Monday, 15 September 2025

Hazrat Maulana Shah Husain Miyan

 

 مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی: ایک ہمہ جہت شخصیت:

مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی برصغیر کی ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے دینی، سیاسی اور روحانی میدانوں میں گہرے نقوش چھوڑے۔ ان کا شمار ان اکابرین میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو قوم و ملت کی فلاح کے لیے وقف کر دیا۔

ابتدائی زندگی اور سیاسی سرگرمیاں:

حضرت قبلہ مولانا شاہ سلیمان پھلواروی کے دوسرے صاحبزادے تھے۔وہ 1312ھ   پھلواروی  شریف میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے والد اور معروف عالم دین و صوفی،  رہنما ٔے قوم و ملت حضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی سے دینی علوم حاصل کیے اور اس کے ساتھ ہی انگریزی تعلیم سے بھی آراستہ ہوئے۔ ان کی ایک نمایاں پہچان بر صغیر کے نہایت خوش بیان و مشہورو پر جوش مقرر   کی تھی، جس کی بدولت انہوں نے قومی اور سیاسی تحریکوں میں فعال حصہ لیا۔ قومیات میں بڑی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔

۱۹۱۸-۱۹۱۹ء میں انہوں نے تحریکِ خلافت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اپنے”سفرنامہ عراق“ میں وہاں انگریزوں کے مظالم کی تفصیلات لکھی ،  انگریزوں کے مظالم کی ان تفصیلات نے تحریک کے لیے ایک اہم دستاویز کا کام کیا جسے آل انڈیا خلافت کمیٹی نے بڑے پیمانے پر تقسیم کیا۔ بعد ازاں آل انڈیا مسلم کانفرنس ہزہائی نس سر آغا خاں کی قیادت میں قائم ہوئی تو اس میں نمایاں حصہ لیا۔ مرکزی جمعتہ علمائے ہند (کانپور) کی تحریک میں سرگرم رہے۔ پھر تحریک مسلم لیگ میں بہت زیادہ سرگرمی دکھائی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے ایک فعال رکن اور صوبائی لیگ کے سربرآوردہ قائد تھے۔ آپ کی اس زمانہ کی اہم خدمتیں جو ملک کے انگریزی واردو جرائد میں شائع ہوئی تھیں انھیں ایک رپورٹ کی شکل میں مجتمع کرکے شائع کیا جاچکا ہے۔  

ان کی سب سے اہم سیاسی خدمات کا دور تحریکِ مسلم لیگ کے عروج سے وابستہ ہے ، ان کی سرگرمیوں کا ثبوت ۱۹۳۲ء کے اخبار "الجمعیت دہلی" کے ایک تراشے سے ملتا ہے، جس میں  بی این کالج پٹنہ میں منعقدہ جلسہ میلاد النبی جس میں پٹنہ ہأی کورٹ کے ججوں اور عام ہندوں کی شرکت ہؤی تھی  ،  16 ستمبر  1932ء   کو یہ خبر شائع ہوئی۔ اس خبر کے مطابق، مولانا شاہ حسین میاں نے اس جلسے میں "نہایت پرمغز اور اثر انگیز تقریر کی"، جس کا مقصد طلبہ کو قومی خدمت اور سیاسی بیداری کی طرف راغب کرنا تھا۔ یہ تحریر اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مولانا شاہ حسین میاں اس دور میں نہ صرف ایک مذہبی شخصیت تھے بلکہ طلبہ اور نوجوانوں میں سیاسی وقومی بیداری پیدا کرنے کی تحریکوں میں بھی سرگرم حصہ لیتے تھے۔ان کے علمی اور ادبی کارنامے بھی قابلِ ذکر ہیں، انہوں نے متعدد مقالات اور مضامین تحریر کیے۔

 روحانی اور خاندانی ورثہ:

مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی ایک معروف عالمِ دین، صوفی بزرگ اور سیاسی رہنما تھے۔مولانا شاہ حسین میاں نے اپنے والد حضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی کے بعد 1354 ھ میں خانقاہ سلیمانیہ کی سجادہ نشینی سنبھالی۔ اس سجادہ نشینی کی ایک خاص بات یہ تھی کہ برصغیر کے مشہور ترین آستانوں سے انہیں سجادگی کی دستاویزات پیش کی گئیں۔

ان کا خاندانی پس منظر بھی علمی اور روحانی عظمت کا حامل تھا۔ ان کے بڑے بھائی مولانا شاہ حسن میاں پھلواروی نے معروف کتاب "تذکرہ حضرت ابوالنجیب عبدالقاہر السہروردی  تصنیف کی تھی۔ مولانا شاہ حسین میاں کے وصال ( 5ربیع الثانی  1366ھ) کے بعد ان کے سنجھلے بھائی مولانا شاہ غلام حسنین چشتی پھلواروی سجادہ نشین بنے۔ ان کے بعد یہ سلسلہ جناب شاہ محمد ریحان چشتی تک پہنچا، جو خانقاہ سلیمانیہ کے موجودہ سجادہ نشین ہیں۔

 مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی کی حیات، ان کی سیاسی، قومی اور روحانی خدمات کے ساتھ ان کے خاندان کا علمی اور تصوفی ورثہ  آج بھی ایک روشن مثال ہے۔

مولانا شاہ حسین میاں کی سیاسی اور قومی خدمات کا اندازہ ان شخصیات کے تعزیتی پیغامات سے لگایا جا سکتا ہے جو ان کے انتقال کے بعد ان کے اعزہ کو موصول ہوئے۔ ان میں گاندھی جی، قائداعظم، شہید ملّت لیاقت علی خاں، الحاج خواجہ ناظم الدین، سر سید سلطان احمد، راجہ صاحب محمود آباد، ڈاکٹر سید محمود وغیرہم کے اسماء خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

عظیم شخصیات کے تعزیتی پیغامات:

یہ خط مہاتما گاندھی کی طرف سے ایک تعزیتی خط ہے جو انہوں نے مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی کے انتقال پر لکھا تھا۔

  

خط کا متن

گھوسی، گیا

27 مارچ 1947

بھائی محمد سلمان صاحب،

آپ کا کارڈ ملا۔  حسین میاں کے انتقال کی خبر سن کر اچھا نہیں لگا۔ میں آپ کو کیا تسلی دے سکتا ہوں، خدا آپ کو صبر دے۔

      آپ کا   

م۔ ک۔ گاندھی

  گاندھی جی نے مولانا شاہ حسین میاں کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور مرحوم کے عزیزوں کو صبر کی تلقین کی۔(نوٹ :یہ خط گاندھی جی نے اردو زبان میں تحریر کیا ہے)

یہ خط بابائے قوم اور پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کی جانب سے لکھا گیا ایک تعزیتی خط ہے جو انہوں نے مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی کے صاحبزادے سید علی اکبر قاصدکو بھیجا تھا۔

 

خط کا متن

BOMBAYMALABAR HILLMOUNT PLEASANT ROAD,   

      24th March, 1947

Dear Sir,

I am in receipt of your letter of 18th March and I was very grieved to hear of the death of your father. Please accept my sincere sympathies in your bereavement

Yours faithfully,

 M.A. Jinnah

S.A. Akbar, Esq, Phulwarisharif (Bihar),  PATNA. 

