Tuesday, 16 September 2025

Syed Ali Akbar Qasid


 تحریک امداد باہمی پاکستان اور سید علی اکبر

عکس سیدعلی اکبرقاصد

        سید علی اکبر پھلواری شریف کے مشہور ومعروف خانوادہ تصوف کے چشم و چراغ تھے۔  سیدعلی اکبر اُس گھرانے کے فرد تھے جس کا ماحول تزکیۂ نفس، تنقیۂ فکر، خدمت علم اور خدمت خلق رہا ہے۔یہی سبب ہے کہ وہ تمام خصوصیتیں ان کے اندر موجود تھیں جو اس ماحول کا لازمی نتیجہ ہیں  ۱۸۵۷ ءپہلی جنگ آزادی میں حضرت مولا ناشاہ سلیمان پھلواروی پیدا ہوئے تھے اور ۱۹۲۰ء  کی دوسری جنگ آزادی میں جب کہ تحریک خلافت کا عہد شباب تھا نامور دادا کے پوتے سید علی اکبر پھلواری شریف پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ان کے والد ماجد حضرت مولانا شاہ حسین میاں کی زندگی بھی سراپا جدوجہد تھی وہ عہد خلافت سے لے کر مسلم لیگ کی نشاۃ ثانیہ اور قیام پاکستان کے فیصلے تک مسلسل مصروف خدمت رہے۔ بزم صوفیا،جمعیتہ ا لعلماء،آل انڈیا مسلم کانفرنس، اور آل انڈیا مسلم لیگ کے ممتاز قائدین میں اُن کا شمار تھا، وہ خوش بیان خطیب اور سیاسی رہنما تھے۔قائد اعظم،علامہ اقبالؔ،نوابزادہ لیاقت علی خاں،خواجہ ناظم الدین، سرعلی امام،سید عبدالعزیز،راجہ محمود آباد،شوکت علی،قطب میاں فرنگی محلی۔آزاد سبحانی، پیر غلام مجدد،نواب اسماعیل خاں،غلام بھیک نیرنگ، ظفر علی خاں،سر عبدالرحیم، سر عبدالقادر، مولانا سلیمان ندوی اور مناظر احسن گیلانی وغیرہم سے اُن کے خصوصی روابط تھے نیز حضرت شاہ سلیمان پھلواروی کے جانشین اور صاحب سجادہ تھے۔

         ۱۹۲۰ء کا زمانہ ماضی قریب کی تاریخ میں قومی جدوجہد اور ملّی سر جوشی کے لحاظ سے بڑا طوفانی گزرا ہے اس دور میں ان کا گھر ہندو مسلم زعمائے قوم کا مرجع و مرکز تھا جن کی آمدرفت اور ہماہمی سے فضا معمور رہتی تھی۔ اس لئے فطرۃً سید علی اکبر کی ذہنی ساخت کو اسی سانچے میں ڈھلنا تھا اس پر مزید جلا خاندانی روایات نے اور تربیت اخلاق وکردار نے ڈالی۔ وہ طبعاً درویشانہ صفات کے حامل تھے، بے انتہا منکسر مزاج ملنسار، ہنس مکھ اور بذلہ سنج تھے جو اُن سے ایک مرتبہ مل لیتا وہ ہمیشہ کے لئے ان کا ہو رہتا۔

        وہ بچپن سے بزم آرائی کے شوقین تھے ایک ایک درجن ہم عمر بچوں کی مجلس اور محفلیں اسی اہتمام سے منعقد کرتے جس اہتمام سے بڑوں کی مجلس منعقد ہوتی تھیں۔جب وہ ہائی اسکول میں پہنچے تو اپنی بستی میں ایک اچھی سی بزم ادب قائم کرلی جس کے زیر انتظام شعر وشاعری کی محفلیں اور تحریر وتقریر کی نشستیں ہوتی ایک قلمی رسالہ بھی اس بزم کی طرف سے نکال رکھا تھا ۔کالج میں پہنچے تو وہاں بھی ایک بزم ادب سجائی اور وہی اس کے روح رواں رہے ۔سید علی اکبر کے انشائیوں کا مجموعہ ’’ترنگ‘‘ اسی زمانے کی کاوشوں کی یادگار ہے’’لائٹ ایسے‘‘کو انشائیہ کہتے ہیں۔ میر ناصر علی اُسے’’خیالات پریشان‘‘ لکھتے تھے اور مولانا محمد حسین آزاد’’نیرنگ خیال‘‘ لیکن سید علی اکبر نے ان میں سے کسی کی پیروی نہ کی خود ایک لفظ’’ترنگ‘‘ وضع کیا جس سے ان کی طبعیت کی اپچ ظاہر ہوتی ہے۔وہ شگفتہ رقم مضمون نگار بھی تھے اور شگفتہ بیان مقرر بھی۔ سیاست کی بھی اچھی سوجھ بوجھ رکھتے تھے تعلیم کے زمانے میں بھی وہ اپنے والد ماجد کی قومی مصروفیات سے قریب تر رہے اور تعلیم کے بعد بھی۔ اُس کے بعد وہ ڈپٹی مجسٹریٹ ہو گئے۔

