مولاناسید حسن مثنیٰ ندوی
پیدائش
:-
۱۸جنوری ۱۹۱۳
سر زمین پیدائش :-
مہاتما گوتم بدھ کو جہاں ”نروان“حاصل ہوا تھا اور آج کل جس کو شہر
گیا(یاگیاجی) کہتے ہیں یہ صوبہئ بہار میں واقع ہے اسی شہر کے حواشی میں ایک چھوٹی
سی بستی ہے جس کا نام کڑہ (Kara)ہے۔میں یہیں پیدا
ہوا۔گیا نانیہال ہے اور پھلواری شریف (پٹنہ) جو پہلے اشوک کی راجدھانی پاٹلی
پتراتھادادیہال۔
تعلیم وتربیت :-
نانیہال اور دادیہال کی گھریلو اور مقامی مدرسے کی تعلیم کے
بعد دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ چلا گیااور وہیں سے تکمیل کی۔میرے داداحضرت شاہ
محمد سلیمان پھلواروی نے(جو مجلس ندوۃ العلماء ۱۸۹۳ کے اور دوسرے متعدد اداروں
کے علاوہ آل انڈیا مسلم لیگ ۱۹۰۶ ء کے بانیوں میں بھی تھے)مئی ۱۹۳۵ ءمیں رحلت کی۔ ان کی زندگی ۱۸۵۷ ء کے بعد کی صورت حال
سے لے کر ۱۹۳۵ ء کے ایکٹ کے نفاذتک
مسلمانانِ برعظیم کی قومی وملّی تمام تحریکوں کی تاریخ تھی اور یہ تاریخ میرے
سامنے تھی۔
صحافت و سیاست:-
میں ۱۹۳۶ ء میں دلّی چلا گیا
جہاں مصّور فطرت خواجہ حسن نظامی صاحب نے اپنے اخبار”منادی“ دہلی سے وابستہ کرلیا۔
اور میں عملی سیاست کے دروازے پر پہنچ گیا۔
عملی سیاست میں:-
۱۹۳۵ ءکا ایکٹ نافذ ہوتے ہی
مسلمانانِ برَ عظیم نے شدت سے محسوس کیا کہ تھوڑی سی صوبائی خود مختاری دینے کے
بعد دوسرا قدم یہ ہے کہ مرکزی حکومت قائم کردی جائے۔ مسلمانوں کو ان کی عالمی اخوت
اسلامیہ سے کاٹ کر برِّعظیم تک محدود کر دینے کی جدوجہد میں انگریز ایک مدت سے
مشغول تھے جس کی خاطر انگریز اور ہندو کانگرس دونوں ایک مدت سے مسلمانوں کو ”انڈین
نیشن“ کا ایک فرقہ قرار دیتے چلے
آرہے تھے اس روشنی میں حالات کی سنگینی نے ہم جیسے لوگوں کو بھی
عملی سیاست کے میدان میں اتار دیا۔
مسلم لیگ کے اجلاس:-
۱۹۳۷ ء لکھنؤ،۱۹۳۸ ء پٹنہ کے سالانہ
اجلاس مسلم لیگ، نیز خصوصی اجلاس ۸۳۹۱ء کلکتہ اور پھر ۱۹۴۰ ء کے سالانہ اجلاس لاہور میں برابر شرکت کی۔بیماری کی وجہ سے
دلّی چھوٹی لیکن سیاست نہیں چھوٹی تھی۔ ۱۹۴۱ ءمیں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس مدراس میں ہوا تو میں وہاں بھی پہنچ
گیا۔ جہاں قیام پاکستان ”جزوایمان“ قرار پایاتھا۔
بنگلور کنٹونمنٹ:-
مدراس کے اجلاس کے بعدمیں بنگلور چلا گیا۔ یہ نہایت صحت بخش مقام
ہے۔سطح سمندر سے کئی ہزار فٹ بلند پھیلی ہوئی آباد پہاڑی ہے۔ یہ بہت بڑا علاقہ اور
اہم کنٹونمنٹ انگریزوں کا تھا۔ دوسری جنگ عظیم جاری تھی اور بنگلور ”جنوبی
