بلا تاخیر اُس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ پانی وہ جب اندر سے لے کر آیا تو میرے سر پر ہاتھ پھیر کر کہنے لگا۔ بیٹی اپنے والد کو میرے پاس مغرب کے بعد بھیج دینا مجھے اُن سے ملنا ہے اور پھر وہ فرشتہ رحمت بن کر ہماری مدد کرتا رہا۔ جو بھی اُس سے ہو سکا۔ کیمپ کا یہ حال تھا تا حدِ نگاہ سر ہی سر نظر آتے تھے۔ سامنے جو میدان تھا لوگ انتہائی مجبوری کی حالت میں اُس کو باتھ روم بنائے ہوئے تھے۔ نہ کوئی اُوٹ تھی نہ کوئی پردہ۔ اگرچہ باتھ روم بنے ہوئے ضرور تھے مگر فاصلہ زیادہ ہونے پر لڑکیوں کو وہاں جانے نہیں دیا جاتا تھا۔ مبادہ سکھ اور ہندو وہاں گھات میں ہوں۔ میرے کانوں میں وہ دردناک چیخیں آج بھی گونج رہی ہیں اُن بیکس لڑکیوں کی چیخیں جو ہندؤں اور سکھوں کی بے رحمی کا نشانہ بنتے گھسیٹی جاتی تھیں۔ اُس بے رحم دور میں ہندؤں اور سکھوں کی بے رحمی قابلِ دید تھی۔ ہندؤں اور سکھوں نے مل کر مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جس طرح عزتیں خراب کیں جس طرح اذیتیں دیں جس طرح گھروں کو آگ لگائی جس طرح اپنی کرپانوں تلواروں کی پیاس بجھانے کے لئے مسلمانوں کا قتلِ عام کیا وہ تاریخ میں تو لکھا ہی گیا تاریخ اُسے رقم کرے گی ہی۔دلوں پر بھی پتھر کی لکیر کی طرح رقم ہے اور جو واقعات دل پر رقم ہوجائیں وہ تو انمٹ ہوتے ہیں ہمیشہ کے لئے ایک نفسا نفسی کا عالم تھا۔اپنی یاداشت سے وہ موٹے چاول کیسے نکال دوں جو ایک فیملی نے باجی کو دئیے تھے کہ آپ لوگ کل سے بھوکے بیٹھے ہوئے ہیں یہ کچے چاول شاید آپ کے کچھ کام آسکیں۔ جن کا وزن آدھا کلو سے زیادہ نہیں تھا۔ کیمپ میں کئی لوگ کھانا پکا رہے تھے ایک فیملی جب پکا چکی توہماری والدہ نے اُن کے جلتے بجھتے چولھے پر وہ چاول چڑھا دئیے۔ جیسے تیسے کر کے آخر وہ پک ہی گئے نمک پاس تھا جو چاولوں پر ڈال دیا گیا مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں وہ چاول کھا رہی تھی تو رو رہی تھی کیونکہ ایسا کھانا پہلے کبھی کھانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ حلق سے وہ موٹے چاول اُترنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ والدہ اور بڑی بہنوں کی ڈانٹ بھی پڑی۔مگر خدا بڑا رحیم ہے۔اُسی کیمپ میں اُس نے تندوری روٹیاں اور آلو گوشت بہت مزیدار بھی کھلایا۔ ہوا یوں کہ جب ہماری آپا نے دعا کی۔’’یا اللہ تو میری دعا سن آلو گوشت اور تندوری روٹیاں کھلا دے ‘‘واقعی دعا کی قبولیت کا وقت تھا۔ کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے کے بعد کیا دیکھتے ہیں کہ فضل الٰہی آلو گوشت اور گرم گرم تندوری روٹیاں لئے کھڑا ہے۔ کینٹین والوں سے میں نے کہہ رکھا تھا کہ اس کیمپ میں میرے عزیز ٹھہرے ہوئے ہیں مجھے کچھ کھانا چاہیے اور یوں وہ کھانا ہم تک پہنچا۔

        یاد ہے کہ اُس کیمپ سے ہم لوگوں کو کہیں اور منتقل ہونا تھا جو بھی تھوڑا بہت سامان تھا وہ اُٹھائے ہوئے ہم لوگ چلے جا رہے تھے پیدل کہ اتنے میں کالی کالی گھٹاؤں نے آسمان کو ڈھانپ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بارش کے آثار ہونے لگے جلدی جلدی والد نے اِدھر اُدھر نظر ڈالی تو ایک بڑی سی کوٹھی نظر آئی۔ پھر اُس کوٹھی کے برآمدے میں گھر والوں کی اجازت سے بیٹھ گئے اتنی ہی دیر میں شدید بارش شروع ہو گئی۔ ہم سب بے یادومددگار ایک دوسرے سے جڑے سکڑے سمیٹے بیٹھے تھے وہ کوٹھی کسی میجر صاحب کی تھی تھوڑی ہی دیر میں میجر صاحب نے گرم گرم چائے اور پاپے لا کر دئیے۔ ہائے وہ کسمپرسی کا عالم اور وہ چائے۔ کیونکہ اگر اُس وقت کوئی سونے کے ڈلے بھی دے دیتا تو ہماری ضرورت شاید پوری نہ ہوتی۔ جو اِس بے چارگی کے عالم میں اِس طوفانی بارش میں اِس چائے نے پوری کی اور پھر سب سے بڑی بات، اُن بڑے میاں کا شفیق سلوک اور میٹھی زبان نے اُن کو زندہ جاوید بنا دیا،یقینا وہ میجر صاحب اِس نکتے سے پوری طرح واقف تھے کہ۔

اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں اِس جہاں میں

ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

اور پھر یوں ہوا کہ چائے کی چند پیالیوں اور تھوڑے سے پاپوں نے میجر صاحب کو’’مرنے‘‘ نہیں دیا، کسی نہ کسی طرح قافلہ پھر روانہ ہوا،اور جو والٹن کیمپ پہونچے،بھوکے پیاسے تھکے ہارے مگر یہاں اتنا اطمینان ضرور تھا کہ کوئی قتل کرنے نہیں آئے گا۔ یہاں بھی غدر کا سا عالم تھا اور ہم سب اپنے والد کے ساتھ سائے کی تلاش میں پھر رہے تھے، پھر ایک جگہ ایک ٹوٹا پھوٹا برآمدہ نظر آیا جس کے اندر ایک چھوٹا سا کوٹھری نما کمرہ بھی تھا، ہمارے والد نے ہم سب کو یہاں بیٹھا دیا اور خود بھی ایک طرف بیٹھ گئے،اتفاق سے کوٹھری میں ایک چھوٹی جھاڑو پڑی مل گئی وہ لے کر آپا نے جگہ صاف کی دری بچھائی اور جو تھوڑا بہت سامان تھا ایک طرف رکھ دیا۔ گھنٹہ بھر بھی مشکل سے آرام کیا ہو گا سب نے کہ میرے والد نے جن کو ہم سب بھائی میاں(حضرت مولانا شاہ محمد جعفر پھلوروی) کہتے تھے ۔مجھے کہنے لگے چلو بیٹا چل کر کچھ کھانے کا بندوبست کریں،وہاں سے نکلے تو معلوم ہوا کہ وہاں پر رضاکار مہاجروں کے قافلے کے لئے بڑی بڑی دیگیں چڑھا رہے ہیں مگر وہ دیگیں ایسی نہیں تھیں،جیسی آج کل شادی بیاہ میں پکائی جاتی ہیں۔ وہاں تو لٹے پٹے لوگوں کا پیٹ بھرنے سے مطلب تھا جو بھی پک جائے جیسا بھی پک جائے، بھائی میاں نے کہا بیٹا ایک طرف تم جاؤ ،مگر بہت دور مت جانا کہیں رستہ نہ بھول جاؤ، کوئی نشانی یاد رکھنا، دوسری سمت میں جاتا ہوں جو تمھیں مل جائے تم لے لینا جو مجھے ملا میں لے آؤں گا۔ اپنا ٹھکانہ یاد رکھنا،بھولنا مت۔اور پھر ایک چھوٹی سی لڑکی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں ایک برتن تھامے بڑے عزم و حوصلے کے ساتھ کھانے کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔چار مختلف جگہ دیگیں چڑھ رہی تھیں اُس ننھی منّی سی لڑکی نے ہر جگہ پوچھا کہ یہ کھانا کب تیار ہوگا کب ملے گا۔ایک جگہ معلوم ہوا کہ مونگ پک رہے ہیں تھوڑی دیر میں تیار ہو جائیں گے، یہ سن کر وہ بچاری بڑے صبر سے ایک طرف بیٹھ گئی اور اپنے برتن کو مضبوطی سے پکڑ لیا، مبادہ اُس سے کوئی یہ برتن ہی نہ چھین لے،پھر میں اپنے گھروالوں کے لئے کھانا کیسے اور کس چیز میں لے کر جاؤں گی کھانا پکنے میں دیر تھی وہ اپنے خیالوں میں گم ہو کر تصورات کی دنیا میں چلی گئی،ہاں ریاست کپورتھلہ میں، جہاں اُس کے والد کا خوبصورت سجا سجایا گھر تھا اور ہر آرام و آسائش کی چیز موجود تھی،شاہی مسجد کا باغ کوئی معمولی باغ نہیں تھا، لق ودق باغ شاندار روشیں، خوبصورت فوارے، پھولوںپھلوں سے لدے اُونچے اُونچے تناور درخت اور لا تعداد رنگین تتلیاں،اُس کا چھوٹا سا بکری کا بچہ بھی اُسے بُری طرح یاد آنے لگا جسے وہ باغ میں بے دریغ بھگاتی پھرتی تھی،تصور میں وہ اب بھی تتلیاں پکڑ رہی تھی، خوبصورت سافراک پہنے سر میں ربن لگائے جوتے موزے پہنے ،مگر ایک دم کچھ آدمیوں کے لڑنے کی آوازوں سے وہ چونک اُٹھی، اُس نے بے ساختہ اپنے سراپے پر نظر ڈالی،یہ بچی اُس تتلیاں پکڑنے والی بچی سے کتنی مختلف تھی،اُلجھے ہوئے بال جو کئی دنوں سے تیل سے محروم تھے، ننگے پیر میلے کپڑے ہونٹوں پر جمی پپڑیاں ،جوتا تو کیمپ میں ہی چوری ہو گیا تھا، اپنے ننگے پیروں پر نظر پڑتے ہی اُسے صاف ستھری جوتے موزے پہنے وہ لڑکی بہت یاد آئی اور اِس سے پہلے کہ اُسے بہت سی یادیں گھیر لیتیں،تیز بھوک کے احساس نے اُسے تصور کی دنیا سے نکال باہر کیا، وہ تیزی سے اُٹھی مونگ تیار ہو چکے تھے اُن کی بھینی بھینی خوشبو نے اُس میں ایک انجانی قوت پیدا کردی، بڑے بڑے لوگوں کی دھکم پیل میں وہ کچھ روٹیاں اور مونگ لینے میں کامیاب ہو گئی۔پھر تو جیسے اُس کے پَر لگ گئے ۔ اِس وقت اُس کے تصور میں بھوک سے نڈھال وہ چہرے تھے جو اُس کے اپنے تھے،اپنی نانی اپنی والدہ اپنی بہنیں اور والد۔اپنے ٹھکانے پر پہونچتے پہونچتے کئی بار ٹھوکر کھاتے کھاتے بچی اور جب اپنے ٹھکانے پر پہونچی،تو ننھے ننھے ہاتھوں میں کھانا اور آنکھوں میں کھانا حاصل کرنے کی چمک لئے وہ صرف شیما تھی، ہاں وہ میں تھی۔کچھ دیر میں بھائی میاں آگئے وہ بھنے چنے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے،غرض سب نے مل کر مونگ اور روٹیاں کھا لیں چنے رات کے لئے رکھ دئے گئے، کھانا کھا کر بھائی میاں نے کہا تم سب یہاں آرام سے بیٹھو،لاہور میں میرے ایک دوست ہیں ملک نصراللہ خاں عزیز ؔاُن کا پتہ میرے پاس ہے میں جا کر اُن کو تلاش کرتا ہوں وہ یقینا ہماری مدد کریں گے۔یوں بھائی میاں روانہ ہو گئے،جاتے جاتے کہہ گئے دیر سویر ہو سکتی ہے پریشان مت ہونا۔ مجھے یاد پڑتا ہے مغرب کے بعد جب بھائی میاں آئے تو اُن کے ساتھ ملک صاحب کے دو بیٹے اُن کے ہمراہ تھے اُن لوگوں نے دو تانگوں کا بندوبست کیا تقریباً ہم لوگ عشاء کے وقت والٹن کیمپ سے روانہ ہوئے۔پھر تقریباً بارہ بجے رات کو ملک صاحب کے گھر،جو گوالمنڈی میں تھا پہونچے،چھوٹا سا صحن مختصر سا برآمدہ اور ایک کمرہ ہم لوگوں کو رہنے کے لئے مل گیا سب انتہائی تھکے ہوئے تھے،جاتے ہی سو گئے۔صبح سب سے پہلے آپا اُٹھیں اور ہر چیز کو ٹھیک ٹھاک کرنے لگیں ابھی وہ چیزیں رکھ ہی رہی تھیں کہ دروازے پر دستک ہوئی،دیکھا تو ملک صاحب کی نوکرانی ایک بڑی ٹرے میں مکمل ناشتہ لئے کھڑی ہے گھر چھوڑنے کے بعد پہلی مرتبہ سکون سے ناشتہ کیا،اور پھر اِس کے بعد تو جیسے اِس گھر کے لوگوں نے احسانات کی بارش کردی ہم لوگوں پر۔نہ صرف پورے خاندان کو ٹھہرنے کی جگہ دی بلکہ ضرورت کی ہر چیز مہیا کرتے رہے، کھانا کپڑے روپے برتن اور سیکڑوں چیزیں، حتیٰ کہ اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو دوا علاج بھی کرواتے۔