یہ خط مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی کے انتقال پر اظہارِ افسوس  اور ان کے خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ یہ تحریر  اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مولانا شاہ حسین میاں کا انتقال ایک بڑا قومی نقصان سمجھا گیا تھا۔

یہ خط پاکستان کے پہلے وزیر اعظم جناب لیاقت علی خان کا لکھا ہوا ایک تعزیتی خط ہے جو انہوں نے مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی کے انتقال پر بھیجا تھا۔


خط کا متن

گلِ رعنا ہارڈنگ ایونیو، نئی دہلی

تاریخ: دو شنبہ ،   16 ربیع الثانی  1366ھ

بسم اللہ

مکرمی! لسلام علیکم و رحمتہ اللہ علیہ و برکاتہ۔

حضرت  مولانا شاہ حسین میاں کے وفات حسرت آیات کی خبر سن کر  سخت افسوس ہوا۔ ملت اسلامیہ کے لیے بالعموم اور مسلم لیگ کے لیے بالخصوص ان کی خدمات نہایت قابلِ قدر تھیں اور مرحوم کی رحلت سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ دعا ہے کہ خداوند تعالیٰ مرحوم کی جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور آپ سب کو صبر جمیل اوران کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔

والسلام

لیاقت علی خاں

یہ خط مولانا شاہ حسین میاں کی سیاسی اور قومی خدمات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور واضح کرتا ہے ، ان کے انتقال کو مسلم لیگ اور پوری قوم کے لیے ایک بڑا نقصان سمجھا گیا۔ 

یہ خط پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل اور وزیر اعظم، جناب خواجہ ناظم الدین کی طرف سے لکھا گیا ایک تعزیتی خط ہے۔ یہ خط بھی مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی کے انتقال کے موقع پر بھیجا گیا تھا۔

خط کا متن

     نئی دہلی ،  14مارچ 1947                 

 بسم اللہ

  مکرمی زادلطفہ،

 قبلہ حضرت مولاناشاہ حسین میاں سجادہ نشین خانقاہ سلیمانیہ کےوفات حسرت آیات کا معلوم  ہوکر بے حد ملال ہوا  ۔  ان للہ وانا علیہ راجعون ۔ اللہ تعالیٰ  مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے اور خویش و اقربا  کو صبر جمیل ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حضرت قبلہ صاحب  فیضان روحانی سے اسی طرح مستفیض کرے جیسا آپ کی زندگی  میں۔خانقاہ سلیمانیہ اور ملت کو بہت بڑا صدمہ پہنچا۔ مرحوم کی رحلت نے ملت میں ایک گہرا خلا چھوڑا ہے، وہ ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ 

والسلام۔ دعاگو خاکسار خواجہ ناظم الدین

یہ خط بھی مولانا شاہ حسین میاں کی قومی اور مذہبی خدمات کی اہمیت کو واضح کرتا ہے اور  ان کے انتقال کو مسلم لیگ کی قیادت نے ایک بڑا روحانی اور قومی نقصان سمجھا۔

  1932ء کے اخبار "الجمعیت دہلی" کا تراشہ  ، اس میں مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی کی سیاسی اور تعلیمی سرگرمیوں کا ایک اور ثبوت ہے۔


 

      مزار حضرت مولانا شاہ حسین میاں، پھلواری شریف، پٹنہ
تحریر شاہ محمد ریحان چشتی

Hazrat Maulana Shah Hasan Miyan Phulwarvi


  مولانا شاہ حسن میاں ؒ


       حضرت قبلہؒ  مولانا شاہ محمد سلیمان پھلواروی کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔  ۱۳۰۶؁ ھ میں ولادت ہوئی۔ اور صرف پچیس سال کی عمر پا کر   ۱۳۳۱؁ ھ میں انتقال کیا۔ دارلعلوم ندوۃ العلماء سے عالم ہوئے،علامہ سید سلیمان ندوی اور مولانا ظہور احمد وحشی شاہجہاں پوری ان کے ہم درس تھے،مولانا شاہ حسن میاں خوش بیان واعظ ذاکر اور مناظر الاسلام تھے۔ اسلامی تحریکات سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ کم سنی ہی میں بیس پچیس کتابیں لکھیں۔ ان میں ”تذکرہ ابوانجیبؒ(سلسلہ سہروردیہ کی تاریخ) غمِ حسین، شہادت حسین(واقعات کربلا کی تفصیلات مدلل بحوالجات) اور میلاد الرسول کو(جس میں حضور اکرمؐ کی سیرت پاک اور اس جناب آنحضور کے متعلق کتب سمادیہ کی بشارتیں اور مستشرقین کے خواجہائے عقیدت کو عاشقانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے) خاص شہرت حاصل ہوئی۔”غم حسین“ کے پانچ ایڈیشن ہوئے۔ مولانا حسن میاں صاحب کو اسماء الرجال، اور تصوف کی کتابوں سے خاص ذوق تھا۔ حضرت نے ان کو اپنے بزرگ حضرت مولانا شاہ صفت اللہ فریدی پھلواروی رحمتہ اللہ علیہ سے طریقہ قادریہ سہروردیہ میں مرید کرایا۔ اور خود اجازت و خلافت سے سرفراز کیا۔ افسوس کہ عمر نے وفا نہ کی       

؎  خوش درخشیدولے شعلہ مستعجل بود

مولاناسید حسن مثنیٰ ندوی آپ کے اکلوتے فرزند تھے جو پدر بزرگوار کی وفات کے وقت صرف چھ مہینے کے تھے۔ آپ ندوۃ العلماء سے فارغ ہو کر لکھنؤ یونیورسٹی سے فاضل حدیث ہوئے عربی، فارسی، اردو، انگریزی چاروں زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ ایک زبان کے مضامین وتالیفات کا دوسری زبان میں ترجمہ کرنا انکا دلچسپ مشغلہ ہے۔  مصری ناول نویس فکری اباظہ کے ایک عربی ناول کا ترجمہ ان کے قلم سے”مریم“ نامی شائع ہو چکا ہے۔ کئی سال تک دہلی میں حضرت خواجہ حسن نظامی صاحب مرحوم کے ہفتہ وار اخبار”منادی“ کے نائب مدیر رہے۔ پھر کئی سال تک بنگلور سے روز نامہ ”پاسبان“  اپنی ادارت میں نکالتے رہے پھرکراچی سے”مہر نیمروز“ نامی ایک معیاری علمی وادبی ماہنامہ اپنی ادارت میں نکالا جو پاکستان وہندوستان کے سنجیدہ ادبی حلقے میں مقبول ہوا۔ ان کے مضامین دوسرے معیاری پرچوں میں بھی اکثر شائع ہوتے رہتے ہیں۔ جن میں خاص طور پر قابل ذکر ماہنامہ خاتون ِ پاکستان کراچی ہے۔ اس رسالہ کی عام اشاعتوں میں جو قیمتی مضامین مولانا حسن مثنیٰ کے شائع ہوئے ہیں۔ وہ تو اپنی جگہ پر ہیں ہی۔ حضرت رسولِ خداؐ کے فرزند، ابراہیم بن النبی علیہ السلام کی والدہ محترمہ حضرت ماریہ قبطیہؓ کے متعلق آپ کی تحقیقات اہل علم کے خصوصی توجہ کی مستحق ہے، جس میں آپ نے ثابت کیا ہے کہ حضرت ماریہ قبطیہؓ  اُم المومنین تھیں، اور امہات مومنین میں داخل تھیں۔ ان کے قابل قدر مضامین دیگر معیاری پرچوں میں بھی اکثر شائع ہوتے رہتے ہیں۔ الغرض اہل علم اور اہل قلم میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہم زدفزد۔ ۳۱/مئی  ۱۹۹۸؁ ء کو آپ کا وصال کراچی میں ہوا