محاذ“تھا۔ یہاں میں نے مسلم لیگ کی تنظیمِ جدید کی۔ یہ علاقہ نہ تو برٹش انڈیا میں
داخل تھا نہ ریاستِ میسور کا جزوتھا۔ یہ گورنرجنرل کے تحت نہیں تھا، وائسرائے کے
توسط سے اس کا تعلق براہ راست برٹش پارلیمنٹ سے تھا۔
دوضلعوں کا ایک صوبہ:-
مسلم لیگ کی تنظیم جدید کے بعد میں نے مدراس کے بیس اضلاع میں سے ایک
ضلع بننا پسند نہ کیا۔ سمندر میں قطرہ کی حیثیت قبول کرکے ڈوب جانے والی کی سی
تھی۔ اور ریاست میسور کی طرف دیکھنا پستی کی طرف جانا تھا۔ بڑی دوڑ دھوپ کی آخر
بنگلور کینٹونمنٹ کو ایک ضلع اور کورگ چیف کمشنری کو دوسرا ضلع بنانے پر دوستوں کو
آمادہ کرکے ایک سیاسی صوبہ بنا لیا اور جلدی جلدی بنگلور کورگ پراونشیل مسلم لیگ
کا دستور مرتب کرکے آل انڈیا مسلم لیگ سے الحاق کروالیا۔
جنوبی ہند میں حسن مثنیٰ کا علاقہ ”بنگلور کورگ“ اور مرحوم حاجی
عبدالستار اسحاق سیٹھ جیسے رہنما کا علاقہ ”ملیبار“آل انڈیا مسلم لیگ کے دوStrongholds تھے (بقول نواب زادہ لیاقت
علی خاں)
آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کی رکنیت:-
آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کی رکنیت مجھے یوں حاصل ہوئی جو قیام
پاکستان تک برقرار رہی آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کا ممبر رہا اخیر تک۔
روزنامہ:-
بنگلور سے میں نے”پاسبان“نامی ایک روزنامہ بھی نکال لیا تھا(جو آج تک جاری ہے) مگر اب وہ جنوبی ہند کا ترجمان ہے بدلے ہوئے حالات میں۔
بنگلور سے ۱۹۴۶ ء میں جب میں حیدر آباد دکن چلا گیا تھا تو وہاں بھی ایک روز
نامہ”اتحاد“ کے نام سے مولانا عبدالقدوس ہاشمی صاحب کے ساتھ مل کر نکالا تھا، مگر
حیدر آباد کو جب دھاندلی سے ختم کردیا گیا تو”اتحاد“ بھی ختم ہو گیا اسی کے ساتھ۔
جمعیتہ علمائے اسلام:-
۱۹۴۵ ء(اکتوبر) میں جب”جمعیتہ
علمائے اسلام“ کی بنیاد کلکتہ میں رکھی گئی، جس کے بانی حضرت مولانا آزاد سبحانی،
حکیم مولانا عبدالرؤف قادری دانا پوری، علامہ راغب احسن،حسین شہید سہروردی اور
مولانا ظفر احمد انصاری وغیرہ تھے تو اس کےFounder members میں ایک نام میرا بھی تھا، اسی جمعیتہ نے علامہ شبیر احمد عثمانی
کو اپنا صدر منتخب کیا تھا۔ اس جمعیتہ کا کوئی تعلق کسی علاقے یا ملک یا زمین سے
نہیں تھا۔ صرف اسلام سے تھا۔ یہاں پاکستان میں مولانا ظفراحمد انصاری سے میری وہ
دوستی جو دریا گنج دہلی(دفتر مسلم لیگ) سے شروع ہوئی تھی وہ آخر دم تک قائم رہی۔
پاکستان قائم ہوگیا:-
جس پاکستان کے لئے ہم لوگ برسوں سرگرداں رہے وہ ۱۹۴۷ ءمیں قائم ہوگیا۔ میں