        سوچتی ہوں کہ وہ نہ تو ہمارے رشتہ دار تھے نہ برادری کے نہ ہمارا خون،صرف دوستی کا حق ادا کیا اور کچھ اس خوبصورتی سے ادا کیا کہ آج ساٹھ برس گذرنے کے باوجود نہیں بھول پائے۔ ہمارے بدترین وقت میں ایسا بھرپور ساتھ دیا جس کی مثال کہیں نہیں مل سکتی،جب تک بھائی میاں بیکار رہے ملک صاحب برابر مدد کرتے رہے، اور کچھ اِس انداز سے کہ دوسرا شرمندہ نہ ہونے پائے وہ ایک سچا مسلمان گھرانہ تھا دیندار شریف مخلص،آنحضرتﷺ نے بار بار جو اخلاق پر زور دیا ہے تو اُس میں کتنی بڑی مصلحت ہے اخلاق کے معنیٰ بہت وسیع ہیں۔اخلاق کے معنی یہ نہیں کہ کسی کومسکرا کر دیکھ لو،لفظ اِخلاق میں وہ تمام کی تمام ذمہ داریاںآجاتیں ہیں جو ملک صاحب کے گھرانے نے ادا کیں۔ اب میں سوچتی ہوں کہ کبھی نہ کبھی ہم لوگوں سے اُن لوگوں کو کوئی تکلیف بھی ضرور پہونچی ہو گی، مگر آفرین ہے اُن سب پر، اُن لوگوں کے لہجوں کی نرمی طبیعتوں کی انکساری اور بیکراں خلوص نے ہم لوگوں کے دلوں میں ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں،جو رہتی دنیا تک نہیں مٹیں گے۔ میں نے اُن کی بیگم کو کبھی درس میں جاتے نہیں دیکھا، کبھی وعظ کہتے نہیں سنا جو باتیں انسان کو درس اور وعظ سے سیکھنا چاہیے وہ اُن کے عمل میں موجود تھیں ،انسان کا کام اللہ کے بنائے ہوئے راستوں پر چلتے ہوئے اللہ کی مخلوق کے کام آنا ہے اس میں کوئی جمع ضرب تقسیم نہیں، خاص طور سے پردیسیوں مسافروں یتیموں بیکسوں اور پریشان حال لوگوں کے لئے، میرا اپنا پنجابی ایک شعر ہے

ہک دارنوں اودا ہک پھڑا دلدارانوں دے چھڈپیار

دیر توں کلیّاں بہہ کے سوچن جت ہوئی کہ ہار

آج وہ لوگ بہت یاد آرہے ہیں جو مر کے بھی زندہ ہیں۔

        ہم اپنی ذات میں جتنے بُرے سہی مگر اپنے عظیم محسنوں کو بھولنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے، جنہوں نے ہمیں اُس وقت سہارا دیا جب نہ پیر میں جوتی تھی نہ سر پہ چادر، اُن پناہ گزینی کی گھڑیوں میں ایک وقت ایسا بھی آیا، کہ والد صاحب ہم سب کے ساتھ کسی سایہ دار درخت کی تلاش میں تھے جہاں نظر جاتی تھی وہاں ہماری طرح کے بے یارومددگار پہلے سے کسی نہ کسی درخت کی چھاؤں میں بیٹھے تھے پھر ایسے بے رحم دور میں اللہ تعالیٰ نے فضل الٰہی ،میجر صاحب اور ملک نصراللہ خاں جیسے ’’دل ‘‘والے ہم لوگوں کو عطا کردئیے۔

سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

الغرض کپورتھلے میں اپنا گھر چھوڑنا،کیمپ میں گذارے ہوئے دن در در کی ٹھوکریں۔اچھے اور بُرے لوگوں کا ملنا داستان تو بہت طویل ہے،مگر جو جو باتیں یاد آتی جا رہی ہیں لکھتی جا رہی ہوں، مگر جو کچھ بھی لکھ رہی ہوں وہ سو فی صد سچائی پر مبنی ہے یہ کوئی افسانہ نہیں ہے۔جیسے  

بڑھا بھی لیتے ہیں کچھ زیبِ داستاں کے لئے

            1947 ءمیں پارٹیشن کے نام پر جو آندھی زور دار آندھی چلی اُس نے بہت سے نہیں بلکہ ہزاروں گھروں کو اُجاڑدیا،لوگوں کے سروں سے چھتیں چھین لیں،ماؤں کی گودوں سے بچے چھین لئے،لوگ تباہ وبرباد ہوگئے خواتین بیوہ ہو گئیں سہاگ اُجڑ گئے گھر لٹ گئے صدیوں کی جمی جمائی گرہستیاں پل کے پل میں مٹ گئیں،عزتیں گئیں،لاکھوں جوان شہید ہوئے۔  1947 ء  میں جو آندھی آئی وہ اتنی شدید تھی،ایسی خوفناک تھی کہ لوگ آج تک اُسے نہیں بھول پائے۔اور پھر جب آندھی اپنی پوری شدت کے ساتھ چل رہی ہو اور انسان اُس میں خشک پتوں کی طرح اُڑتے پھر رہے ہوں،ڈولتے پھر رہے ہوں،اور ایسے بے رحم دور میں جب ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہواور حشر کا سماں ہو تو پھر ایسے وقت میں،مدد کے لئے بڑھے ہوئے کچھ ہاتھ اور آنکھوں میں سچائی کی چمک لئے کچھ مہربان چہرے کون بھول سکتا ہے اگر مہربان چہرے اُن کا شفیق سلوک، انتہائی آڑے وقتوں میں کی گئی مدد ہم بھلا دیں تو پھر ہمارے اندر کیا رہ جائے گا بس صرف ہماراکھوکھلا وجود ہی باقی رہ جائے گا۔اور ہم جیتے جی اپنے وجود کو کھوکھلا نہیں ہونے دیں گے۔اُن مہربان پیارے بزرگوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے، اُن کی یادوں کی شمع اُس وقت تک جلائے رکھیں گے جب کہ ہماری اپنی زندگی کی روشن ہے،اتنا سب کچھ لکھنے کا مقصد ہی اُن لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