 

شاہ محمد ریحان چشتی قادری

 

Hazrat Maulana Shah Muhammad Jafar Phulwarvi

 

زندگی کا مختصر سا خاکہ

        مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی28نومبر  1902ء ،شعبان 1320ھ کو پھلواری شریف ضلع پٹنہ(صوبہ بہاربھارت)میں پیدا ہوئے۔ شیرخوارگی ہی کے اثنا میں والدہ دنیا سے رخصت ہو گئیں اس لئے مامتا اور محبت مادری سے محروم رہے۔

پھلواری شریف ایک ایسا قصبہ ہے جو کم و بیش آٹھ سو سال سے علم اور درویشی دونوں کایکساں مرکز رہا ہے۔ مولانا نے آنکھ ایسے ہی گہوارے میں کھولی جو علم اور تصوف دونوں کا جامع تھا۔

        شاہ صاحب کے دادا حکیم شاہ محمد داؤد ؒ لکھنؤاور گورکھپور میں شاہی طبیب تھے۔  1857ء کے جہادِ آزادی میں شریک تھے۔ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا تو یہ بھیس بدل کر روپوش ہوگئے اور پھلواری شریف کے ایک قریبی گاؤں (عیسیٰ پور) میں فروکش ہوئے یہاں گرفتار ہوئے مگر بعض کرم فرماؤں کے حسن تدبیر سے رہا ہو گئے۔

        آپ کے والد حضرت مولانا شاہ محمد سلیمان پھلوارویؒ نے مولانا عبدالحئی فرنگی محلیؒ، مولانا احمد علی سہارنپوریؒ اور مولانا سید نذیر حسین مونگیری ثم دہلویؒ سے علمی استفادہ کیا تھا،دوسری طرف مولانا شاہ علی حبیب نصرؔ پھلوارویؒ کے مرید وخلیفہ نیز مولانا فضل رحمٰن گنج مراد آبادیؒ اور حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے بھی خلیفہ ومسترشد تھے۔گویا وہ علم اور تصوف دونوں کے سنگم تھے ندوۃ العلماء لکھنؤ کے تین اولین بانیوں میں سے ایک تھے علی گڑھ یونیورسٹی کے ٹرسٹی بھی تھے اور اس دور کی شایدہی کوئی تعلیمی،تبلیغی،اصلاحی تحریک یا انجمن ہو گی جو ان کی گرانقدر خدمات کی رہین منت نہ ہو۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس زمانے میں سر سید پر ہر طرف سے کفرکے فتوے لگ رہے تھے اس وقت علما ومشائخ میں تنہا انہیں کی شخصیت تھی جو سر سید کی تعلیمی تحریک کا ساتھ دے رہی تھی حالانکہ سر سید کے دینی معتقدات سے یہ سخت اختلاف رکھتے تھے۔ مولانا محمد علی جوہر کے اخبار کامریڈ مورخہ یکم جولائی  1911ء  (صفحہ ۴ کالم ۲ بعنوان Toilet)میں لکھا ہے کہ مولانا شاہ سلیمان پھلواروی کی صرف چند تقریروں سے کلکتے میں  80(اسّی) ہزار روپے(علی گڑھ یونیورسٹی کے لئے)جمع ہوگئے۔اس سے پہلے ناگپور میں تیس ہزار روپے ان ہی کی تحریک پر صرف ایک شخص نے یونیورسٹی کودے دئیے۔اس دور میں بقول مولانا عبدالماجد دریا آبادی محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے اجلاس اور مولانا شاہ سلیمان پھلواروی کے مواعظ توام چیزیں سمجھی جاتی تھیں ”مولانا شبلی نعمانی انھیں ”بے تاج کا بادشاہ“کہتے تھے۔مولانا سید سلیمان ندوی کے بقول”یہ جس مجمع میں ہوتے تھے ان کے سوا ہر آواز ماند پڑجاتی تھی۔“ندوۃ العلماء لکھنؤ کے سالانہ اجلاس کی پانچ بار صدارت کی۔ آخری صدارت مدراس میں کی تھی جس میں ندوۃ العلماء کے لئے کم وبیش سات لاکھ روپے چندے میں آئے تھے۔

          ان سے ملنے کے لئے جو  مشاہیر علماء و زعماء پھلواری شریف میں آئے ان میں گاندھی جی، راجندرپرشاد،مولانا ابوالکلام آزاد،مولاناشوکت علی،سوامی شردھانند صاحبزادے آفتاب احمد خاں،سر علی امام، سر محمد شفیع،حکیم اجمل خاں، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ثناء اللہ امرتسری،خواجہ کمال الدین،خواجہ حسن نظامی،بی اماں (والدہ علی برادران)مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا شبلی نعمانی وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

         لکھنؤ میں ان کی قیام گاہ پرجن حضرات کی آمد و رفت رہتی تھی ان میں قابل ذکر مولانا ناصر حسین مجتہد،مولانا سید نجم الحسن مجتہد،علامہ ہندی مجتہد،مولانا عبدالباری فرنگی محلی، نواب سید علی حسن خاں،راجہ صاحب محمود آباد،مولانا حسرت ؔموہانی،سید جالب دہلوی وغیرھم،علامہ اقبالؔ کو بعض مسائل دریافت کرنے کی ضرورت ہوئی توانہوں نے کیمبرج سے خط لکھے جو شائع ہو چکے ہیں۔وہ علما، مشائخ اور لیڈروں کے علاوہ ہر طبقے کے عوام میں محبوب تھے جس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ انتہائی وسیع المشرب عالم وصوفی تھے اور تکفیر بین المسلمین سے سخت بیزارتھے۔”خاتم سلیمانی“کے نام سے ان کی سوانح عمری شائع ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ مولانا حکیم سید عبدالحئی نے”نزھتہ الخواطر“کی ساتویں جلد میں ان کا ذکر بڑے پُر شکوہ الفاظ میں کیا ہے۔حضرت علامہ جعفر شاہ صاحب رقمطراز ہیں کہ:۔

آپ بیتی:

میرے خاندان میں ایک طرف تفضیلیت رہی(اور صوفیہ تو عموماً تفضیلی ہوتے ہی ہیں) دوسری طرف   میرے حقیقی