بھی کراچی آگیا، مولانا ہاشمی بھی پہنچ گئے اور پھر بہت سے لوگ پہنچ گئے۔ یہاں ہم
جیسے لوگوں کو ذہنی بالیدگی، فکری ارتقا اور معاشرتی نظم کو عام کرنے کی فکرتھی اس
لئے زیادہ تر قلمی خدمات انجام دیں۔
فقہ اسلامی کی تشکیل جدید:-
۱۹۵۱ ءمیں ”فقہ اسلامی کی تشکیل
جدید“ کی تحریک چلائی مولانا ہاشمی نے اور میں نے مضامین لکھے ۱۹۵۳ ء میں ”احتفال علمائے
اسلام“ کے نام سے دنیا بھر کے علماء ومفکرین،علامہ سید سلیمان ندوی کی دعوت پر
کراچی میں جمع ہوئے تو اس کا ایجنڈا بھی جو ان سب کو بھیجا گیا تھا ہم ہی لوگوں کا
تیار کردہ تھا جس میں لکھا گیا تھا کہ”فقہ اسلامی میں اقتضائے عصر حاضر کے مطابق
غور وفکر کے بعد اضافے کئے جائیں“
ماہ نامہ مہرنیمروز:-
۱۹۵۶ ء(فروری) میں سید علی اکبر
قاصدؔ کی تحریک وتجویز پر ایک علمی وادبی ماہنامہ مہرنیمروز کے نام سے جاری کیا جس
میں بہت سی علمی وفکری وادبی تحریریں شائع ہوتی رہیں۔ ۱۹۵۷ ءکے خاص نمبر میں حضرت
مولانا شاہ محمد سلیمان پھلواروی کی وہ تقریر بھی تلاش کرکے منگوائی اور شائع کی
جو”فرائض علماء“ کے عنوان سے تھی مجلس انتظامیہ ندوۃ العلماء کی طرف سے تھی،اس
تقریر میں فقہی مسائل پر نظر ثانی کی ہدایت تھی اور نظر ثانی کس طرح کی جائے اس کی
متعدد مثالیں بھی درج تھیں۔
نیشنل کالج کراچی:-
پرنسپل حسن عادل نے پروفیسر حسنین کاظمی
اور پروفیسر ملک وغیرہ کو
ساتھ لیکر جب نیشنل کالج کی بنیاد رکھی تو چند سال میں نے بھی اس میں
کام کیا۔اسلامیات کا شعبہ میرے سپرد تھا۔
اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ:-
پھر میں اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں داخل ہو گیا۔ مقصود یہ دیکھنا
تھا کہ جنرل ایوب خان کے مارشل لا نے جب تمام اداروں کا خاتمہ کردیا تو اسلامک
ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جو سر سکندر مرزا نے قائم کیا تھا اس کو مارشل لا نے اپنے
سینے سے لگا کر باقی کس مقصد سے رکھا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر،ڈاکٹر اشتیاق حسین
قریشی تھے وہ جب امریکہ سے آئے تو میکگل یونیورسٹی سے ڈاکٹر فضل الرحمن اور ڈاکٹر
اسماعیل فاروقی الراجی(فلسطینی عرب)کو پروفیسر بنا کے لائے۔پھر یہ ہوا کہ ڈاکٹر
اشتیاق کو انسٹی ٹیوٹ سے سبکدوش کر کے ڈاکٹر فضل الرحمن کو اس کا ڈائرکٹر بنا دیا
گیا۔تو میں نے انسٹی ٹیوٹ سے استعفا دے دیا، وہی زمانہ تھا کہ میرے چچا زاد بھائی
سید علی اکبر قاصد نے جو ”کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز یونین“کے صدر تھے۱۹۶۲ ء میں انتقال کیا تو
