Tuesday, 23 September 2025

Sheema Salman Chishti

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

میں نے پاکستان بنتے دیکھا

        زندگی اپنی جو اِس رنگ سے گذری غالبؔ …

جانے کیا سوچ کر میں نے قلم اُٹھایا ہے۔ اِس وقت میرے ذہن میں ماضی ریشم کے کپڑے کی مانند آہستہ آہستہ رینگ رہا ہے۔ بس یہ جی چاہا کچھ لکھوں۔

        ہاں تو بھئی جیسے سب بچے اپنے والدین کے ساتھ کہیں نہ کہیں رہتے ہیں کسی نہ کسی گھر میں رہتے ہیں ہم لوگ بھی ریاست کپور تھلہ میں رہ رہے تھے۔ والد وہاں کی شاہی مسجد میں خطیب تھے۔ ننیھال میری قنوّج میں تھی اورو ہاں ہم لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ مگر ایک بار ایسی مشرقی پنجاب کپور تھلے گئی کہ دوبارہ قنوج جانا نصیب ہی نہ ہوا۔ 1947 ء جب آخری بار قنوّج سے واپس آئی تو کپور تھلے میں بھی رہنا نصیب نہ ہوا۔ اور ایک ماہ میں ہی ہجرت کرنا پڑی۔کپور تھلے کی یادیں آج بھی سینے میں ویسے ہی پنہاں ہیں جیسے اپنے پیارے وطن قنوج کی۔ ہجرت کی کہانی کیونکہ کپور تھلے سے شروع ہوئی۔ لہذا وہیں سے شروع کرتی ہوں۔

کپور تھلہ کی شاہی مسجد

ایرل ویو

میں، میرے والدین اور میری بہنیں سب ٹھاٹھ دار اور عزت دار زندکی گذار رہے تھے گھر میں کسی شئے کی کمی نہ تھی۔ بے حد سجا سجایا خوبصورت گھر۔ والد چونکہ شاہی مسجد کے خطیب تھے لہٰذا اُس شاندار مسجد کا بے حد لق ودق باغ بھی تھا ۔میں تصور میں اکثر وہاں کے عظیم الشان باغ میں تتلیاں پکڑتی رہتی ہوں اپنی پالتو بکری کو بھگا رہی ہوں یا اپنے گھر کے دروازے پر لگے امرود کے درختوں پر چڑھی امرود توڑ رہی ہوں، گرمیوں کی جلتی دوپہروںمیں گھر سے ذرا فاصلے پر فالسے کے جو درخت تھے اُن کے فالسے میں نے کبھی پکنے نہ دئیے۔ امرودوں کی وہ قطار جو ہمارے گھر کے سامنے تو تھی مگر ہماری نہ تھی۔ جب والد صاحب نے یہ دیکھا کہ بچے توڑنے سے باز نہیں آتے تو انہوں نے کئی درخت خرید لئے۔ پھر تو ہمارے مزے ہو گئے تھے ہمارے گھر کے بائیں جانب ایک بالکل ’’منّا‘‘ سا کھیت تھا۔ جس میں ہمارے گھر کے لئے ہر قسم کی سبزیاں لگائی جاتی تھیں اور جو باغبانوں کے حصے میں بھی آتی تھیں۔ پچھواڑے پہلے ہری مرچوں کا کھیت تھا مختصر سا۔ اِس کے بعد دیوان صاحب کا آموں کا باغ تھا اور وہیں درختوں کے درمیان اُن کی بے حد شاندارکوٹھی تھی۔ کبھی کبھی دو چار ساتھی مل جاتے یا بڑی بہنیں اُکساتیں کہ جاؤ کچی کیریاں دو چار توڑ لاؤ۔ تو ہم تمھاری گڑیا کے اچھے اچھے کپڑے سی دیں گے۔ تو میں فوراً راضی ہو جاتی۔ آج بھی میرے کانوں میں وہاں کے مالی کی رعب دار آواز گونجا کرتی ہے جو وہ طوطوں اور دیگر پرندوں کو اڑانے کے لئے لگایا کرتا تھا۔