 ماموں مولانا شاہ عین الحق پکے اہل حدیث ہوگئے تھے اور پھلواری کی خانقاہ مجیبیہ کی سجادگی ترک کر کے الگ ہوگئے تھے اور نتیجتہً اہل حدیث کے بہت بڑے پیر ہوگئے۔ ان کے استاد مولانا علی نعمت صاحب جو میرے قریبی خالو تھے بڑے کٹر اہل حدیث تھے۔ تیسری طرف میرے بہت قریبی چچا علامہ تمنا عمادی تھے جو تصوف کی ساری ریاضتیں کرنے کے بعد تقریباً اہل قرآن بن گئے تھے۔”تقریباً کا مطلب یہ ہے کہ وہ اتباع سنت کو تو فرض سمجھتے تھے لیکن جو روایت انھیں عقل یا مزاجِ قرآن کے خلاف نظر آتی تھی اس کو ”سازش ِعجم“ قرار دینے میں ذرا بھی تامل نہ کرتے تھے اور وہ جو کچھ کہتے تھے اس کے لئے عقلی ونقلی دلائل کا انبار لگا دیتے تھے جن سے زیادہ کٹر حنفی آج تک دیکھنے میں نہیں آیا۔انہیں بزرگوں میں میرے ایک خالومولانا شاہ بدرالدین بھی تھے جو مولانا شاہ عین الحق کی جگہ خانقاہ مجیبیہ کی گدی پر بیٹھے تھے،یہ مراسم خانقاہ داری کے اتنے پابند تھے کہ ہم لوگ شایدنماز کے بھی اتنے پابند نہیں ہوتے۔ ایک دوسرے خالو مولانا منظور احمد تھے جو غالی قسم کے تفضیلی تھے بلکہ بعض اوقات تفضیلیت سے بھی آگے ہو جاتے تھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ تمام حضرات جید اور وسیع النظر علما ء تھے۔اور ہر ایک کی گفتگو ہمیشہ علمی دلائل سے ہوتی تھی ایک ہی قصبے میں اتنے مختلف الخیال بزرگوں کی صحبتیں دیکھیں،  خیالات سنے،دلائل پرکھے،سوال وجواب کئے یہ بھی دیکھا کہ سب آپس میں ایک دوسرے سے بڑی محبت اور ادب کا برتاؤ کرتے ہیں۔میری سیرت پر اس کا کیا اثر پڑااس کا ذکر بہت طویل ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔بس اتنا سمجھ لیجئے کہ میں نے کسی کا مسلک سارا کا سارا قبول نہیں کیا۔جس کی جو بات عقل ونقل کے مطابق نظر آئی اسے قبول کیا ورنہ رد کر دیا۔حسن اتفاق سے میرے اساتذہ میں بھی مولانا حیدر حسن خاں جیسے کٹر حنفی اور مولانا حفیظ اللہ جیسے پکے اہل حدیث تھے،یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ میری شادی ایک اہل علم اہل حدیث خاندان میں ہوئی،میری مرحومہ بیوی نواب صدیق حسن خان کی پر نواسی تھیں۔ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔دسویں جماعت میں انگریزی تعلیم حاصل کررہا تھا کہ   1919ءمیں تحریک ترک موالات کے سلسلے میں ندوۃ العلماء لکھنؤمیں داخل ہو گیا 1924ء میں اوّل درجے میں وہاں سے سندِ فراغت حاصل کی۔ پھلواری شریف کی ہمایونی جامع مسجد میں برسوں خطابت کاکام کرتا رہا لیکن آج تک کتاب دیکھ کر خطبہ نہیں پڑھا۔ہر جمعہ کو کسی خاص موضوع پر اپنا تصنیف کردہ عربی خطبہ زبانی دیتا رہا۔آہستہ آہستہ یہاں اردو خطبہئ جمعہ رائج کیا۔اس سے پہلے اردو خطبے کا تصور بھی پھلواری شریف میں گناہ عظیم تصور کیا جاتا تھا۔

        میرے لکھنے کا آغاز 1921ء سے ہوا۔پہلے مولانا ابوالکلام آزاد اورمولانا ظفر علی خاں کی زبان پسند کرتا تھا لیکن بعد میں خواجہ حسن نظامی کی سلیس زبان کو زیادہ مفید سمجھ کر اختیار کرلیا۔

        علامہ اقبالؔ کی فرمائش پر 1930ء میں کپور تھلہ(مشرقی پنجاب) کی شہرہ آفاق مراکشی مسجد کی خطابت سنبھالی۔

         1946ء میں خانقاہ سلیمانیہ پھلواری شریف کاسجادہ نشین بنا دیا گیا لیکن یہ منصب میرے فطری مزاج سے موافقت نہ رکھتا تھا۔اہل خاندان کے دباؤ سے مجبور ہو کر قبول کر لیا تھا۔کپور تھلہ کی خطابت سے استعفا دینے کے لئے آیا تو اہل کپور تھلہ نے مسجد چھوڑ کر جانے کی سخت مخالفت کی اور وقت کے فیصلے کا انتظار کرنے کے لیے میں ٹھہر گیا۔

         1947ء کا انقلاب آیا تو مبادلہ آبادی کے فیصلے کے مطابق لاہور آگیا۔چند ماہ کے لیے پولیس کی اصلاح کے لیے متعین ہوا یعنی مولوی سب انسپکٹر پولیس۔

 1948ء میں اسلامک ری کنسٹرکشن میں ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے علامہ لیو پولڈ اسد نے بلا لیا،یہ محکمہ جلد ہی ختم ہو گیا۔

        پھر ریڈیو پاکستان لاہور نے ہفتے وار تفسیر قرآن بیان کرنے کے لیے مدعو کیا جو آٹھ ماہ جاری رہا۔تفسیر کے علاوہ بھی اسلامیات پر بے شمار تقریریں ہوتی رہیں۔ آج تک میرے اندازے کے مطابق کم وبیش سات سو تقریریں مختلف موضوعات پر لاہور،راولپنڈی،آزاد کشمیر اورکراچی ریڈیو سے نشر ہو چکی ہیں،یہ سلسلہئ تقاریر اب بہت کم ہو گیا ہے۔متعدد تقریریں کراچی اور لاہور ٹیلی وژن سے بھی ٹیلی کاسٹ ہوئی ہیں،اور اب بھی ہوتی ہیں۔

         1951ء میں ماہنامہ”فیض الاسلام(راولپنڈی)کی ادارت میرے سپرد ہوئی،نویں دسویں جماعتوں کو دینیات بھی پڑھاتا رہا اور درس قرآن بھی دیتا رہا۔

         1952ء میں ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم مرحوم سے ملاقات ہوئی،شاید پانچ منٹ گفتگو ہوئی ہو گی کہ انھوں نے فرمائش کی کہ کل ہی سے ہمارے ادارۂ ثقافت اسلامیہ میں کام شروع کردو،میں نے دو ہفتے کی مہلت مانگی۔اس کے بعد ادارے میں کام شروع کردیا اور  1973ء تک اس سے وابستہ رہا،اس ادارے سے میری اکیس تصانیف شائع ہو چکی ہیں جن کی فہرست مع اشاریہ مضمون یہ ہے:-

۱۔ مقام سنت:-

حدیث کا کیا مقام ہے؟ واجب الاتباع حدیث ہے یاسنت!