اور پاکستان عالمِ وجود میں آ گیا

 ہجرت کے مناظر






کارپنڈرس سمیٹری ،لندن، 12 اکتوبر 1938،،،2نومبر 2019

مرتبہ: شاہ محمد ریحان  چشتی قادری



"I Saw Pakistan Being Formed"

Sheema Salman Chishti.

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

"Life passed in its own colors, Ghalib..."

I don't know what I was thinking when I picked up the pen. At this moment, memories of the past are crawling slowly in my mind like silk cloth. I just felt like writing something down.

Yes, like all children live somewhere with their parents in a home, we were living in the state of Kapurthala. My father was the Imam (Khateeb) of the...

...Royal Mosque there. My maternal grandparents' house was in Kannauj, and we used to visit frequently. But once we went to East Punjab, Kapurthala, we were never able to visit Kannauj again. In 1947, when I returned to Kapurthala from Kannauj for the last time, I wasn't destined to stay in Kapurthala even for a month—we had to migrate within a month. Even today, the memories of Kapurthala remain hidden in my heart, just like those of our beloved homeland Kannauj. The story of migration started from Kapurthala, so I will start from there.

My parents, sisters, and I were living a very luxurious, respectable, and dignified life; there was no shortage of anything at home. Our beautiful house was lavishly decorated. Since my father was the Khateeb of the Royal Mosque, there was an immense, beautiful garden attached to that grand mosque. In my mind's eye, I often see myself chasing butterflies in that grand garden, feeding my pet goat, or climbing the guava trees near our front door to pluck guavas.

In the scorching summer afternoons, just a short distance from our home, were falsa (grewia) trees—we never let those falsas fully ripen. The row of guava trees across from our house wasn't ours, but when my father saw us kids couldn't resist plucking them, he bought the trees for us! Then we had a blast.

To the left of our home was a small agricultural land (munna). In our portion of the land, all kinds of vegetables were grown, and the share meant for the gardeners also came there. Beyond that was a small field of dried dates and green chilies. Beyond that was Diwan Sahib's mango orchard, and right amidst the trees stood an immensely grand mansion.

Sometimes, two or four of us sisters would gather, or my older sisters would coax me: "Go fetch two or four raw mangoes, and we'll give you nice clothes for your doll." I would immediately agree. Even today, in my...

...ears, the gardener's authoritative, echoing voice rings, which he used to frighten away parrots and other birds.

What a peaceful time it was—no worries, no sorrow, just laughing and playing—that was what life meant to us. I was old enough to understand things when we were forced to leave our beloved home. We had returned from Kannauj only a month and a half prior when, suddenly, one afternoon, a friend of my father, Captain Dr. Abbas, sent a short written note through a man:

"Leave immediately with your wife and children and come to my place; there is a severe risk of riots in the city."

And then, unfortunate as we were, we left our home never to return. My parents thought that when conditions improved in a few days, we would return home. But a curfew was imposed. I remember when we were leaving the house, my mother took only a mat, a betel-nut box (paandan), a bag with a few clothes, and some jewelry—nothing else. We stayed at Dr. Sahib's mansion for eight to ten days.

When the curfew was lifted, Dr. Sahib sent two guards with my father to our house. Oh, what my father told us upon returning! It was heart-wrenching. When he entered the house with the soldiers, Sikhs were roaming around inside with bare swords.

Seeing my father, they asked, "What have you come to take?" My father pointed toward the books and said, "I want to take these books." So, two sacks were filled with books. The soldiers took some things from the Sikhs, went into the kitchen, and filled a sack with wheat flour, rice, and utensils—and that was all our belongings. Yes, my father also picked up a few clothes from his own home like a stranger, with the Sikhs' permission.

Then, my father scattered a lot of grain for his pet pigeons. Taking one last look at his beautiful home, he boarded the horse carriage (tanga).

Even today, I feel as though our house is still waiting for us. Even today, those fine china dishes, valuable sofas, canopy beds, tables, chairs, and toys seem to be arranged neatly, calling out to us, missing us. Oh, what memories—no matter how hard I try to forget!