        کیا پرُسکون زمانہ تھا نہ کوئی فکر نہ کوئی غم بس ہنسنا کھیلنا سمجھتی تھی زندگی اِسی کا نام ہے۔ مجھے خاصہ ہوش تھا جب ہم اپنا پیارا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ہم لوگوں کو قنوج سے آئے ہوئے صرف ایک ڈیڑھ ماہ کا قلیل عرصہ ہوا تھا کہ اچانک ایک روز دوپہر کے وقت ہمارے والد کے ایک دوست کیپٹن ڈاکٹر عباس نے ایک آدمی کے ہاتھ ایک مختصر سا پرچہ لکھ کر بھیجا ’’ابھی اور اِسی وقت بال بچوں سمیت میرے پاس آجائیے شہر میں فسادات کا شدید خطرہ ہے‘‘۔اور پھر ہم بد نصیب ایسے گھر سے نکلے کہ دوبارہ گھر میں آنا نصیب نہ ہوا والدین نے سوچا دو چار دنوں میں جب حالات قدرے بہتر ہو جائیں گے تو پھر گھر لوٹ آئیں گے۔ مگر کرفیو لگ گیا۔ مجھے یاد ہے جب گھر سے چلنے لگے تو والدہ نے ایک دری اپنا پاندان ایک بیگ میں چند کپڑے اور زیور کے سوا کچھ نہ لیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی کوٹھی میں ہم لوگ آٹھ دس روز رہے۔ جب کرفیو کھلاتو ہمارے والد کے ساتھ ڈاکٹر صاحب نے دو محافظ ہمراہ کئے جن کے ساتھ ہمارے والد گھر آئے، اُف والد صاحب نے جو کچھ آ کر بتایا۔ وہ دل دہلانے کے لئے کافی تھا۔جب میں سپاہیوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوا تو سکھ ننگی تلواریں لئے گھر میں گھوم رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگے کیا لینے آئے ہو۔ میں نے کتابوں کی طرف اشارہ کیا یہ کتابیں لینا چاہتاہوں۔ غرض کہ دو بوریوں میں کتابیں بھریں سپاہیوں نے اُن سکھوں سے کچھ کہہ سن کر باورچی خانے میں رکھا ہوا آٹا چاول اور کچھ برتن بوری میں بھر لئے اور یہ تھا ہمارا  اثاثہ۔ہاں کچھ کپڑے بھی یاد ہیں جو والد صاحب نے اپنے گھر سے اجنبی بن کر سکھوں کی اجازت سے اُٹھائے تھے۔ پھر والد صاحب نے پالتوکبوتروں کو ڈھیر سا دانہ ڈالا۔ اور پھر اپنے بھرے ہوئے خوبصورت گھر پر آخری نظر ڈال کر تانگے پر سوار ہو گئے۔ مجھے تو آج بھی ایسا محسوس ہوتا ہے۔ جیسے ہمارا گھر ہمارا منتظر ہے۔ آج بھی چینی کے خوبصورت برتن قیمتی صوفے مسہریاں میز کرسیاں کھلونے اور ہر ہر چیز ویسے ہی سلیقے سے رکھی ہے آج بھی وہاں کی ہر چیز ہمیں پکار رہی ہے۔ ہمیں یاد کر رہی ہے۔ وہاں کے پھل پھُول۔ آہ کیا کیا یاد کروں کیا کیا بھولنے کی کوشش کروں کیپٹن عباس کے وہاں چند دن رہنے کے بعد ہم سب لوگ ایک بڑے قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے۔ اُس قافلے میں سوائے ریل ہوائی جہاز کے ہر سواری تھی حتیٰ کہ پیدل بھی لوگ سفر کررہے تھے۔ کیپٹن عباس کی سربراہی میں یہ عظیم الشان قافلہ روانہ ہوا ،ہاں یاد پڑتا ہے کہ راستے میں کیپٹن عباس پر دو تین بار قاتلانہ حملہ ہوا ایک بار چھُرا کھینچ کر مارا گیا جو شیشہ توڑتا ہوا دوسری جانب نکل گیا اور خدا نے اُن کو بچا لیا۔ دوسری بار ایک سکھ ایک بم کی پن نکالتا رہ گیا جو اتفاق سے نہ نکل سکی۔ راستے میں چند ایسے خوفناک مناظر دیکھے جو آج بھی لرزا دیتے ہیں قافلہ چیونٹی کی چال سے رواں دواں تھا ،ہر سواری میں لوگ ماچس کی تیلیوں کی طرح بھرے ہوئے تھے۔ ہمارے گھر سے ٹوٹل لوگ یہ تھے نانی، والد والدہ دو بڑی بہنیں پھر میں، مجھ سے چھوٹی دو بہنیں۔ہماری سب سے چھوٹی بہن پانچ ماہ کی تھی۔ مجھے تھوڑا بہت یاد ہے کہ بھوک پیاس سے دونوں چھوٹی بہنوں کا بُرا حال تھا۔ ٹرک میں لوگ ایسے ٹھُسے ہوئے تھے جیسے ماچس کی تیلیاں۔ اگر کسی کے پاس تھوڑا بہت کھانا پانی تھا بھی تو وہ رش کی اِس دھکم پیل میں نکالنے کی پوزیشن میں نہیں تھے غرضکہ چھوٹی بہن جب روتے روتے بے ہوش ہو گئی تو لوگوں نے والدہ سے کہا’’ اِسے یہاں پھینک دو۔ ویسے بھی یہ تو مر ہی جائے گی‘‘۔ مگر ماں کی ممتا نے اُسے مزید سینے سے لگا لیا۔ کہ جب تک اس کے دم میں دم ہے ایسا نہیں کروں گی مجھے یاد ہے میں کھڑکی سے منہ نکالے باہر دیکھ رہی تھی۔ کہ اچانک میری نظر سات آٹھ درختوں کے ایک جھنڈ پر پڑی جن کے سائے میں تین سکھ بیٹھے تھے۔ آئیے آپ کو بتاؤں کہ اُن میں سے دو سکھ کہاں بیٹھے تھے وہ ایک آدمی کی پیٹھ پر اطمینان سے بیٹھے تھے جو اوندھا پڑا تھا اور مر چکا تھا۔ اُس کی پیٹھ میں چمکتا ہوا خنجر گڑا تھا۔ تیسراسکھ وہیں کھڑا خونخوار نظروں سے اُس شہید کو دیکھ رہا تھا ،آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ یہ منظر دیکھ کر ننھّے سے دل پر کیا گذری ہو گی ذہن پر کیسا دھجکا لگا ہو گا پھر ایک میں ہی کیا جانے کتنوں نے یہ بھیانک منظر دیکھا ہوگا بہر حال قافلے والے ہزاروں وسوسے دلوں میں لئے سفر کرنے پر مجبور تھے۔ ہر قدم پر خوف، تھکان، ہر ایک کو اپنا اپنا گھر اُجڑنے کا غم۔ غرضکہ اپنے لُٹنے بکھر جانے کی داستان ہر چہرے پرعیاں تھی۔اب سوچتی ہوں تو ایک شعر ذہن میں آتا ہے۔