سارے احکام حدیث ابدی طور پر ناقابل تبدیل ہیں یا نہیں؟

اطاعت رسولؐ کا کیا مطلب ہے؟ وغیرہ۔(دوسرا ایڈیشن) سنہ طباعت  1952ءوجولائی  1959ء   ۔

۲۔انتخاب حدیث:-

 زندگی کی اعلیٰ اقدار سے تعلق رکھنے والی ایسی احادیث کا مجموعہ جو فقہ جدید کی تشکیل میں بھی مدددیں (دوسرا ایڈیشن) سنہ طباعت  1954ء و 1974ء۔

۳۔ گلستان حدیث: -

        چالیس ایسی احادیث کی تشریح جن کی تائید آیات قرآنی یا دوسری احادیث سے ہوتی ہے۔(سنہ طباعت 1959ء)

۴۔ اسلام۔آسان دین: -

ہماری فقہی موشگافیوں اور تنگ نظریوں نے اسلام کو مشکل بنا دیا ہے ورنہ وہ آسان ترین دین ہے۔ (سنہ طباعت 1955ء)

۵۔اسلام اور فطرت: -

اسلام کس لحاظ سے دین فطرت ہے؟ فطرت کا کیا مفہوم ہے؟ بنگلہ زبان میں اس کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے (سنہ طباعت  1964ء)

۶۔اجتہادی مسائل:-

 اجتہاد کا دروازہ بند نہیں۔بہت سے مسائل ایسے ہیں جن پر ازسر نوغور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے کئی مسائل پر مجتہدانہ روشنی ڈالی گئی ہے

۷۔مسئلہ تعدد ازدواج:-

اس کی مطلق اجازت ہے یا مشروط؟ آنحضور کے تعددازداج میں کیا مصلحتیں تھیں؟(سنہ طباعت جون  1959ء)

۸۔ازواجی زندگی کے لیے اہم قانونی تجاویز:-

نکاح،طلاق،خلع،مہر،جہیزوغیرہ کے لیے قانونی تجویزیں پیش کی گئیں ہیں اور موجودہ عائلی قوانین میں ان میں سے اکثر تجاویز کو قبول کیا گیا ہے۔

۹۔اسلام اور خاندانی منصوبہ بندی: -

اس عنوان پر اتنا مواد ہے کہ اس پر اضافہ مشکل ہے یہ میری کتاب”تحدید نسل“کی مکمل شکل ہے۔ (سنہ طباعت جون  1970ء)

10۔رویت ہلال:-

کیا فلکیات کے فن پر اعتماد کیا جا سکتا ہے تاکہ ہماری دینی تقریبات اجتماعی شکل اختیار کرسکیں؟

11۔ کمرشل انٹرسٹ کی فقہی حیثیت:-

علما ء کیوں صرف اُس کو ناجائز کہتے ہیں جبکہ اس سے بدتر چیزیں مثلاً بٹائی،مضاربت،بیع سلف،کرایہ مکان وغیرہ کو جائز قرار دیتے ہیں۔(سنہ طباعت جنوری  1959ء)

12۔ اسلام اور موسیقی: -

محدثین،فقہا اور صوفیہ اور مزامیر کے بارے میں کیوں مختلف الرائے ہیں اور وہ ان کے کیا دلائل دیتے ہیں۔(دوسرا ایڈیشن)

13۔ مقالات: -

بہت سے موضوعات پر مجتہدانہ علمی انداز سے گفتگو کی گئی ہے۔ علمی،ادبی،تاریخی،دینی ہر طرح کے مضامین ہیں اور ہر ایک میں کوئی نہ کوئی نیا نکتہ یا تحقیق ہے۔

14۔ مجمع البحرین: -

ایسی احادیث جو سنی اور اثنا عشری میں متفق علیہ ہیں۔دو شیعہ علماء کاتبصرہ بھی شامل ہے۔ (سنہ طباعت   1969ء)

15۔ پیغمبر انسانیت: -

سیرت رسول اس زاویہ نظر سے کہ آپؐ نے کیسے نازک مرحلوں پر انسانی واخلاقی قدروں کی محافظت فرمائی۔

16۔ زیر دستوں کی آقائی:-

طہ حسین مصری کی دلچسپ کتاب”الوعد الحق“ کا ترجمہ۔

17۔ الفخری:-

 شیعہ مؤرخ ابن طقطقیٰ کی مشہور تاریخ”الاداب السلطانیہ والدول الاسلامیہ کا پہلا اردو ترجمہ(سنہ طباعت اکتوبر  1962ء)

18۔ معارف حدیث:-

حاکم کی کتاب معرفتہ علوم الحدیث کا پہلا اردو ترجمہ یہ فن حدیث کی بڑی گرانقدر کتاب ہے۔(سنہ طباعت  1970ء

19۔چند ازدواجی مسائل:-

نابالغی کا نکاح،دفعتہ تین طلاقیں، خلع،نشے میں طلاق،جہیز حضانت پر سیر حاصل گفتگو۔(سنہ طباعت  1972ء)

20. پرورش اطفال: -

               عقل آنے تک بچوں کی دیکھ بھال میں احتیاط۔

21۔ مجموعہ مضامین: -

مختلف علمی،تاریخی،ادبی اور دینی موضوعات پر معلومات افزا مضامین (تشنہ طبع)

22۔ اصول فقہ:-

               خضری کی ”اصول الفقہ“کا ترجمہ(تشنہ طبع)

        ان کے علاوہ ادارہ ثقافت اسلامیہ سے باہر جو کتابیں شائع ہوئی ہیں وہ یہ ہیں،

1۔The Holy Quran at a glance:-

قرآن پاک کی تعلیمات مضمون وار مع انگریزی ترجمہ ومفید حواشی،یہ کتاب”قرآن سوسائٹی لاہور کی فرمائش پر لکھی تھی جو اس نے شائع کی۔ اس کا دوسرا ایڈیشن بھی نظر ثانی کے بعد طبع ہونے والا ہے۔

۲۔ قرآنی سبق: -

               بچوں کے لئے سلیس ترین اردو میں قرآنی تعلیمات کے ۸۲ سبق یہ کتاب دارالاشاعت لاہور نے لکھوا کر شائع کی۔

۳۔ہمارا دین: -

اسلامی تعلیمات کی وہ خصوصیات جن کی وجہ سے اسلام سب سے زیادہ محبوب دین ہے یہ کتاب پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور کی فرمائش پر لکھی اور اس نے شائع کی (سنہ طباعت مارچ 1971ء

        قیام پاکستان سے پہلے متحدہ ہندوستان میں جو کتابیں شائع ہوئیں وہ یہ ہیں۔

۱۔ماہنامہ”پیشوا“ کا رسول نمبر 1940ء: -

               سیرت نبوی اور وفوداورخطبات نبوی،

۲۔ ماہنامہ”پیشوا“ کا رسول نمبر  1941ء

               اسلامی نظام اخلاق،

۳۔ ماہنامہ ”پیشوا“ کا رسول نمبر 1943ء:-

                چند بڑے اعترضات کا جواب،

۴۔ تلقینِ حق:-

۵.باطل شکن-:

۶۔ اثبات حق:-

یہ تینوں کتابیں ”وہابی“نظریات کے خلاف لکھی تھی لیکن ان کے بہت سے مسائل سے رجوع کر چکا ہوں۔ یہ تینوں لکھنؤ سے  شائع ہوئی تھیں،

۷۔ سین وجیم: -

سوشلزم اور جمہوریت پر دلچسپ مکالہ جسے موتمر عالم اسلامی کراچی نے شائع کرایا۔

۸۔ مختصر سا میلاد نامہ:-

               پٹنہ سے شائع ہوا،

۹۔ ادبی استفتاء:-

                یہ کئی بار نظر ہائے ثانی کے بعد مختلف جگہ سے شائع ہوا۔

10۔شان اردو: -

یہ مدرستہ البنات(جالندھر)نے شائع کی تھی،اس میں دکھایا گیا ہے کہ اردو زبان کو دوسری تمام زبانوں پر کیوں فوقیت حاصل ہے؟