میں مستعفی ہو کر گھر کی طرف متوجہ ہوگیا۔
روزنامہ حرّیت:-
فخر ماتری مرحوم کے دو اخبارات تھے ایک روزمانہ”ملت“ گجراتی
اور دوسرا شام کا اخبار”لیڈر“ انگریزی۔ مگر وہ اُن دنوں اردو زبان کا روزنامہ
حرّیت کے نام سے نکالنے کی فکر میں تھے۔ انھوں نے مجھ کو بلوابھیجا اور کہا کہ ”یہ
نیوز پیپر نہیں ہوگا بلکہ موومنٹ ہوگا“ تو میں نے اس مومنٹ میں شریک ہونے کی حامی
بھر لی۔ انھوں نے اداریہ نویس کی ذمہ داری میرے سر رکھ کر مجھے اپنے ساتھ لے لیا۔
میرا نام حرّیت پر نہیں ہوتا تھا، میرا ماہنامہ”مہرنیمروز“ علحدہ جاری تھا۔
۱۹۶۷ ءکے خاتمے پر میں نے بیمار
ہو کر حریت کو چھوڑ دیا، فخرماتری کا انتقال ہوچکا،ان کے صاحبزادے بیرسٹر انقلاب
ماتری اخبار کو سنبھالے ہوئے تھے اور نیرّ علوی اور ان کے رفقاء اس کو چلاتے رہے۔
پھر یہ روزنامہ محمود ہارون صاحب نے لے لیا۔
موتمر عالم اسلامی:-
۱۹۴۸ ء- ۱۹۴۹ء میں بھی کراچی میں تھا اور مولانا ہاشمی بھی۔ دونوں ایک دوسرے سے
ملتے رہتے تھے اور علمی وفکری دلچسپی جو ہم دونوں کو تھی اس نے شروع ہی میں ہم
دونوں کو موتمر عالم اسلامی کی تنظیم کی جانب متوجہ کردیا تھا۔ بولٹن مارکیٹ کے
ایک کمرے میں بیٹھے۔انعام اللہ خاں اور ہم لوگ، مسلمانانِ عالم کی مردم شماری کے
کاغذات سمیٹتے رہتے تھے سبب یہ تھا کہ ہم لوگوں نے جب ہوش سنبھالا تھا یہی جانتے
تھے کہ دنیا میں مسلمانوں کی تعداد چالیس کڑوڑ ہے، یعنی یہ تعداد بڑھتی ہے نہ
گھٹتی ہے، دل اس تعداد کو ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ جتنے ممالک آزاد ہو چکے تھے
ان کے یہاں کی مردم شماری کے کاغذات منگوائے۔ خود اقوام متحدہ کے دفتر سے کاغذات
منگوائے اور چھان بین کرتے رہے اور کچھ ہی عرصہ بعد چھوٹی سی کتاب کی شکل میں یہ
شائع کیا کہ دنیا میں اس وقت بھی بہت سے مسلم ملک آزاد نہیں ہوئے ہیں باسٹھ کڑوڑ
سے کم آبادی مسلمانوں کی نہیں ہے اس کتاب پر جو موتمر کی طرف سے چھپی آزاد شدہ
مسلم ممالک کے جھنڈے بھی درج کئے تھے۔
۱۹۵۱ ءکا اجلاس موتمر:-
۱۹۵۱ ء کے اجلاس موتمر میں جس کا
افتتاح اوّلین وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خاں نے کیا تھا تو کہا تھا کہ”ہم ایسا
اتحاد چاہتے ہیں کہ اگر کسی ایک مسلم ملک پر حملہ کسی جانب سے ہو تو تمام مسلم
ممالک اسے اپنے آپ پر حملہ تصور کریں“ اس اجلاس میں مفتی اعظم فلسطین اور علامہ
سید سلیمان ندوی بھی موجود تھے۔ مگر دشمنوں نے ایسے دبنگ رہنما ہی کو ختم کردینے
کانقشہ بنایا۔ اور ختم کردیا۔
