Monday, 15 September 2025

Hazrat Maulana Shah Hasan Miyan Phulwarvi


  مولانا شاہ حسن میاں ؒ


       حضرت قبلہؒ  مولانا شاہ محمد سلیمان پھلواروی کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔  ۱۳۰۶؁ ھ میں ولادت ہوئی۔ اور صرف پچیس سال کی عمر پا کر   ۱۳۳۱؁ ھ میں انتقال کیا۔ دارلعلوم ندوۃ العلماء سے عالم ہوئے،علامہ سید سلیمان ندوی اور مولانا ظہور احمد وحشی شاہجہاں پوری ان کے ہم درس تھے،مولانا شاہ حسن میاں خوش بیان واعظ ذاکر اور مناظر الاسلام تھے۔ اسلامی تحریکات سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ کم سنی ہی میں بیس پچیس کتابیں لکھیں۔ ان میں ”تذکرہ ابوانجیبؒ(سلسلہ سہروردیہ کی تاریخ) غمِ حسین، شہادت حسین(واقعات کربلا کی تفصیلات مدلل بحوالجات) اور میلاد الرسول کو(جس میں حضور اکرمؐ کی سیرت پاک اور اس جناب آنحضور کے متعلق کتب سمادیہ کی بشارتیں اور مستشرقین کے خواجہائے عقیدت کو عاشقانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے) خاص شہرت حاصل ہوئی۔”غم حسین“ کے پانچ ایڈیشن ہوئے۔ مولانا حسن میاں صاحب کو اسماء الرجال، اور تصوف کی کتابوں سے خاص ذوق تھا۔ حضرت نے ان کو اپنے بزرگ حضرت مولانا شاہ صفت اللہ فریدی پھلواروی رحمتہ اللہ علیہ سے طریقہ قادریہ سہروردیہ میں مرید کرایا۔ اور خود اجازت و خلافت سے سرفراز کیا۔ افسوس کہ عمر نے وفا نہ کی       

؎  خوش درخشیدولے شعلہ مستعجل بود

مولاناسید حسن مثنیٰ ندوی آپ کے اکلوتے فرزند تھے جو پدر بزرگوار کی وفات کے وقت صرف چھ مہینے کے تھے۔ آپ ندوۃ العلماء سے فارغ ہو کر لکھنؤ یونیورسٹی سے فاضل حدیث ہوئے عربی، فارسی، اردو، انگریزی چاروں زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ ایک زبان کے مضامین وتالیفات کا دوسری زبان میں ترجمہ کرنا انکا دلچسپ مشغلہ ہے۔  مصری ناول نویس فکری اباظہ کے ایک عربی ناول کا ترجمہ ان کے قلم سے”مریم“ نامی شائع ہو چکا ہے۔ کئی سال تک دہلی میں حضرت خواجہ حسن نظامی صاحب مرحوم کے ہفتہ وار اخبار”منادی“ کے نائب مدیر رہے۔ پھر کئی سال تک بنگلور سے روز نامہ ”پاسبان“  اپنی ادارت میں نکالتے رہے پھرکراچی سے”مہر نیمروز“ نامی ایک معیاری علمی وادبی ماہنامہ اپنی ادارت میں نکالا جو پاکستان وہندوستان کے سنجیدہ ادبی حلقے میں مقبول ہوا۔ ان کے مضامین دوسرے معیاری پرچوں میں بھی اکثر شائع ہوتے رہتے ہیں۔ جن میں خاص طور پر قابل ذکر ماہنامہ خاتون ِ پاکستان کراچی ہے۔ اس رسالہ کی عام اشاعتوں میں جو قیمتی مضامین مولانا حسن مثنیٰ کے شائع ہوئے ہیں۔ وہ تو اپنی جگہ پر ہیں ہی۔ حضرت رسولِ خداؐ کے فرزند، ابراہیم بن النبی علیہ السلام کی والدہ محترمہ حضرت ماریہ قبطیہؓ کے متعلق آپ کی تحقیقات اہل علم کے خصوصی توجہ کی مستحق ہے، جس میں آپ نے ثابت کیا ہے کہ حضرت ماریہ قبطیہؓ  اُم المومنین تھیں، اور امہات مومنین میں داخل تھیں۔ ان کے قابل قدر مضامین دیگر معیاری پرچوں میں بھی اکثر شائع ہوتے رہتے ہیں۔ الغرض اہل علم اور اہل قلم میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہم زدفزد۔ ۳۱/مئی  ۱۹۹۸؁ ء کو آپ کا وصال کراچی میں ہوا

 

شاہ محمد ریحان چشتی قادری

 

No comments:

Post a Comment