         ۱۹۴۸میں لاہور آئے تھے۔ یہاں سے انہوں نے اپنی رخصت کی توسیع چاہی، فضااُس زمانے میں سخت مکدر تھی، توسیع تو کیا ہوتی انہیں استعفیٰ دینا پڑا جس کے بعد وہ ہندوستان میں غدار قرار دیدئیے گئے اور ان کی اشیاء منقولہ ضبط کر لی گئیں۔ انہوں نے کوئی پرواہ نہ کی لاہور سے کراچی آگئے۔ یہاں آکر انہوں نے ایک پریس قائم کیا۔ ڈسپلپسڈ پبلک سرونٹس کی ایک انجمن بھی بنائی۔ موتمر عالم اسلامی سے بھی دلچسپی لی اور سر گرم عمل رہے پھر کوآپریٹیو موومنٹ سے وابستہ ہو گئے اور ۱۹۴۹ ءمیں اس کے ایکزیکٹیو آفیسر متعین ہوئے۔ رفتہ رفتہ اس تحریک نے ان کو اس قدر اپنایا کہ آخر سید علی اکبراور کواپریٹیوموومنٹ دونوں ایک ہو کررہ گئے۔

        وہ چوبیس سوسائٹیوں کے مرکزی ادارے میں ایکزیکٹیو آفیسر تھے اور شہر کراچی کی قدیم آبادی سے باہر ایک عریض ووسیع مگر سنگلاخ ویرانہ منتظر توجہ تھا کہ

کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد

یہ ویرانہ ایسا مہیب تھا کہ جب مرحوم نواب زادہ لیاقت علی خاں نے اس کو دیکھا تو گھبرا کر کہا تھا کہ ’’کیا مہاجرین کو اس ویرانے میں لا کر مار ڈالو گے؟‘‘ لیکن اب وہی ویرانہ ایک ہرا بھرا خوبصورت شہر بن چکا ہے۔ اس ویرانے کو باغ وبہار بنانے کے لئے سید علی اکبر نے دس گیارہ سال شبانہ روز جدوجہد کی اپنا خون جگر صرف کیا۔ انہوں نے اوران کے رفقاء نے انتہائی ناسازگار حالات میں کوآپریٹیو ہاوسنگ سوسائٹی کا تجربہ کیا اور قدرت نے بھی اس تجربے کو غیر معمولی کامیابی عطا کی یہ ثابت ہو گیا کہ دنیا میں کوئی بات ناممکن نہیں۔

        اور پھر تو یہ تحریک اجتماعی زندگی کے بے شمار شعبوں میں پھیل گئی کنزیومرس کوآپریٹیو سوسائٹیز اور ان کی سنٹرل یونین، آل پاکستان کوآپریٹیو مارکٹینگ فیڈریشن، کوآپریٹیوایگریکلچر، سنٹرل کوآپریٹیو بینک،پاکستان کوآپریٹیو پیٹرولیم ایسوسی ایشن کراچی،کوآپریٹیو کلب، کراچی کوآپریٹیو انسٹی ٹیوٹ، ماڑیگج کوآپریٹیو بینک،وغیرہ ادارے قائم ہو ئے اور ان سب کے قیام وتنظیم میں سید علی اکبر پیش پیش رہے۔

        انہوں نے ملک سے باہر بھی بین الاقوامی کانفرنسوں میں بارہا پاکستان کی نمائندگی کی اور خراج تحسین حاصل کیا وہ یورپ جاتے تو وہاں کی قومی وسیاسی اور تجارتی تحریکوں کے علاوہ مذہبی تہذیبی اورادبی تحریکوںکا بھی جائزہ لیتے اور تازہ ترین رجحانات سے باخبر ہو کرواپس آتے۔انہوں نے سویڈن کی سیر کی تھی،سویڈن کی پوری زندگی کوآپریٹیو تحریک کا ایک جیتا جاگتا اور قابل رشک نمونہ ہے۔اس کا گہرا مطالعہ انہوں نے کیا تھا اور پاکستان کی قومی زندگی کو بھی کواپریٹیو تحریک کے سانچے میں اسی طرح ڈھال دینے کی تمنا رکھتے تھے۔