چیمز مچیزجسے ایشیا کا ماہر تصور کیا جاتاتھا مضامین تو بہت لکھے ہیں
اور ایک کتاب بھی لکھی ہے اس نے کہا تھا کہ ”پچاس سال ان کو اور چیخنے دو“۔ اس کا
ایک مضمون”پر اسرار ایشیا“ کے نام سے بھی چھپا تھا جس کو میں نے اردو میں منتقل
کرکے رسالے اور اخبار میں شائع کردیا تھا کہ شاید کسی دل والے کی نظر اس پر پڑ
جائے۔ اُس نے ایشیا کے تمام ممالک میں کیڑے نکالے تھے اور امریکنوں کو مشورہ دیا
تھا کہ”ہندوستان جاؤتو انگریزوں کو برا بھلا نہ کہنا اس لئے کہ انگریز اگرچہ”صدر
دروازے“ سے نکل گیا ہے لیکن”پچھواڑے“ سے پھرداخل ہو گیا ہے کہ لاؤ ہم برتن ہی
مانجھ دیں“۔ یہ مچیز ۱۹۵۱ ءکے اجلاس موتمر کے بعد ہی پاکستان کے دورے پر آیا تھا۔
خاموش کارکن:-
ابتدا میں ہم لوگ موتمر کے کام نہایت خاموشی سے کرتے رہے لیکن پچیس
تیس سال کے عرصے میں کتنی کتابیں موتمر نے لکھیں اور لکھوائیں اور شائع کیں، کشمیر
اسکرول، عالم اسلام کے دس لاکھ دستخطوں پر مشتمل ادارۂ اقوام میں پیش کیا، ایران
پر فلسطین پر کتابیں لکھیں، عالم اسلام کا نقشہ (Map)مرتب کرکے شائع کیا،ایران پر اور فلسطین پر کتابیں لکھیں، عالم
اسلام کی اپنی ”خبررساں ایجنسی“ قائم کرنے کی تجویز پیش کی،مسلم ممالک کو اپنی
کامن مارکیٹ قائم کرنے کا نقشہ دکھایا وغیرہ وغیرہ اور اسلام کا گزیٹیر(ایک جلد
میں)تیار کرکے ہاتھوں میں پہنچادیادنیا میں جا بجا موتمر کی شاخیں قائم کیں، خود
پاکستان میں جو موتمر قائم ہوئی وہ”موتمر عالم اسلامی پاکستان چیپٹر" Pakistan chapter کہلائی۔بنیادی طور پر موتمر غیر سیاسی ادارہ ہے تاکہ ہر ملک کے
لوگ اس میں شریک ہوں۔
پروفیسرابوبکر حلیم:-
پاکستان چیپٹر کے صدر پروفیسر ابوبکر حلیم منتخب ہوئے تھے۔ اور عرصہ
دراز تک کرسئی صدارت پر فائز رہے مگر وہ کراچی یونیورسٹی کے بانی بھی تھے سندھ
یونیورسٹی کے بانی بھی تھے اس کے علاوہ اور بھی بڑے کام ان کے سپرد تھے نیز
پاکستان میں حالات ایسے پیدا ہوتے رہتے تھے کہ مشکل ہی سے انتخابی جلسے کے انعقاد
کی صورت نکلتی تھی۔ ایک مدت کے بعد صورت نکلی تو انتخاب ہوا اور پروفیسر ابوبکر کی
جگہ میرا نام سامنے آیا، میں منتخب ہو گیا۔ وہ دل کے مریض تھے، سندھ کے دورے پر
گئے تھے واپس آئے تو دل کا دورہ پڑا۔ مولانا جمال میاں (فرنگی محلی) نے مجھے اطلاع
دی تو میں ہسپتال میں ان کو دیکھنے گیا انھوں نے باتیں کیں، دورے کا حال بتایا کہ
جیپ پر چڑھنے اترنے سے برا اثر پڑا۔میرے ان کے قدیم روابط تھے۔ آخر اسی بیماری میں
انھوں نے رحلت کی۔
سفرِ تاشقند وبخارہ:-
میری صدارت کا عرصہ بھی طویل ہوا اور ہم لوگ مفتی اکبر ضیا
الدین بابا خانوف کی دعوت پر تاشقند گئے اور مختلف علاقوں کا دورہ کیا، پندرہ دن
بعد میرے رفقاء ڈاکٹر انعام اللہ خان ان کی بیگم اور مولانا عبدالقدوس ہاشمی،حکیم
آفتاب قرشی اور نواب زادہ محمود علی خاں، تو واپس کراچی چلے آئے مگر میں وہیں سے
لندن روانہ ہوگیا۔ ہم لوگوں نے بات طے کرلی تھی کہ اب میری جگہ دوسرے صدر کا
انتخاب ہونا چاہیے۔لاہور سے حکیم آفتاب قریشی اور نواب زادہ محمودعلی خاں جیسے
پرانے کارکن جو پنجاب موتمر کے صدر وسکریٹری بھی ہیں پاکستان موتمر کی ذمہ داری
سنبھالیں،پاکستان میں ان کی یکسوئی اور خدمات کا خاصہ اثر ہے چنانچہ وہ دونوں
منتخب ہوئے مگر ان دونوں کی عمر نے وفا نہ کی۔ اچھے لوگوں کے اٹھ جانے کا ہم لوگوں
کے دل پر بڑا اثر ہوا۔ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کی مغفرت فرمائے جو اس دنیا سے گزر
گئے۔ ایک دن ہر ایک کو یہاں سے رخصت ہو جانا ہے لیکن زندگی وہی اچھی جو اچھے کاموں
میں اخلاص کے ساتھ صرف ہو۔
مضامین ومقالات:-
”مہرنیمروز“ اور روزنامہ”حریت“ کے علاوہ بھی مختلف قسم کے فکری مضامین
ومقالات اخبارات ورسائل میں لکھتا رہا جن میں سرکاری رسالہ ”ماہ نو“ بھی شامل
ہے۔جو مضامین ومقالات لکھے ان میں سے چند یہ ہیں:-
(۱)نزولِ قرآن اور بعثت
ِنبوی(۲)انسان کاملؐ(۳) شارع انسانیتؐ (۴) مصلح اعظم(۵) رسول پر پابندی امت کو اجازت
(۶)پروانگانِ شمع رسالت(۷۵۸۱ء کے بعد سے مولانا
سید احمد خاں کی خطبات احمدیہ سے لے کر مولانا جعفر شاہ پھلواروی کی
پیغمبرانسانیتؐ تک) تحریک سیرت کی تاریخ۔(۷)اسلام کا نظام اجتماعی(یہ اس بنا پر لکھا کہ ایک وزیر نے کہا تھا کہ
قرآن میں کنسٹی ٹیوشن نہیں ہے)۔(۸)ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہؓ(یہ ریسرچ ورک ہے اس لئے لکھاتھا کہ
ایک دوسرے وزیر نے کہا تھا کہ حضور اکرمؐ کے یہاں کنیزیں بھی تھیں۔یہ مقالہ اس
متشرقانہ خرافات کی تردیدہے۔)(۹) امام حسن علیہ السلام(۱۰)خواتین قرآن،(۱۱)فقہ اسلامی کی تدوین جدید(اوراس کی شدید ضرورت،یہ تحریر جون جولائی ۱۹۵۱ ءکے روزنامہ امروز
میں شائع ہوئی)۔(۱۲)علامہ اقبال کا پیغام
آخریں۔(۱۳) موتمر عالم
اسلامی۔
شخصیات:-
صحابہ کرام اللہ علیہم اجمعین میں سے کچھ پر اظہار خیال کرنے کے
علاوہ قریبی دور کے مختلف بزرگوں اور رہنماؤں پر مضامین لکھے۔
(۱) شاہ سلیمان پھلواروی،(۲) اکبر الہ آبادی(۲)مولانا الطاف حسین
حالی،(۴) علامہ شبیر احمد
عثمانی(۵) مولانا عبیداللہ سندھی(۶) قائد اعظم محمد علی
جناح،(۷) مولانا محمد علی شوکت