اندھیری رات، تھکی ہمتیں، کڑی منزل

سلامتی کی دعا مانگ    کارواں   کے لئے

بہر حال بھوکے پیاسے تھکے ہارے جیسے تیسے کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد ہم لوگ اپنے قافلے کے ساتھ جالندھر پہنچ گئے، اٹھارہ دن کیمپ میں کیسے گذرے۔ شدید گرمی میں بھی فوجیوں کی لمبی لمبی بیرکوں میں اندھا دھند لوگ ٹھنسے ہوئے تھے ،باہر جدھر نگاہ جاتی تھی لوگ ہی لوگ نظر آتے تھے ایک حشر کا ساسماں تھا۔ جالندھر کیمپ میں جس مسلمان سپاہی نے ہماری مدد کی تھی۔ اُس کا نام فضل الٰہی تھا اور وہ ہم لوگوں کے لئے اپنے نام کی طرح ثابت ہواشدید ترین گرمی لوگوںمیں کو ایک ایک لوٹے پانی کے لئے شدیدجدوجہد کرنا پڑتی ایسے میں اُس نے بڑی بڑی دو بالٹی پانی کا بندوبست کیا کہ آپ لوگ تھوڑے تھوڑے پانی سے غسل کر لیں تو ہم لوگ خوشی کے مارے رو دئیے۔ میں تو وہ دو جھلنگی چار پائیاں بھی نہیں بھولی جن کو اُس سپاہی نے مہیا کیا تھا کہ جب اندھیرا ہو جائے تو اِن چارپائیوں کو آڑ بنا کر اِن پر کوئی کپڑا ڈال کر آپ لوگ نہا لیں۔ پھر فوجی کینٹین سے کئی بار کھانے کا بندوبست کیا۔ وہ اللہ کا بندہ ملا کیسے تھا آئیے میں آپ کو بتاتی ہوں۔ ہوا یوں کہ میں تھوڑے سے پانی کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی تھی۔ کیمپ سے کچھ ہی فاصلے پر ملٹری کی بیرک تھی۔ وہاں نلکا نظر آیا مگر نلکا کھول کرسوائے مایوسی کے کچھ نہ ملا جس تڑپ اور لگن سے نلکے کی طرف بڑھی تھی۔ اُتنی ہی مایوسی ہوئی، میں نے بڑی بے چارگی سے چاروں طرف دیکھا اور پھر جانے کیا سوچ کر نلکاکی ٹوٹی گھمانے لگی۔ اِتنی دیر میں ایک آدمی بیرک کے برآمدے میں نظر آیا اُس نے میرے ہاتھ میں خالی برتن دیکھ کر پوچھا، ’’بیٹی پانی چاہئے اندر آ کر لے لو‘‘۔’’ نہیں میں اندر نہیں آؤں گی تم پانی میں زہر ملا دو گے‘‘ اُس نے میری بات سنی۔ پھر ایک مہربان سی ہنسی اُس کے ہونٹوں پر آگئی۔ ’’بیٹی ڈرو نہیں میں مسلمان ہوں مجھے یقین نہ آیا‘‘۔ ذہن میں سکھوں، ہندؤں کی درندگی بسی ہوئی تھی۔ میں نے کچھ سوچا اور پھر یوں گویا ہوئی ’’ٹھیک ہے آپ کلمہ پڑھ کر سنا دیں پھر میں پانی لے لوں گی‘‘ اُس نے غور سے میری طرف دیکھا میں اُس کی آنسوؤں سے بھری آنکھیں کبھی نہیں بھول سکتی۔ پھر بغیر ایک منٹ کی دیر کئے وہ روانی سے کلمہ پڑھنے لگا۔ اندر میں پھر بھی نہیں گئی۔ پانی کا برتن بلا تاخیر اُس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ پانی وہ جب اندر سے لے کر آیا تو میرے سر پر ہاتھ پھیر کر کہنے لگا۔ بیٹی اپنے والد کو میرے پاس مغرب کے بعد بھیج دینا مجھے اُن سے ملنا ہے اور پھر وہ فرشتہ رحمت بن کر ہماری مدد کرتا رہا۔ جو بھی اُس سے ہو سکا۔ کیمپ کا یہ حال تھا تا حدِ نگاہ سر ہی سر نظر آتے تھے۔ سامنے جو میدان تھا لوگ انتہائی مجبوری کی حالت میں اُس کو باتھ روم بنائے ہوئے تھے۔ نہ کوئی اُوٹ تھی نہ کوئی پردہ۔ اگرچہ باتھ روم بنے ہوئے ضرور تھے مگر فاصلہ زیادہ ہونے پر لڑکیوں کو وہاں جانے نہیں دیا جاتا تھا۔ مبادہ سکھ اور ہندو وہاں گھات میں ہوں۔ میرے کانوں میں وہ دردناک چیخیں آج بھی گونج رہی ہیں اُن بیکس لڑکیوں کی چیخیں جو ہندؤں اور سکھوں کی بے رحمی کا نشانہ بنتے گھسیٹی جاتی تھیں۔ اُس بے رحم دور میں ہندؤں اور سکھوں کی بے رحمی قابلِ دید تھی۔ ہندؤں اور سکھوں نے مل کر مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جس طرح عزتیں خراب کیں جس طرح اذیتیں دیں جس طرح گھروں کو آگ لگائی جس طرح اپنی کرپانوں تلواروں کی پیاس بجھانے کے لئے مسلمانوں کا قتلِ عام کیا وہ تاریخ میں تو لکھا ہی گیا تاریخ اُسے رقم کرے گی ہی۔دلوں پر بھی پتھر کی لکیر کی طرح رقم ہے اور جو واقعات دل پر رقم ہوجائیں وہ تو انمٹ ہوتے ہیں ہمیشہ کے لئے ایک نفسا نفسی کا عالم تھا۔اپنی یاداشت سے وہ موٹے چاول کیسے نکال دوں جو ایک فیملی نے باجی کو دئیے تھے کہ آپ لوگ کل سے بھوکے بیٹھے ہوئے ہیں یہ کچے چاول شاید آپ کے کچھ کام آسکیں۔ جن کا وزن آدھا کلو سے زیادہ نہیں تھا۔ کیمپ میں کئی لوگ کھانا پکا رہے تھے ایک فیملی جب پکا چکی توہماری والدہ نے اُن کے جلتے بجھتے چولھے پر وہ چاول چڑھا دئیے۔ جیسے تیسے کر کے آخر وہ پک ہی گئے نمک پاس تھا جو چاولوں پر ڈال دیا گیا مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں وہ چاول کھا رہی تھی تو رو رہی تھی کیونکہ ایسا کھانا پہلے کبھی کھانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ حلق سے وہ موٹے چاول اُترنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ والدہ اور بڑی بہنوں کی ڈانٹ بھی پڑی۔مگر خدا بڑا رحیم ہے۔اُسی کیمپ میں اُس نے تندوری روٹیاں اور آلو گوشت بہت مزیدار بھی کھلایا۔ ہوا یوں کہ جب ہماری آپا نے دعا کی۔’’یا اللہ تو میری دعا سن آلو گوشت اور تندوری روٹیاں کھلا دے ‘‘واقعی دعا کی قبولیت کا وقت تھا۔ کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے کے بعد کیا دیکھتے ہیں کہ فضل الٰہی آلو گوشت اور گرم گرم تندوری روٹیاں لئے کھڑا ہے۔ کینٹین والوں سے میں نے کہہ رکھا تھا کہ اس کیمپ میں میرے عزیز ٹھہرے ہوئے ہیں مجھے کچھ کھانا چاہیے اور یوں وہ کھانا ہم تک پہنچا۔