        کتابوں کے علاوہ جو بے شمار مضامین رسالوں یا اخباروں میں شائع ہوتے رہے ان کی تعداد بتانا مشکل ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے کم وبیش پچھتر(75) رسالے اور اخبار ہیں جن میں میرے مختلف مضامین شائع ہوتے رہے ہیں وہ یہ ہیں:-

پھلواری شریف،پٹنہ:-

               غریب نواز،مساوات،امارت،امانت

لکھنؤ:-

               سچ،صدقِ جدید،ہمدم،اودھ پنچ،قیام الدین،نگار۔

دہلی:-

               پیشوا،منادی،الجمعیت،نظام المشائخ،دعوت۔

 لاہور:-

مسلمان،کوثر،امروز،نوائے،وقت،آفاق،احسان،استقلال،پاک جمہوریت، چٹان،  شہاب،  اقدام، لاہور،مسلمہ،آئینہ،طلوع اسلام،لیل ونہار، اردوڈائجسٹ، زعفران، اسلامی زندگی،نورنگ،دوست،زمیندار،الاعتصام،پاکستان ٹائمز،ثقافت،اور المعارف، صحیفہ،سیارہ، وسیارہ،ڈائجسٹ، منہاج،تہذیب الا خلا ق حمایت اسلام  روح اسلام۔

کراچی:-      حریت،جنگ،مہرنیمروز،خاتون پاکستان،المجلس،تاج،امام،الوارث،اقبالریویو،ریاض،

اخبار الطب، نمکدان،فاران، العلم۔

اسلام آباد:-   فکر ونظر،الدراسات الاسلامیہ،

راولپنڈی:-    فیٖ الاسلام۔

امرتسر:-     البیان۔

 قصور:-        انوار الصوفیہ

فیصل آباد:-    السید،المنبر۔

ملتان:-       آستانہء زکریا۔

کپور تھلہ:-     المسیح،کپور تھلہ اخبار،غریب۔

پٹھان کوٹ:-  ترجمان القرآن،دارالاسلام۔

منڈی بہاؤالدین:-  صوفی

لندن:-       اسلامک ریویو۔

بنارس:-      ترجمان۔

بنجور:-        مدینہ۔

کلکتہ:-        الحق۔

کوئٹہ:-        بلوچ۔

        ان تمام رسالوں اور اخباروں میں کچھ مضمون تو ان کی فرمائش پر لکھ کر بھیجے اور کچھ از خود بھیجے اور کچھ انہوں نے دوسرے اخباروں اور رسالوں سے نقل کئے۔

        یوں تو تفسیر، حدیث،سیرت،فقہ،تاریخ،ادب اور دیگر موضوعات پر میری تصانیف و مضامین بہت ہیں۔لیکن دراصل میرا اصل موضوع وہ فقہی مسائل ہیں جو براہ راست زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور جہاں عصری تقاضے اپنی مشکلات کا حل چاہتے ہیں۔دوسروں کی نگاہ میں میری فکر صحیح ہو یا غلط،لیکن میرا قلم اس وقت تک نہیں چلتا جب تک عقلی ونقلی دلائل سے میراضمیر مطمئن نہ ہو جائے۔ پامال مضامین کی طرف بھی میرا قلم متوجہ نہیں ہوتا۔ہمیشہ ان موضوعات پر قلم چلتا ہے جن پریا تو کسی نے کچھ لکھا ہی نہ ہو یا شاذونادر لکھا ہو۔ جب تک کوئی نیا نکتہ۔نئی تحقیق،نئی دریافت نہ ہو تب تک پامال موضوعات پر لکھنے کی طرف طبیعت مائل نہیں ہوتی۔میری فطرت جامد تقلید سے ہمیشہ گریزاں رہی ہے اس لیے پرانی لکیروں کو پیٹتے رہنے میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔لیکن اپنی کسی تحقیق کو حرف آخر نہیں سمجھتا۔میری تحقیق کا مطلب فقط یہ ہے کہ میں یہاں تک پہنچ سکا ہوں۔اس سے آگے ہر دوسرا محقق لے جا سکتا ہے۔

         1965ءمیں مجھے فریضہ حج ادا کرنے کی توفیق نصیب ہوئی۔حکومت سعودیہ نے مجھے رابطہ عالم اسلامی کا رکن بنایا،مکہ مکرمہ کے روزنامہ ”الیوم“ نے تصویر کے ساتھ میرا انٹرویو شائع کیا۔جدہ ریڈیو نے مجھ سے کئی تقریریں نشر کرائیں۔ مجھے جَوفِ کعبہ کے اندر جاکر نفل ادا کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔موتمرعالم اسلامی کے اجلاسوں اور شاہی دعوتوں میں شرکت کا موقع ملا۔

         1967ء میں (اسرائیلی حملے سے پہلے) مرکزی وزارت قانون نے مجھے مغربی پاکستان کی طرف سے نمائندہ بنا کر قاہرہ بھیجا جہاں فقہ اسلامی کا سیمیناری ہفتہ منایا گیا تھا۔ یہاں کے پہلے اجلاس میں پہلی عربی تقریر میری ہوئی جس کا موضوع تھا ”اجتہاد“۔اس کا خلاصہ مصر کے ریڈیواور ٹیلی ویژن اسٹیشنوں نے نشر کیا۔میری اس تقریر کے بعد مصر کے نامور علماء اور اہل قلم نے اپنی تقریروں میں میری پوری پوری تائید کی۔ان میں شیخ ابوزہرہ۔شیخ علی خفیف اور الستاذِ قانون شیخ عبدالباسط خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اس سیمینارکا ایک عظیم الشان اجلاس قاہرہ کی مجلس الامّہ(پارلیمنٹ ہاؤس) میں بھی ہوا جس میں ”عورتوں کے حقوق“ پر میری عربی میں تقریر ہوئی اور پورے مجمع نے پر جوش تالیوں کے ذریعے اظہار پسندیدگی کیا۔اس کے بعد قاہرہ کی ایک معزز خاتون ڈاکٹر طلعت رفاعی نے میری تائید میں تقریر کی۔پھر معزز خاتون نے۔ دوبارمیرے اعزاز میں چند معززین شہر کو پر تکلف چائے دی۔یہاں کی دوسری نشست میں جو ڈھائی گھنٹے جاری رہی،ان تمام غلط فہمیوں کو دور کیا جو پاکستان کے خلاف ان کے اندر پائی جاتی تھیں یا پیدا کی گئی تھیں۔

        دوسرے دن جناب محمود عزام اپنے ساتھ حُلوان لے گئے جو قاہرہ سے تیس میل پر واقع ہے۔یہ عرب لیگ کے کونسلر ہیں اور پاکستان کے مصری سفیر عبدالوہاب عزام مرحوم کے بھائی ہیں۔حُلوان میں انھوں نے بڑا پر تکلف لنچ دیا۔

        شعر وسخن سے مجھے ہمیشہ ہی دلچسپی رہی ہے لیکن خود بہت کم شعر کہے ہیں اور جو کہے ہیں ان میں ہزلیاتی یا مزاحیہ رنگ بلا ارادہ غالب ہو گیا ہے۔تخلص ارمانؔ ہے۔