علی(۸)مولاناحسرت موہانی (۹) خواجہ حسن نظامی دہلوی(۱۰)نواب زادہ لیاقت علی
خاں (۱۱)سید حُسین امام(۱۲) سردار عبدالرب نشترؔ(۱۳)مولانا ابوالجلال ندوی(۱۴) مغنی آتش نفئس(قاضی
نذرالاسلام) اور دوسرے مضامین۔
طویل مضمون“مطبوعہ رسالہ دائرے کراچی بہ سلسلہ تأثراتی تاریخ
پاکستان“
تراجم:-
ان کے علاوہ تراجم ہیں جن میں اہم ترین:-
(۱) امام ابن حزم کے رسائل
کے ترجمے
(۲)امام باقلانی کی التمہید
کاترجمہ
(۳) عبدالقادر بیدل عظیم
آبادی) کے بارے میں مضامین کا مرتب مجموعہ
(۴) بیدل کی کتاب”چہار
عنصر“کا ترجمہ(فارسی سے)
(۵) فکری یلغار(العزوالفکری
کا ترجمہ(عربی سے)
(۶) ”اسلام کیا ہے،“ایک
مفکر کے قلم سے انگریزی میں ”What is Islam“شائع ہوا تھا اس کا ترجمہ۔
(۷)المثل الالیٰ(عربی سے
ترجمہ)
(۸)لماذاتاخر المسلون(شکیب
ارسلان کا طویل مکتوب(ترجمہ)
(۹)الصاحک الباکی(ترجمہ۔
شکری اباظہ ایڈوکیٹ کی ایک سر گزشت ہے) مریم کے نام سے پاکستان میں لارک پبلیشر نے
چھاپا۔
(۱۰) ادب الکاتب
(ترجمہ۔ابراہیم المازنی کا ایک ناول۔
(۱۱)کیپٹن مون لائٹ(ناول۔
انگریزی سے)
(۱۲)حضرت عبداللہ ابن زبیر
اور ان کی خلافت(انگریزی سے ترجمہ)
(۱۳) مذہب کی طرف میرا
رجوع(ترجمہ)
(۱۴) نفسیات جنسی پر چھ
مجموعے(انگریزی سے تراجم)
کتابیں (مجموعے):-
(۱) ۱۹۴۶ ء میں ایک
کتاب”پاکستان مخالفین کی نظر میں“لکھی اور سرحد کے ریفرنڈم کے وقت چھپی اور سرحد
بھیجی گئی۔
(۲) ۱۹۶۵ ء میں رسالہ
مہرنیمروز کے اندر ایک سلسلہ ”چہ دلاورست دذدے“(علمی و ادبی سرقوں پر)جاری رہا،اس
کا مجموعہ،کم از کم دو درجن اشخاص پر مشتمل ہے۔
(۳) برعظیم کی تحریک
آزادی اور حصول پاکستان کی تاریخ بہ سلسلہ خود نوشت
(۴)قائداعظم محمد علی جناح
کی اصل فکر اور اس کا تسلسل خود انکی اپنی تقریروں اور تحریروں کی روشنی میں۔
(۵) مولانا عبدالقدوس
ہاشمیؒ پر ایک کتاب
(۶)نامور سپہ سالاران
اسلام
(۷)سیرت پر مضامین کا
مجموعہ۔ (جن میں سے بعض کا ذکر ہو چکا ہے)
(۸)پہلی کرن۔مہر نیمروز کے
اداریوں کامجموعہ
(۹)تاریخ کے جھروکوں سے
(حریت کے شذروں پر مشتمل)
(۱۰)قائداعظم اور مسلم لیگ
پر مضامین کا مجموعہ
(۱۱)حسن نظامی پر ایک کتاب
(۱۲)اردو شاعری برعظیم
میں
(۱۳)تفسیر مولانا ابولکلام
آزاد پر ایک کتاب (بہ سلسلہ چہ دلاورست دذدے)
(۱۴)ریڈیائی تقریروں کا
مجموعہ
(۱۵) حریت کے اداریوں کا
مجموعہ
(۱۶)مذہبی مضامین پر مشتمل مجموعہ (جن میں سے بعض کا ذکر ہو چکا ہے)
(۱۷) موتمر عالم اسلامی کی
تاریخ
(۱۸) فقہ اسلامی کی تدوین
جدید(مضامین کا مجموعہ)
No comments:
Post a Comment