        یاد ہے کہ اُس کیمپ سے ہم لوگوں کو کہیں اور منتقل ہونا تھا جو بھی تھوڑا بہت سامان تھا وہ اُٹھائے ہوئے ہم لوگ چلے جا رہے تھے پیدل کہ اتنے میں کالی کالی گھٹاؤں نے آسمان کو ڈھانپ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بارش کے آثار ہونے لگے جلدی جلدی والد نے اِدھر اُدھر نظر ڈالی تو ایک بڑی سی کوٹھی نظر آئی۔ پھر اُس کوٹھی کے برآمدے میں گھر والوں کی اجازت سے بیٹھ گئے اتنی ہی دیر میں شدید بارش شروع ہو گئی۔ ہم سب بے یادومددگار ایک دوسرے سے جڑے سکڑے سمیٹے بیٹھے تھے وہ کوٹھی کسی میجر صاحب کی تھی تھوڑی ہی دیر میں میجر صاحب نے گرم گرم چائے اور پاپے لا کر دئیے۔ ہائے وہ کسمپرسی کا عالم اور وہ چائے۔ کیونکہ اگر اُس وقت کوئی سونے کے ڈلے بھی دے دیتا تو ہماری ضرورت شاید پوری نہ ہوتی۔ جو اِس بے چارگی کے عالم میں اِس طوفانی بارش میں اِس چائے نے پوری کی اور پھر سب سے بڑی بات، اُن بڑے میاں کا شفیق سلوک اور میٹھی زبان نے اُن کو زندہ جاوید بنا دیا،یقینا وہ میجر صاحب اِس نکتے سے پوری طرح واقف تھے کہ۔

اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں اِس جہاں میں

ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

اور پھر یوں ہوا کہ چائے کی چند پیالیوں اور تھوڑے سے پاپوں نے میجر صاحب کو’’مرنے‘‘ نہیں دیا، کسی نہ کسی طرح قافلہ پھر روانہ ہوا،اور جو والٹن کیمپ پہونچے،بھوکے پیاسے تھکے ہارے مگر یہاں اتنا اطمینان ضرور تھا کہ کوئی قتل کرنے نہیں آئے گا۔ یہاں بھی غدر کا سا عالم تھا اور ہم سب اپنے والد کے ساتھ سائے کی تلاش میں پھر رہے تھے، پھر ایک جگہ ایک ٹوٹا پھوٹا برآمدہ نظر آیا جس کے اندر ایک چھوٹا سا کوٹھری نما کمرہ بھی تھا، ہمارے والد نے ہم سب کو یہاں بیٹھا دیا اور خود بھی ایک طرف بیٹھ گئے،اتفاق سے کوٹھری میں ایک چھوٹی جھاڑو پڑی مل گئی وہ لے کر آپا نے جگہ صاف کی دری بچھائی اور جو تھوڑا بہت سامان تھا ایک طرف رکھ دیا۔ گھنٹہ بھر بھی مشکل سے آرام کیا ہو گا سب نے کہ میرے والد نے جن کو ہم سب بھائی میاں(حضرت مولانا شاہ محمد جعفر پھلوروی) کہتے تھے ۔مجھے کہنے لگے چلو بیٹا چل کر کچھ کھانے کا بندوبست کریں،وہاں سے نکلے تو معلوم ہوا کہ وہاں پر رضاکار مہاجروں کے قافلے کے لئے بڑی بڑی دیگیں چڑھا رہے ہیں مگر وہ دیگیں ایسی نہیں تھیں،جیسی آج کل شادی بیاہ میں پکائی جاتی ہیں۔ وہاں تو لٹے پٹے لوگوں کا پیٹ بھرنے سے مطلب تھا جو بھی پک جائے جیسا بھی پک جائے، بھائی میاں نے کہا بیٹا ایک طرف تم جاؤ ،مگر بہت دور مت جانا کہیں رستہ نہ بھول جاؤ، کوئی نشانی یاد رکھنا، دوسری سمت میں جاتا ہوں جو تمھیں مل جائے تم لے لینا جو مجھے ملا میں لے آؤں گا۔ اپنا ٹھکانہ یاد رکھنا،بھولنا مت۔اور پھر ایک چھوٹی سی لڑکی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں ایک برتن تھامے بڑے عزم و حوصلے کے ساتھ کھانے کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔چار مختلف جگہ دیگیں چڑھ رہی تھیں اُس ننھی منّی سی لڑکی نے ہر جگہ پوچھا کہ یہ کھانا کب تیار ہوگا کب ملے گا۔ایک جگہ معلوم ہوا کہ مونگ پک رہے ہیں تھوڑی دیر میں تیار ہو جائیں گے، یہ سن کر وہ بچاری بڑے صبر سے ایک طرف بیٹھ گئی اور اپنے برتن کو مضبوطی سے پکڑ لیا، مبادہ اُس سے کوئی یہ برتن ہی نہ چھین لے،پھر میں اپنے گھروالوں کے لئے کھانا کیسے اور کس چیز میں لے کر جاؤں گی کھانا پکنے میں دیر تھی وہ اپنے خیالوں میں گم ہو کر تصورات کی دنیا میں چلی گئی،ہاں ریاست کپورتھلہ میں، جہاں اُس کے والد کا خوبصورت سجا سجایا گھر تھا اور ہر آرام و آسائش کی چیز موجود تھی،شاہی مسجد کا باغ کوئی معمولی باغ نہیں تھا، لق ودق باغ شاندار روشیں، خوبصورت فوارے، پھولوںپھلوں سے لدے اُونچے اُونچے تناور درخت اور لا تعداد رنگین تتلیاں،اُس کا چھوٹا سا بکری کا بچہ بھی اُسے بُری طرح یاد آنے لگا جسے وہ باغ میں بے دریغ بھگاتی پھرتی تھی،تصور میں وہ اب بھی تتلیاں پکڑ رہی تھی، خوبصورت سافراک پہنے سر میں ربن لگائے جوتے موزے پہنے ،مگر ایک دم کچھ آدمیوں کے لڑنے کی آوازوں سے وہ چونک اُٹھی، اُس نے بے ساختہ اپنے سراپے پر نظر ڈالی،یہ بچی اُس تتلیاں پکڑنے والی بچی سے کتنی مختلف تھی،اُلجھے ہوئے بال جو کئی دنوں سے تیل سے محروم تھے، ننگے پیر میلے کپڑے ہونٹوں پر جمی پپڑیاں ،جوتا تو کیمپ میں ہی چوری ہو گیا تھا، اپنے ننگے پیروں پر نظر پڑتے ہی اُسے صاف ستھری جوتے موزے پہنے وہ لڑکی بہت یاد آئی اور اِس سے پہلے کہ اُسے بہت سی یادیں گھیر لیتیں،تیز بھوک کے احساس نے اُسے تصور کی دنیا سے نکال باہر کیا، وہ تیزی سے اُٹھی مونگ تیار ہو چکے تھے اُن کی بھینی بھینی خوشبو نے اُس میں ایک انجانی قوت پیدا کردی، بڑے بڑے لوگوں کی دھکم پیل میں وہ کچھ روٹیاں اور مونگ لینے میں کامیاب ہو گئی۔پھر تو جیسے اُس کے پَر لگ گئے ۔ اِس وقت اُس کے تصور میں بھوک سے نڈھال وہ چہرے تھے جو اُس کے اپنے تھے،اپنی نانی اپنی والدہ اپنی بہنیں اور والد۔اپنے ٹھکانے پر پہونچتے پہونچتے کئی بار ٹھوکر کھاتے کھاتے بچی اور جب اپنے ٹھکانے پر پہونچی،تو ننھے ننھے ہاتھوں میں کھانا اور آنکھوں میں کھانا حاصل کرنے کی چمک لئے وہ صرف شیما تھی، ہاں وہ میں تھی۔کچھ دیر میں بھائی میاں آگئے وہ بھنے چنے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے،غرض سب نے مل کر مونگ اور روٹیاں کھا لیں چنے رات کے لئے رکھ دئے گئے، کھانا کھا کر بھائی میاں نے کہا تم سب یہاں آرام سے بیٹھو،لاہور میں میرے ایک دوست ہیں ملک نصراللہ خاں عزیز ؔاُن کا پتہ میرے پاس ہے میں جا کر اُن کو تلاش کرتا ہوں وہ یقینا ہماری مدد کریں گے۔یوں بھائی میاں روانہ ہو گئے،جاتے جاتے کہہ گئے دیر سویر ہو سکتی ہے پریشان مت ہونا۔ مجھے یاد پڑتا ہے مغرب کے بعد جب بھائی میاں آئے تو اُن کے ساتھ ملک صاحب کے دو بیٹے اُن کے ہمراہ تھے اُن لوگوں نے دو تانگوں کا بندوبست کیا تقریباً ہم لوگ عشاء کے وقت والٹن کیمپ سے روانہ ہوئے۔پھر تقریباً بارہ بجے رات کو ملک صاحب کے گھر،جو گوالمنڈی میں تھا پہونچے،چھوٹا سا صحن مختصر سا برآمدہ اور ایک کمرہ ہم لوگوں کو رہنے کے لئے مل گیا سب انتہائی تھکے ہوئے تھے،جاتے ہی سو گئے۔صبح سب سے پہلے آپا اُٹھیں اور ہر چیز کو ٹھیک ٹھاک کرنے لگیں ابھی وہ چیزیں رکھ ہی رہی تھیں کہ دروازے پر دستک ہوئی،دیکھا تو ملک صاحب کی نوکرانی ایک بڑی ٹرے میں مکمل ناشتہ لئے کھڑی ہے گھر چھوڑنے کے بعد پہلی مرتبہ سکون سے ناشتہ کیا،اور پھر اِس کے بعد تو جیسے اِس گھر کے لوگوں نے احسانات کی بارش کردی ہم لوگوں پر۔نہ صرف پورے خاندان کو ٹھہرنے کی جگہ دی بلکہ ضرورت کی ہر چیز مہیا کرتے رہے، کھانا کپڑے روپے برتن اور سیکڑوں چیزیں، حتیٰ کہ اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو دوا علاج بھی کرواتے۔

