مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی: ایک ہمہ جہت شخصیت:
مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی برصغیر
کی ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے دینی، سیاسی اور روحانی میدانوں میں گہرے
نقوش چھوڑے۔ ان کا شمار ان اکابرین میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو قوم و ملت
کی فلاح کے لیے وقف کر دیا۔
ابتدائی
زندگی اور سیاسی سرگرمیاں:
حضرت
قبلہ مولانا شاہ سلیمان پھلواروی کے دوسرے صاحبزادے تھے۔وہ 1312ھ پھلواروی شریف میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے والد اور
معروف عالم دین و صوفی، رہنما ٔے قوم و
ملت حضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی سے دینی علوم حاصل کیے اور اس کے ساتھ ہی
انگریزی تعلیم سے بھی آراستہ ہوئے۔ ان کی ایک نمایاں پہچان بر
صغیر کے نہایت خوش بیان و مشہورو پر جوش مقرر کی تھی، جس کی بدولت انہوں نے قومی اور سیاسی
تحریکوں میں فعال حصہ لیا۔ قومیات میں بڑی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔
۱۹۱۸-۱۹۱۹ء میں انہوں نے تحریکِ خلافت میں
نمایاں کردار ادا کیا۔ اپنے”سفرنامہ عراق“ میں وہاں انگریزوں کے مظالم کی
تفصیلات لکھی ، انگریزوں کے مظالم کی ان تفصیلات نے تحریک کے
لیے ایک اہم دستاویز کا کام کیا جسے آل انڈیا خلافت کمیٹی نے بڑے پیمانے پر تقسیم
کیا۔ بعد ازاں
آل انڈیا مسلم کانفرنس ہزہائی نس سر آغا خاں کی قیادت میں قائم ہوئی تو اس میں
نمایاں حصہ لیا۔ مرکزی جمعتہ علمائے ہند (کانپور) کی تحریک میں سرگرم رہے۔ پھر
تحریک مسلم لیگ میں بہت زیادہ سرگرمی دکھائی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے ایک فعال رکن اور صوبائی لیگ کے سربرآوردہ قائد تھے۔
آپ کی اس زمانہ کی اہم خدمتیں جو ملک کے انگریزی واردو جرائد میں شائع ہوئی تھیں
انھیں ایک رپورٹ کی شکل میں مجتمع کرکے شائع کیا جاچکا ہے۔
ان کی سب سے اہم سیاسی خدمات کا دور
تحریکِ مسلم لیگ کے عروج سے وابستہ ہے ، ان کی سرگرمیوں کا ثبوت ۱۹۳۲ء کے اخبار "الجمعیت دہلی"
کے ایک تراشے سے ملتا ہے، جس میں بی این
کالج پٹنہ میں منعقدہ جلسہ میلاد النبی جس میں پٹنہ ہأی کورٹ کے ججوں اور عام
ہندوں کی شرکت ہؤی تھی ، 16 ستمبر 1932ء کو یہ خبر شائع ہوئی۔ اس خبر کے مطابق، مولانا
شاہ حسین میاں نے اس جلسے میں "نہایت پرمغز اور اثر انگیز تقریر کی"، جس
کا مقصد طلبہ کو قومی خدمت اور سیاسی بیداری کی طرف راغب کرنا تھا۔ یہ تحریر اس
بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مولانا شاہ حسین میاں اس دور میں نہ صرف ایک مذہبی شخصیت
تھے بلکہ طلبہ اور نوجوانوں میں سیاسی وقومی بیداری پیدا کرنے کی تحریکوں میں بھی
سرگرم حصہ لیتے تھے۔ان کے علمی اور ادبی کارنامے بھی قابلِ ذکر ہیں، انہوں نے
متعدد مقالات اور مضامین تحریر کیے۔
روحانی اور خاندانی ورثہ:
مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی ایک
معروف عالمِ دین، صوفی بزرگ اور سیاسی رہنما تھے۔مولانا شاہ حسین میاں نے اپنے
والد حضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی کے بعد 1354 ھ میں خانقاہ سلیمانیہ کی سجادہ نشینی سنبھالی۔ اس سجادہ
نشینی کی ایک خاص بات یہ تھی کہ برصغیر کے مشہور ترین آستانوں سے انہیں سجادگی کی
دستاویزات پیش کی گئیں۔
ان کا خاندانی پس منظر بھی علمی اور
روحانی عظمت کا حامل تھا۔ ان کے بڑے بھائی مولانا شاہ حسن میاں پھلواروی نے
معروف کتاب "تذکرہ حضرت ابوالنجیب عبدالقاہر
السہروردی تصنیف کی تھی۔ مولانا شاہ حسین میاں کے وصال ( 5ربیع الثانی 1366ھ) کے بعد ان کے سنجھلے بھائی مولانا شاہ غلام حسنین چشتی
پھلواروی سجادہ نشین بنے۔ ان کے بعد یہ سلسلہ جناب شاہ محمد ریحان چشتی
تک پہنچا، جو خانقاہ سلیمانیہ کے موجودہ سجادہ نشین ہیں۔
مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی کی حیات، ان کی
سیاسی، قومی اور روحانی خدمات کے ساتھ ان کے خاندان کا علمی اور تصوفی ورثہ آج بھی ایک روشن مثال ہے۔
مولانا شاہ حسین میاں کی سیاسی اور
قومی خدمات کا اندازہ ان شخصیات کے تعزیتی پیغامات سے لگایا جا سکتا ہے جو ان کے
انتقال کے بعد ان کے اعزہ کو موصول ہوئے۔ ان میں گاندھی