After staying at Captain Abbas's place for a few days, we all left in a large convoy (qafila). Except for airplanes and trains, every mode of transport was in that convoy; people were even traveling on foot. This grand convoy was departing under the leadership of Captain Abbas.

Yes, I remember that along the way, Captain Abbas's car was targeted in two or three deadly attacks. Once, a piece of shrapnel shattered the glass and went out the other side, but...

...God saved him. Another time, a Sikh pulled the pin of a grenade, but fortunately, it failed to detonate.

Along the way, I witnessed terrifying scenes that make me shudder even today. The convoy was moving at a snail's pace, and people were crammed into every vehicle like matchsticks. Our family consisted of my grandmother, father, mother, two elder sisters, me, and two younger sisters. Our youngest sister was only five months old.

I vividly remember both my younger sisters suffering terribly from hunger and thirst. People in the trucks were stuffed like matchsticks. If someone had a little food or water, the crushing crowd made it impossible to reach into one's pockets or bags. In short, when the youngest sister cried herself unconscious, people told my mother: "Throw her out; she's going to die anyway." But a mother's love made her press the baby tighter to her chest, saying: "As long as there is breath in her, I will not do that."

I remember I was peeking out of the truck's opening when suddenly my eyes fell upon a cluster of seven or eight trees, in whose shade three Sikhs were sitting. Let me tell you how two of those Sikhs were sitting: one man had his back resting comfortably, but he was lying face down—dead. A gleaming dagger was plunged into his back. The third Sikh stood right there, looking at that martyr with bloodthirsty eyes...

...You can imagine for yourself what a young, innocent heart went through seeing such a sight, what a shock it must have been to the mind! And who knows how many thousands saw such terrifying scenes.

Regardless, the convoy members, carrying thousands of doubts and fears in their hearts, were forced to travel. Fear, exhaustion, and the grief of losing one's home were visible on every face. In short, every person's story of being ruined and scattered was written on their face. Now when I think back, a couplet comes to mind:

Dark night, weary courage, a difficult destination...

Prayers for safety for the traveling convoy...

Anyway, hungry, thirsty, exhausted, and defeated, after several hours of travel, we reached Jalandhar Camp with our convoy. We spent eighteen days in that camp. In the scorching heat, people were crammed under long military barracks in pitch darkness. Wherever you looked, there were only crowds of people—it looked like the Day of Judgment.

In Jalandhar Camp, a Muslim soldier helped us. His name was Fazal Elahi, and he truly proved to be a divine blessing (Fazal-e-Elahi) for us. In that extreme heat, people had to struggle intensely just to get a pot of water. Under such conditions, he arranged two large buckets of water for us so we could wash ourselves with a little water. We wept tears of joy. He also provided two woven cots (charpais)...

...which I haven't forgotten. That soldier arranged it so that when it got dark, we could lean the cots together, drape a cloth over them for privacy, and bathe.

Then, he arranged food for us several times from the military canteen. What a noble servant of God he was! Let me tell you how I went looking for water, frantic with thirst. A short distance from the camp was a military barrack. I saw a tap there, but when I turned it, nothing came out except disappointment. Desperate and thirsty, I turned back from the tap with growing despair. Feeling helpless, I looked around, wondering what to do, and tried turning the broken tap handle again.

Just then, I saw a man in the porch of a barrack. Seeing the empty vessel in my hand, he asked: "Daughter, do you need water? Come inside and take it."

I replied: "No, I won't come inside. You might poison the water."

He heard me, and a gentle smile appeared on his lips. "Daughter, don't be afraid, I am a Muslim." I couldn't believe it at first. My mind was consumed by the atrocities committed by Sikhs and Hindus. I pondered for a moment and said: "Alright, recite the Kalima (declaration of faith) to me, and then I'll take the water."

He looked at me intently, his eyes filled with tears—eyes I can never forget. Then, without a second's delay, he began reciting the Kalima fluently. He didn't even go inside; he brought a container of water without delay...

...and handed it to me. Taking the water inside, he patted my head lovingly and said: "Daughter, send your father to me after the evening prayer (Maghrib); I need to meet him." After that, he became an angel of mercy for us, helping us in every way he could.

Such was the state of the camp that as far as the eye could see, there were only heads. In the open field ahead, people were forced out of extreme necessity to use it as an open-air bathroom. There was no privacy or screen. Although bathrooms were built, they were quite far away, and young girls were not allowed to go there alone out of fear that hidden Sikhs or Hindus might attack them.

Even today, those painful screams echo in my ears—screams of young girls who were dragged away by ruthless Hindus and Sikhs. The cruelty of the Hindus and Sikhs in that merciless era was appalling. The atrocities they committed jointly against Muslims, the indignities they inflicted, the torture they caused, the way they set houses on fire, and how they slaked the thirst of their swords with the mass murder of Muslims—history will record it as it happened. But what is etched onto hearts like lines on stone, those events written on the heart remain permanent forever; it was a state of absolute panic and self-preservation (nafsan-nafsi).