        سوچتی ہوں کہ وہ نہ تو ہمارے رشتہ دار تھے نہ برادری کے نہ ہمارا خون،صرف دوستی کا حق ادا کیا اور کچھ اس خوبصورتی سے ادا کیا کہ آج ساٹھ برس گذرنے کے باوجود نہیں بھول پائے۔ ہمارے بدترین وقت میں ایسا بھرپور ساتھ دیا جس کی مثال کہیں نہیں مل سکتی،جب تک بھائی میاں بیکار رہے ملک صاحب برابر مدد کرتے رہے، اور کچھ اِس انداز سے کہ دوسرا شرمندہ نہ ہونے پائے وہ ایک سچا مسلمان گھرانہ تھا دیندار شریف مخلص،آنحضرتﷺ نے بار بار جو اخلاق پر زور دیا ہے تو اُس میں کتنی بڑی مصلحت ہے اخلاق کے معنیٰ بہت وسیع ہیں۔اخلاق کے معنی یہ نہیں کہ کسی کومسکرا کر دیکھ لو،لفظ اِخلاق میں وہ تمام کی تمام ذمہ داریاںآجاتیں ہیں جو ملک صاحب کے گھرانے نے ادا کیں۔ اب میں سوچتی ہوں کہ کبھی نہ کبھی ہم لوگوں سے اُن لوگوں کو کوئی تکلیف بھی ضرور پہونچی ہو گی، مگر آفرین ہے اُن سب پر، اُن لوگوں کے لہجوں کی نرمی طبیعتوں کی انکساری اور بیکراں خلوص نے ہم لوگوں کے دلوں میں ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں،جو رہتی دنیا تک نہیں مٹیں گے۔ میں نے اُن کی بیگم کو کبھی درس میں جاتے نہیں دیکھا، کبھی وعظ کہتے نہیں سنا جو باتیں انسان کو درس اور وعظ سے سیکھنا چاہیے وہ اُن کے عمل میں موجود تھیں ،انسان کا کام اللہ کے بنائے ہوئے راستوں پر چلتے ہوئے اللہ کی مخلوق کے کام آنا ہے اس میں کوئی جمع ضرب تقسیم نہیں، خاص طور سے پردیسیوں مسافروں یتیموں بیکسوں اور پریشان حال لوگوں کے لئے، میرا اپنا پنجابی ایک شعر ہے