جی، قائداعظم، شہید ملّت لیاقت علی خاں، الحاج خواجہ ناظم الدین، سر سید سلطان
احمد، راجہ صاحب محمود آباد، ڈاکٹر سید محمود وغیرہم کے اسماء خاص طور سے قابل ذکر
ہیں۔
عظیم شخصیات کے تعزیتی پیغامات:
یہ خط مہاتما گاندھی کی طرف سے ایک
تعزیتی خط ہے جو انہوں نے مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی کے انتقال پر لکھا تھا۔
خط کا متن
گھوسی، گیا
27 مارچ 1947
بھائی محمد سلمان صاحب،
آپ کا کارڈ ملا۔ حسین میاں کے انتقال کی خبر سن کر اچھا نہیں
لگا۔ میں آپ کو کیا تسلی دے سکتا ہوں، خدا آپ کو صبر دے۔
آپ کا
م۔ ک۔ گاندھی
گاندھی جی نے مولانا شاہ حسین میاں کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور مرحوم کے عزیزوں کو صبر کی تلقین کی۔(نوٹ :یہ خط گاندھی جی نے اردو زبان میں تحریر کیا ہے)
یہ خط بابائے قوم اور پاکستان کے بانی
قائداعظم محمد علی جناح کی جانب سے لکھا گیا ایک تعزیتی خط ہے جو انہوں نے مولانا
شاہ حسین میاں پھلواروی کے صاحبزادے سید علی اکبر قاصدکو بھیجا تھا۔
خط کا متن
BOMBAY, MALABAR HILLMOUNT PLEASANT ROAD,
24th March, 1947
Dear
Sir,
I
am in receipt of your letter of 18th March and I was very grieved to hear of
the death of your father. Please accept my sincere sympathies in your
bereavement
Yours
faithfully,
M.A. Jinnah
S.A. Akbar, Esq, Phulwarisharif (Bihar), PATNA.
یہ خط مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی کے انتقال پر اظہارِ افسوس اور ان کے خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ یہ تحریر اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مولانا شاہ حسین میاں کا انتقال ایک بڑا قومی نقصان سمجھا گیا تھا۔
یہ خط پاکستان کے پہلے وزیر اعظم جناب
لیاقت علی خان کا لکھا ہوا ایک تعزیتی خط ہے جو انہوں نے مولانا شاہ حسین میاں
پھلواروی کے انتقال پر بھیجا تھا۔
خط کا متن
گلِ رعنا ہارڈنگ ایونیو، نئی دہلی
تاریخ: دو شنبہ ، 16 ربیع الثانی 1366ھ
بسم اللہ
مکرمی! لسلام علیکم و رحمتہ اللہ علیہ و برکاتہ۔
حضرت مولانا شاہ حسین میاں کے وفات حسرت آیات کی خبر سن کر سخت افسوس ہوا۔ ملت اسلامیہ کے لیے بالعموم اور مسلم لیگ کے لیے بالخصوص
ان کی خدمات نہایت قابلِ قدر تھیں اور مرحوم کی رحلت سے ناقابل تلافی نقصان
پہنچا ہے۔ دعا ہے کہ خداوند تعالیٰ مرحوم کی جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور
آپ سب کو صبر جمیل اوران کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔
والسلام
لیاقت علی خاں
یہ خط مولانا شاہ حسین میاں کی سیاسی اور قومی خدمات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور واضح کرتا ہے ، ان کے انتقال کو مسلم لیگ اور پوری قوم کے لیے ایک بڑا نقصان سمجھا گیا۔
یہ خط پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل اور وزیر اعظم، جناب خواجہ ناظم الدین کی طرف سے لکھا گیا ایک تعزیتی خط ہے۔ یہ خط بھی مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی کے انتقال کے موقع پر بھیجا گیا تھا۔
خط کا متن
نئی دہلی ، 14مارچ 1947
بسم اللہ
مکرمی زادلطفہ،
قبلہ حضرت مولاناشاہ حسین میاں سجادہ نشین خانقاہ سلیمانیہ کےوفات حسرت آیات کا معلوم ہوکر بے حد ملال ہوا ۔ ان للہ وانا علیہ راجعون ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے اور خویش و اقربا کو صبر جمیل ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حضرت قبلہ صاحب فیضان روحانی سے اسی طرح مستفیض کرے جیسا آپ کی زندگی میں۔خانقاہ سلیمانیہ اور ملت کو بہت بڑا صدمہ پہنچا۔ مرحوم کی رحلت نے ملت میں ایک گہرا خلا چھوڑا ہے، وہ ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
والسلام۔ دعاگو خاکسار خواجہ ناظم الدین
یہ خط بھی مولانا شاہ حسین میاں کی قومی اور مذہبی خدمات کی اہمیت کو واضح کرتا ہے اور ان کے انتقال کو مسلم لیگ کی قیادت نے ایک بڑا روحانی اور قومی نقصان سمجھا۔
1932ء کے اخبار "الجمعیت دہلی" کا تراشہ ، اس میں مولانا شاہ حسین میاں پھلواروی کی سیاسی اور تعلیمی سرگرمیوں کا ایک اور ثبوت ہے۔
No comments:
Post a Comment