From my memory, how can I forget those thick grains of rice that a family gave to my sister...

...saying, "You all have been sitting hungry since yesterday; perhaps these raw rice grains might be of some use to you." They weighed no more than half a kilogram.

In the camp, many people were cooking food. When one family finished cooking, my mother placed those raw rice grains on their dying embers. Somehow, like half-baked walnuts, the rice cooked. All we had was a bit of salt, which was sprinkled over the rice. I distinctly remember weeping as I ate that rice, because I had never eaten such food before. The thick rice simply wouldn't go down my throat. Mother and my elder sisters scolded me, but God is Most Merciful.

In that same camp, He fed us tandoori bread and delicious potato meat curry (aloo gosht). It happened like this: my sister prayed, "O Allah, grant my prayer and feed us tandoori bread and potato meat!" It truly was a moment of acceptance. About an hour and a half to two hours later, we saw a man from the military canteen standing there with piping hot tandoori rotis and hot potato meat curry! He said he knew his loved ones were staying in this camp and needed food, so he brought it—and that was how the food reached us.

I remember we had to move from that camp to another location. Carrying our few belongings, we set out on foot. Suddenly, dark black clouds covered the sky, and...

As soon as signs of rain appeared, Father quickly looked left and right and spotted a large mansion. Then, with the permission of the people inside, we sat down in the mansion's veranda. Shortly after, heavy rain began to pour. All of us, helpless, huddled close to each other, sitting squeezed together. That mansion belonged to a certain Major Sahib. In a short while, Major Sahib brought out hot tea and rusks for us. Oh, what a state of helplessness that was, and what a cup of tea! Because even if someone had given us a bar of gold at that time, it probably wouldn’t have fulfilled our immediate need, which was completely met in that state of helplessness by that cup of tea in the stormy rain. "And above all, the old gentleman's affectionate nature and sweet words rendered him immortal."

Undoubtedly, Major Sahib was fully aware of this point:

Everyone lives for themselves in this world,

The true purpose of life is to be of use to others.

And so it happened that those few cups of tea and a few rusks from Major Sahib did not let us "die," and somehow our caravan set off again. We reached the Walton Camp—thirsty, hungry, and exhausted—but here there was at least the comfort that no one would murder us. Here too, there was a scene like that of the Mutiny (Ghadar), and all of us were searching for shade alongside our father.

Then at one place, a broken-down veranda came into view, inside of which was a tiny room-like cell. Our father seated all of us there and sat to one side himself. By chance, a small broom was found in the room; using it, Apa cleaned the area, spread out a floor mat (dari), and placed whatever little luggage was left off to one side. We had barely rested for an hour when my father—whom all us siblings used to call Bhai Mian (Hazrat Maulana Shah Muhammad Ja'far Phulwarvi)—said to me, "Come on, son, let’s go arrange something to eat."

When we went out, we learned that large cauldrons (deegs) had been set up there for the refugees of the caravan. However, those cauldrons were not like the ones cooked for weddings today; their purpose was simply to fill the bellies of starving people, no matter how it was cooked. Bhai Mian said, "Son, you go to one side, but don't go too far. Don't forget the way, keep a landmark in mind. I am going in the other direction. If you get anything, take it, and I will meet you back here. Remember your spot, don't forget."

And then, a small girl, holding a small utensil in her little hands, set out in search of food with great resolve and courage. Cauldrons were set up in four different places. That little girl went to every spot and asked when the food would be ready...

...and she was told that mung beans were cooking and would be ready in a little while. Hearing this, the poor girl sat down on one side with great patience and held her utensil tightly, lest someone snatch it away from her, and wondered how and in what she would carry food back for her family.

As the food was taking time to cook, she got lost in her thoughts and drifted into a world of memories—back to the State of Kapurthala, where her father's beautiful, well-decorated home had every comfort and luxury. The garden of the Royal Mosque was no ordinary garden; it was a grand, lush garden with beautiful fountains, trees laden with fruits, and countless colorful butterflies.

She vividly remembered how a small goat kid would run freely with her in the garden. In her imagination, she was still chasing butterflies, wearing a beautiful dress with ribbons tied in her hair and wearing neat boots. But suddenly, the sound of men fighting startled her, bringing her back to reality. Unconsciously, she looked down at herself—how different this girl was from the one who used to catch butterflies! Her hair was tangled and unoiled for days, her feet were bare, her clothes dirty, and her lips were dry and chapped. Her shoes had been stolen in the camp; looking down at her bare feet, she remembered how she used to wear clean, neat shoes.

...And before many more memories could surround her, the sharp pangs of hunger brought her out of her imaginary world. She quickly stood up; the mung beans were ready, and their pleasant aroma created a sudden strength in her. Pushing through the crowd of grown adults, she succeeded in getting some rotis and mung beans. It was as if she had gained wings.