ہک دارنوں اودا ہک پھڑا دلدارانوں دے چھڈپیار

دیر توں کلیّاں بہہ کے سوچن جت ہوئی کہ ہار

آج وہ لوگ بہت یاد آرہے ہیں جو مر کے بھی زندہ ہیں۔

        ہم اپنی ذات میں جتنے بُرے سہی مگر اپنے عظیم محسنوں کو بھولنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے، جنہوں نے ہمیں اُس وقت سہارا دیا جب نہ پیر میں جوتی تھی نہ سر پہ چادر، اُن پناہ گزینی کی گھڑیوں میں ایک وقت ایسا بھی آیا، کہ والد صاحب ہم سب کے ساتھ کسی سایہ دار درخت کی تلاش میں تھے جہاں نظر جاتی تھی وہاں ہماری طرح کے بے یارومددگار پہلے سے کسی نہ کسی درخت کی چھاؤں میں بیٹھے تھے پھر ایسے بے رحم دور میں اللہ تعالیٰ نے فضل الٰہی ،میجر صاحب اور ملک نصراللہ خاں جیسے ’’دل ‘‘والے ہم لوگوں کو عطا کردئیے۔

سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

الغرض کپورتھلے میں اپنا گھر چھوڑنا،کیمپ میں گذارے ہوئے دن در در کی ٹھوکریں۔اچھے اور بُرے لوگوں کا ملنا داستان تو بہت طویل ہے،مگر جو جو باتیں یاد آتی جا رہی ہیں لکھتی جا رہی ہوں، مگر جو کچھ بھی لکھ رہی ہوں وہ سو فی صد سچائی پر مبنی ہے یہ کوئی افسانہ نہیں ہے۔جیسے  

بڑھا بھی لیتے ہیں کچھ زیبِ داستاں کے لئے

            1947 ءمیں پارٹیشن کے نام پر جو آندھی زور دار آندھی چلی اُس نے بہت سے نہیں بلکہ ہزاروں گھروں کو اُجاڑدیا،لوگوں کے سروں سے چھتیں چھین لیں،ماؤں کی گودوں سے بچے چھین لئے،لوگ تباہ وبرباد ہوگئے خواتین بیوہ ہو گئیں سہاگ اُجڑ گئے گھر لٹ گئے صدیوں کی جمی جمائی گرہستیاں پل کے پل میں مٹ گئیں،عزتیں گئیں،لاکھوں جوان شہید ہوئے۔  1947 ء  میں جو آندھی آئی وہ اتنی شدید تھی،ایسی خوفناک تھی کہ لوگ آج تک اُسے نہیں بھول پائے۔اور پھر جب آندھی اپنی پوری شدت کے ساتھ چل رہی ہو اور انسان اُس میں خشک پتوں کی طرح اُڑتے پھر رہے ہوں،ڈولتے پھر رہے ہوں،اور ایسے بے رحم دور میں جب ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہواور حشر کا سماں ہو تو پھر ایسے وقت میں،مدد کے لئے بڑھے ہوئے کچھ ہاتھ اور آنکھوں میں سچائی کی چمک لئے کچھ مہربان چہرے کون بھول سکتا ہے اگر مہربان چہرے اُن کا شفیق سلوک، انتہائی آڑے وقتوں میں کی گئی مدد ہم بھلا دیں تو پھر ہمارے اندر کیا رہ جائے گا بس صرف ہماراکھوکھلا وجود ہی باقی رہ جائے گا۔اور ہم جیتے جی اپنے وجود کو کھوکھلا نہیں ہونے دیں گے۔اُن مہربان پیارے بزرگوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے، اُن کی یادوں کی شمع اُس وقت تک جلائے رکھیں گے جب کہ ہماری اپنی زندگی کی روشن ہے،اتنا سب کچھ لکھنے کا مقصد ہی اُن لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

اور پاکستان عالمِ وجود میں آ گیا

 ہجرت کے مناظر






کارپنڈرس سمیٹری ،لندن، 12 اکتوبر 1938،،،2نومبر 2019

مرتبہ: شاہ محمد ریحان  چشتی قادری

No comments:

Post a Comment