        فن حرب میں بنوٹ سے خاصی دلچسپی رہی ہے۔ماہنامہ بلوچ میں اس عنوان سے میرا ایک مفصل مضمون بھی شائع ہو چکا ہے۔فن قرأت و تجوید سے صرف دلچسپی نہیں بلکہ شغف رہا ہے۔اللہ کا ایک بہت بڑا احسان مجھ پر یہ ہے کہ اس نے مجھے تقریر اور تحریر دونوں کی صلاحیت بخشی ہے۔فن موسیقی سے بھی خاصی دلچسپی رہی ہے لیکن بطور فن اسے کبھی حاصل نہیں کیا۔میرا ذوق موسیقی اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ اچھا گانا اچھا لگتا ہے اور بھدا گانا بھدا۔ایسا کیوں ہے؟مجھے نہیں معلوم۔اس کا تعلق منطق سے نہیں،ذوقِ سلیم سے ہے۔بالکل اسی طرح جیسے کوئی آدمی غلط بے وزن مصرعہ پڑھے تو تقطیع کا فن جانے بغیر دماغ کو ایک ٹھوکر سی لگ جاتی ہے۔

        ادیبوں اور شاعروں میں جن حضرات سے میری ملاقاتیں اور مذاکرے رہے ہیں ان میں سے چندیہ ہیں:-

         عشرتؔ لکھنوی،مولاناشررؔ لکھنوی،عزیزؔ لکھنوی،صفیؔ لکھنوی،یاس ؔیگانہ چنگیزی،مولوی نورالحسن کاکوروی(مصنف نور اللغات) سید جالبؔ دہلوی،حسرتؔ موہانی،جوشؔ ملیح آبادی،ریاضؔ خیرآبادی، جگرؔ مرادآبادی،وصلؔ بلگرامی،برہم ؔگور کھپوری، نیاز ؔفتح پوری وغیرہم۔

        آخر میں اپنی دو مصروفیتوں کا ذکر کرنا شاید نامناسب نہ ہوگا۔ایک تو ہے جماعت اسلامی سے وابستگی و علیحدگی اور دوسرے محکمہء اوقاف مغربی پاکستان سے اپنی وابستگی اور علیحدگی میں حسن اتفاق سے جماعت اسلامی کے بانیوں میں ہوں۔اس کے سب سے بڑے حلقے۔امرتسر سے ابنالے تک کا امیر بھی رہا ہوں۔پٹھان کوٹ میں کوئی دوماہ قیام کر چکا ہوں۔لیکن میں زیادہ دیر وابستہ نہ رہ سکا۔مولانا امین احسن اصلاحی اپنے گروپ کے ساتھ میری علیحدگی کے سولہ سال بعد الگ ہوئے۔فرق یہ ہے کہ میرے اور اہل جماعت کے انسانی تعلقات ومراسم ختم نہیں ہوئے کیونکہ میں اس کا قائل کبھی نہ رہا کہ چند تصوراتی اختلاف کی وجہ سے انسانی تعلقات بھی ختم کر دئیے جائیں۔

1968ء کے اواخر میں مجھے مساجد اسلام آباد کا ایڈمنسٹریٹر بنا کر بھیجا گیاتھا، ایک سال کے لیے لیکن چھ ماہ ہی میں مستعفی ہو کر واپس آگیا کیونکہ مجھ سے سیاسی کام لینے کی زیادہ ضرورت سمجھی گئی تھی اور اصل مقصد۔خطبا وائمہ کی تربیت کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی،میں نے یہاں خاصا مالی نقصان بھی اٹھایا، حتیٰ کہ میرا ٹی اے ڈی اے بھی آج تک ادا نہ کیا گیا۔لیکن اس کا کوئی افسوس نہیں بلکہ میں جو اوقاف کی آمدنی سے تنخواہ لیتا رہا اس پر بھی مجھے افسوس ہے۔میری موجودہ آمدن اگرچہ سو فیصد حلال نہیں کہی جا سکتی،لیکن قبروں پر جو چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں ان کے متعلق علمائے اوقاف کو جلد فیصلہ کرنا چاہئے کہ یہ ”ما اھل لغیر اللہ بہ“ کی زد میں آتے ہیں یا نہیں۔ اگر منطقی دلائل سے اسے حلال ثابت بھی کر دیا جائے تو اس کے سخت مشتبہ ہونے میں تو شک ہی نہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ان چڑھاؤں کو”تبرک“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس سے گریز کی بجائے اور الٹی لپک پیدا ہوئی ہے۔مفسرین نے معلوم نہیں کہاں سے”عندالذبح“ کی قید لگا کر اسے ذبیحوں کے ساتھ مختص کردیا ہے۔غیر اللہ پر خواہ رقم چڑھائی جائے یا مٹھائی یا کھانا یا کپڑا سب یکساں ہیں۔اس میں صرف ذبح کئے جانے والے چوپائے ہی داخل نہیں۔یہ چڑھاوے کس تھان پر ہیں یا بُت پر یا قبر پر یا تغرئے پر یا گھوڑے پر کہیں ہوں ان میں کوئی فرق نہیں۔مشتبہ روزی میں برکت کہاں سے آسکتی ہے۔المعارف میں ”مااہّل بہ لغیر اللہ“ پر ایک مضمون شائع ہو چکا ہے)

        میری زندگی کا ایک دلچسپ حصہ بعض روحانی قسم کے لوگوں کی ملاقات ہے۔ ان میں ایک عالم، ایک انجینئر،ایک درزی،ایک پان فروش،ایک حکیم،ایک ریلوے ملازم،ایک عورت،ایک کمسن بچی اور ایک پندرہ سال کا نوجوان بھی ہے۔ان کو جاہ اور مال کی طلب سے بالکل بے نیاز پایا اور مجھے اعتراف ہے کہ میری سیرت کی تعمیر میں ان کا بڑا ہاتھ ہے۔ان تمام باتوں کے باوجود اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کشف و تصرفات وغیرہ کا خدا رسیدگی یا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔یہ ایک مشق یا فن ہے جسے Occult یعنی علوم خفیہ کہتے ہیں،اسے کوئی بھی حاصل کرسکتا ہے۔ اس قسم کی بعض قوتیں کچھ لوگوں کو قدرتی اور پیدائشی طور پر بھی حاصل ہوتی ہیں اور بعض کو مشق سے حاصل ہو جاتی ہیں۔اچھے لوگ اس سے اچھا کام لیتے ہیں لیکن  اس کے بل پر جو اصلاح ہوتی ہے وہ صوماً پائدار نہیں ہوتی۔ ایک مسلمان فقیر کی دوچار کرامات دیکھ کر اگر کوئی معتقد ہو جائے تو اس کے ساتھ یہ خطرہ لگا رہتا ہے کہ کسی غیر مسلم کی دس کرامات دیکھ کر وہ ادھر لڑھک جائے گا۔اس پر میرا ایک مفصل مضمون”روز نامہ احسان“میں شائع ہو چکا ہے۔

        اس وقت قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے ہوں۔بلاوے کا انتظارہے۔ اس وقت تک میرے پسماندوں میں سات لڑکیاں۔ایک فرزند۔بارہ نواسیاں۔بارہ نواسے اور دو پڑ نواسے ایک پڑ نواسی ہیں۔