In her imagination at that moment, she saw the faces of her family members who were exhausted from hunger—her grandmother, her mother, her sisters, and her father. Reaching her shelter after stumbling several times, the little girl arrived, and when she did, with food in her tiny hands and a spark in her eyes from securing food, yes—that was none other than Sheema.

A little while later, Bhai Mian also arrived; he had succeeded in getting some roasted chickpeas. In short, everyone ate the mung beans and rotis together, saved the chickpeas for the night, and after finishing their meal, Bhai Mian said, "All of you rest comfortably here. I have a friend in Lahore, Malik Nasrullah Khan Aziz, whose address I have. I will go search for him; he will surely help us."

Thus, Bhai Mian departed, saying as he left, "It might get late, do not worry." I remember that after Maghrib (evening prayer), when Bhai Mian returned, Malik Sahib's two sons were with him...

...Those people had arranged two horse-carriages (tangas), and we departed from Walton Camp around the time of Isha (night prayer). Then, around 12:00 midnight, we reached Malik Sahib's home, which was in Gowalmandi. There was a small courtyard, a small veranda, and a room given to us to stay in. We were all extremely exhausted and went to sleep as soon as we arrived.

The next morning, Apa woke up before everyone else and started organizing things. She was still setting things in order when there was a knock at the door. Looking out, Malik Sahib's maidservant was standing there with a complete breakfast on a large tray. For the first time since leaving home, we ate breakfast in peace.

After that, it was as if the people of that house showered us with favors. They provided shelter not just for our immediate family, but for the whole extended family, supplying everything needed: food, clothes, money, utensils, items—to the extent that if anyone fell ill, they would arrange for their medicine and treatment.

I often think that they were neither our relatives nor from our community, nor shared our blood; they only fulfilled the right of friendship, and did so with such grace that even after sixty years, it cannot be forgotten. In our worst of times, they offered full support, an example of which cannot be found anywhere else. As long as Bhai Mian remained unemployed, Malik Sahib continued to help, and in such a manner that he never let him feel embarrassed. They were truly a genuine Muslim family.

...a deeply religious, sincere person. The Holy Prophet () repeatedly emphasized good character (akhlaq), showing how great a wisdom lies within it. The meaning of good character is very broad; it does not simply mean smiling at someone, but encompasses fulfilling all responsibilities, just as Malik Sahib's family fulfilled them.

Now I think that we must have caused them some inconvenience, but hats off to them! The softness of their speech, the humility of their nature, and their pure sincerity left such indelible marks on our hearts that they will not fade until the end of the world. I never saw his wife attend religious lectures (dars), nor did she preach; the things human beings ought to learn from lectures and sermons were present in her actions. Walking on the path laid out by God, she was dedicated to helping His creation. In this, there was no addition or division—especially for travelers, orphans, the helpless, and people in distress.

For my own situation, a Punjabi couplet comes to mind:

Hak daaran ooda hak pharal daranon dey chhad pyar

Der ton kaliyan beh ke sochan jat hoi ke har

Today, I remember those people very much, through whose virtue we are alive. As individuals, no matter how flawed we are, we can never even imagine forgetting our great benefactors who supported us in those moments...

...when we had no shoes on our feet, no veil (chadar) on our heads, and were seeking shelter.

A time also came when our father, along with all of us, was looking for a shady tree. Wherever our eyes went, there were helpless and aid-seeking people like us sitting under the shade of one tree or another. Then, in such a merciless era, Almighty God bestowed upon us people with hearts like Fazl-e-Ilahi, Major Sahib, and Malik Nasrullah Khan.

Where have they all gone, those prominent faces?

They have all hidden beneath the soil.

In short, leaving our home in Kapurthala, spending days in the camp, and wandering from door to door... meeting good and bad people—it is a very long story. But whatever memories come to mind, I am writing them down. Whatever I am writing is a hundred percent based on truth; it is no fiction. As someone said:

They exaggerate a bit to embellish a story...

In 1947, the violent storm that blew in the name of Partition did not just uproot many, but thousands of homes. It snatched away the roofs over people's heads, pulled children from mothers' laps, ruined and destroyed people, widowed women, ruined happy homes, and looted families...

...Societies built over centuries were wiped out in an instant; honors were stripped, and lakhs of young people were martyred. The storm that came in 1947 was so severe and terrifying that people haven't been able to forget it to this day. And when that storm was blowing with full force, humans were flying and wavering around like dry leaves.

In such a merciless era, when self-preservation prevailed everywhere and a scene of Judgment Day was unfolded—if in such times, a few hands were extended in help and a few kind faces showed genuine truth in their eyes, who could ever forget them?

If we were to forget those kind faces, their compassionate behavior, and the help they extended in the most critical times, then what would be left inside us except a hollow existence? We would remain alive, but we wouldn't let our existence become hollow. We will always remember those kind, beloved elders, and light the candle of their memories as long as the light of our life remains. Writing all this is simply a way to pay tribute to those people.

“And Pakistan Came Into Existence”

Compiled by Shah Muhammad Raihan Chishti