        غالباً ۱۹۶۲ء میں حکومت پاکستان کی تجویز تھی کہ کوآپریٹیو سوسائٹیز کے نظام کو ختم کردیا جائے اور سید علی اکبر مصروف جدوجہد تھے کہ یہ نظام ختم نہ ہو ورنہ سارے پاکستان میں اس موومنٹ کا اور امداباہمی کے جذبے کا خاتمہ ہو جائے گا ان کی رائے تو یہ تھی کہ پاکستان کے معاشی استحکام کا واحد مؤثر ذریعہ کوآپریٹیو موومنٹ ہے بلکہ وہ تو معاشرے کی ابتری اور خارجی وداخلی اندیشوں کا علاج بھی اسی کو سمجھتے تھے۔کہتے تھے کہ سویڈن چھوٹاسا ملک ہے لیکن ایک مستحکم معاشرہ ہے جس کو نہ دھڑکا کیپٹلزم کا ہے نہ کمیونزم کا، اور ہو بھی کیوں جبکہ اس کا نظام برتر ہے۔ اس کے اردگرد ہنگامے طرح طرح کے برپا ہیں لیکن کوئی ہنگامہ اس کی حدود کے اندر قدم نہیں رکھ پاتا۔

         وہ ایک مدت سے کوشاں تھے کہ کراچی کوآپریٹیو سوسائٹیز کے علاقے کی ایک علحدہ میونسپل یونٹ قائم ہو جہاں امداد باہمی کی بنیاد پر خدمت خلق کا عملی نمونہ پیش کیا جائے۔ اسی لئے سوسائٹیز کے خاتمے کے رجحان سے ان کو وہی تکلیف پہنچی تھی جو کسی صاحب نصب العین کو ایسے موقع پر پہنچ سکتی ہے۔ لہذا وہ ہر ایک سے لڑتے پھررہے تھے قائل معقول کررہے تھے اخبارات میں لمبے لمبے بیانات دے رہے تھے اور ذمہ داران حکومت سے ان کی بحث و تمحیص کی نشستوں پر نشستیں ہو رہی تھیں۔

        اسی اثنا میں نیشنل اسمبلی اور پراونشل اسمبلی کے انتخابات سر پر آگئے۔ اس الیکشن میں حصہ لینے کو وہ تیار نہ تھے ان کی ساری توجہ کوآپریٹیو موومنٹ کی بقا اور ترقی کی جدوجہد پر مرکوز تھی لیکن ان کے چاہنے والوں اور کوآپریٹیرز نے جمع ہو کر ان کو مجبور کیا کہ ہمیں اسمبلی میں ایک مخلص محنتی اور بے باک ترجمان کی ضرورت ہے جو لڑ بھی سکتا ہو اور سب کو ایک مرکز پر سمیٹ بھی سکتا ہو تو پھر انہوں نے اس شرط پر حامی بھر کی کہ’’میں سارا وقت الیکشن کو نہیں دوں گا‘‘چنانچہ ان کے الیکشن کاکام ان کے اعزہ اور احباب نے سنبھال لیا۔ اور وہ بدستور اپنی مصروفیات میں غرق رہے جن میں ایک یہ تھی کہ کراچی کی نئی آبادی یعنی سوسائٹیز کے علاقے کو ایک علحدہ میونسپل یونٹ قرار دیا جائے اور اس مسئلے کا آخری مرحلہ یہ تھا کہ حکومت نے میونسپل یونٹ کی ایک مفصل اسکیم طلب کی تھی۔ سیدعلی اکبرنے اسکیم مرتب کرکے پیش کرنے کی ذمے داری اپنے سر لے رکھی تھی آخر کار انہوں نے ایک تفصیلی اسکیم مرتب کرکے حکومت کے سامنے پیش کردی تب انہیں فرصت ملی وہ بھی تھوڑی سی فرصت کیونکہ اسی زمانے میں وہ ایک طرف کوآپریٹیو کانفرنس کے انعقاد کا نقشہ بھی تیار کررہے تھے دوسری طرف کوآپریٹیو ماڑیگج بینک قائم کرلیا تھا۔ جس کی تنظیم وتوسیع اور آغاز کار کا اہتمام جاری تھا۔

        بہرحال وہ اپنی میونسپل یونٹ کی اسکیم پر اسی طرح مسرور تھے جس طرح ایک ادیب ایک فنکار ایک شاعر اپنی کسی اچھی تخلیق پر مسرت محسوس کرتا ہے ان کو یقین تھا کہ یہ اسکیم نامنظور نہیں ہوسکتی اور واقعی حکومت نے غور وفکر اور چھان بین کے بعد وہ اسکیم لفظ بہ لفظ منظور کرلی اور اس اتفاق کی درد ناکی ملاحظہ کیجئے کہ منظوری کا اعلان اخبارات میں اس دن شائع ہوا جس دن اسکیم کے مصنف نے ساڑھے گیارہ بجے اپنی زندگی کی آخری سانس لی وہ دن ۶؍مئی اپریل ۱۹۶۲ء  جمعہ کا دن تھا.





 کراچی کے کمشنر مسٹر مدنی اور رجسٹرار کوآپریٹیو سوساٹیز وغیرہ غم کی تصویر بنے دفن کے وقت ہجوم میں کھڑے ہیں

ماخوذ از مہرنیمروز ستمبر   ۱۹۶۲

  


مقبرہ و مزار سید علی اکبر قاصد

ریحان چشتی قادری