        یہ زندگی کا مختصر سا خاکہ ہے۔ایک بہت بڑا حصہ ہم نے چھوڑ دیا ہے اور وہ ہے اپنا”نامہئ سیاہ“ لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا بلکہ شاید الٹا نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔میری روحانی بیماریاں اور عملی سیاہ کاریاں اتنی زیادہ ہیں کہ ان کے ذکر کے لئے دفترکے دفتر درکار ہیں۔تاہم امید خیر سے کبھی خالی نہیں رہا۔   ؎

قطرۂ زاہرِ رحمتِ تو بس ست

شستنِ   نا مہء سیاہ ہمہ۔۔۔

(جامی)

        خاصے مطالعے اور بہت سے ذاتی تجربوں کے بعد کئی باتیں اب میرے ایمان کا جز بن چکی ہیں مثلاً

(۱)    اس پوری کائنات میں مجھے ہر طرف رحمت ہی رحمت اور خیر ہی خیر نظر آتی ہے۔زندگی وموت،صحت ومرض،امیر وغریبی،دوستی ودشمنی، جنگ و صلح،آرام وآلام،بے فکری وفکرمندی،سب کچھ رحمت اور خیر ہے۔ دیکھنے کی چیز یہ نہیں کہ ہم کن حالات سے گزررہے ہیں۔دیکھنا صرف یہ چاہیے کہ جس حالت سے ہم دو چار ہیں اس میں ان قدروں کو اختیار کئے ہوئے ہیں یا نہیں جو اس حالت میں اختیار کرنا چاہئے۔جسے شر کہتے ہیں وہ صرف اپنے غلط عمل یا غلط رجحان(ATTITUDE)یا غلط زاویۂ نظر کا دوسرا نام ہے۔

 (۲)    انسانی ملکیت کا تصور شرکِ اکبر ہے۔اسلام میں صرف امانت اور عادلانہ حق استعمال کا تصور ہے۔ ملکیت کا نہیں۔

(۳)    تمام فتنوں کی سب سے بڑی جڑ ”کرنسی“ کا وجود ہے۔جنت میں ساری نعمتیں ہوں گی۔کرنسی نہیں ہوگی،کرنسی جہنم میں ہو گی جس سے داغا جائے گا۔

(۴)   اسلام کا سیاسی اقتدارکی غرض صرف یہ ہے کہ کوئی کسی کا استحصال نہ کر سکے،وہ کسی کے عقیدہ وعبادات میں کوئی دخل نہیں دیتا۔بلکہ بہتر وصحیح عقیدہ وعبادت صرف پیش کرتا ہے۔

        بے موقع نہ ہوگا اگر میں یہاں تحدیث نعمت کے طور پر چند ان باتوں کا ذکر کردوں جن میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اولیت وتقدم کا شرف بخشا ہے۔

        پھلواری شریف کی پوری  ہفت صد سالہ تاریخ میں،میں پہلا شخص ہوں جس کے ساتھ چند خصوصیات کی اولیت وابستہ ہے،

        (۱) کبھی کتاب دیکھ کر خطبہء جمعہ نہیں دیا نہ کوئی رٹا ہوا خطبہ دیا۔اپنا ہی عربی خطبہ زبانی دیا۔(۲) فن قراعت وتجوید حاصل کیا(۳) ریڈیو سیٹ اور ٹیلی ویژن سیٹ اس وقت خریدا جب لوگ اس کے ناجائز ہونے میں شامل تھے(۴) ریڈیو پر تقریریں شروع کیں (۵) ٹیلی ویژن پر تقریریں کیں (۶)جمعے اور عیدین کے خطبوں میں لاؤڈ اسپیکر استعمال کیا جبکہ لوگ اسے ناجائز بتا رہے تھے۔(۷) بڑی جدوجہد کے بعد اپنے وطن میں اردو خطبہ جمعہ رائج کیا(۸) مصر کا سفر کیا (۹)رابطہ عالم اسلامی کا رکن ہوا۔(10) اردو تقریریں جدہ ریڈیو سے نشر ہوئیں (۱۱)انٹرویو روزنامہ الیوم (مکہ مکرمہ)نے شائع کیا۔(12) میری ایک عربی تقریر لاہور ریڈیو سے مشرق اوسط کے لئے ریکارڈ کی گئی۔ (13) بنوٹ کا فن حاصل کیا (14) پاکستان ہجرت کرکے آیا(15) صوبہ بہار کے رسمی مہر کو ختم کیا جہاں ہنوز زر مہر کا مطلب ہی”چالیس ہزار روپئے سکہ رائج الوقت اور دو دینار سرخ“ سمجھا جاتا ہے (16) ندوۃ العلماء لکھنئو سے فارغ التحصیل ہو کر سند فراغ حاصل کی(17) وطن سے باہر جا کر خطابت کا عہدہ سنبھالا۔

        ان تمام باتوں سے دوسرے لوگ اب محروم نہیں۔متعدد چیزیں دوسرے اہل وطن نے بھی بہت بعد میں اختیار کرلی ہیں۔مجھے صرف اولیت کا شرف حاصل ہے۔ان میں کئی باتیں ایسی ہیں جن میں میری اولیت وانفرادیت ابھی تک قائم ہے۔

        اسی طرح کی چند اولیات کا شرف مجھے ہندو پاکستان کے علماء میں بھی حاصل ہے،مثلاً۔

        (۱) خاندانی منصوبہ بندی پر کتاب لکھی(۲)جہیز کے سنت نہ ہونے پر کئی مضمون لکھے(۳) طریقۂ دفن میں اصلاح کی ضرورت پر مضمون لکھا(۴) شریعت میں فنون کا کہاں تک دخل ہے اسے واضح کیا۔(۵) ازدواجی زندگی کے بہت سےمسائل۔مثلاًکم سنی کی شادی،طلاق سہ گانہ،حلالہ،خلع،حضانت وغیرہ پر جامد تقلید سے ہٹ کر مفصل و مدلل مضامین لکھے(۶) رویت ہلال پر رسالہ لکھ کر بتایا کہ اس میں فنِ فلکیات پر اعتماد کرنا خلاف شریعت نہیں۔(۷) انسانی ملکیت کے تصور کو غیر اسلامی اور اس کی جگہ امانت کو اسلامی تصور بتایا (۸) سُنّی و اثنا عشری فرقوں کی متفق علیہ روایات کو ایک کتاب میں یکجا کیا۔(۹) بعض ایسے مضامین پر مدلل علمی کتابیں اور مضامین لکھے جن پر علماء کچھ لکھنے کی ہمت نہ کر سکتے تھے مثلاً موسیقی،مصوری،رقص، رواجی پردہ وغیرہ (10) تفسیر،حدیث،فقہ،تصوف اور تاریخ میں اسلاف پرستی سے الگ ہو کر نئے نکات اور تصورات پیش کئے۔ (11) اردو زبان کے کئی اصلاحی قواعد مرتب کئے۔مثلاً امالے کا قاعدہ،غلط املا غلط تلفظ اور غلط ترکیبوں کی نشاندہی وغیرہ۔(12) بعض اہم کتابوں کا پہلا اردو ترجمہ کیا۔مثلاً ابن طقطقیٰ کی الفخری،حاکم کی معرقۃ علوم الحدیث،خضری کی اصول الفقہ وغیرہ۔