Monday, 22 September 2025

Shah Muhammad Salman Chishti "Abul-Insha"

                         

                

شاہ محمد سلمان چشتی ابوالانشاءؔ

ابوالانشاءؔ یا شاہ محمد سلمان چشتی صوبہ بہار (ہندوستان) کے مشہور ومعروف خانوادہ تصوف کے چشم وچراغ ہیں۔یہ 17 نومبر     1930  کوپھلواری شریف (پٹنہ) میں پیدا ہوئے۔ ان کا گھرانہ جس تصوف کا حامل رہا ہے اس کا دوسرا نام ”احسان“ہے۔ اور یہی تصوف اصلی اور اسلامی ہے۔ ”احسان“ کا ماحصل نیکوکاری اور حسنِ عمل ہے کہ دین ودنیاکا جوکام بھی ہواس کوحسن وکمال اورخوبی واخلاص کے ساتھ ہمہ تن ڈوب کر انجام دیا جائے،اس تصوف میں دین اور دنیا دو الگ چیزیں نہیں ہیں۔اس تصوف کی روح محبت ہے اصلاً اللہ سے،پھر خلق اللہ سے۔

         پھلواری شریف صوبہ بہار کی ایک چھوٹی سی مشہوربستی ہے۔اورصدیوں سے اسی تصوف اورعلم و فضل اوراخلاق وکردارکا مرکزہے۔یہاں کی خاک سے بڑے بڑے علماء صوفیا،ادبااورشعراء ہردورمیں اٹھتے رہے ہیں،جن کی علمی اورادبی خدمات نے سارے برعظیم کومتاثرکیا ہے،اوران صاحبان احسان کا نصب العین ہمیشہ خدمت خلق رہا ہے۔

بزرگی بہ از  خدمتِ خلق نیست     

بہ تسبیح  و  سجّادہ  و  دلق نیست

           1857 ء کے انقلاب کے بعدپھلواری کے سجادے پر صوفی بزرگ حضرت مولانا شاہ محمد علی حبیب نصرؔمرجع خاص وعام تھے۔ حضرت مولانا شاہ بدرالدین قادری و حضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی جو اپنے زمانے میں اہل تصوف کے امام مانے گئے،انہیں حضرت نصرکے داماد تھے ۔

         حضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی اپنے عہدکے مقدس مقتدائے قوم اورمقبول ترین رہنمائے ملک و ملت تھے۔ان کا نام آج بھی سارے برعظیم میں اپنی فکر و نظر،بزرگی، علم و فضل اوران خدمات جلیلہ کی وجہ سے زندہ و تابندہ ہے جوامت مسلمہ کی ذہنی و فکری تربیت کے لئے انجام دیں۔اوران بے شماراداروں کی وجہ سے جو ملک کے طول و عرض میں ان کی مساعی سے وجودمیں آئے۔وہ مولانا سیداحمدخاں کی تعلیمی تحریک کے ز بردست معاون اورمسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی روحِ رواں تھے۔قدیم علماء اورصوفیاء کے خانوادے سے پہلی اورموثر آوازحضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی ہی کی تھی جس نے تعلیمی تحریک کوقوت بخشی۔ وہ مجلس ندوۃ العلماء کے بانیوں میں تھے جس نے قدیم وجدیدکے تفرقے کو دور کیا۔اورعلماء کے نزاع باہمی کوختم کر کے سب کوایک مرکزپرسمیٹا، وہ انجمن حمایت اسلام لاہور کے مقبول رہنما تھے جس نے نوخیز اذہان کوصحیح رستے پرلگایا۔ علامہ اقبالؔ بھی اپنی نوجوانی میں وہیں سے چمکے۔مختصریہ کہ وہ تمام مسلک و خیال کے حلقوں میں یکساں مقبول و محبوب تھے اور ان کی حیثیت ان سب کے لئے نقطۂ وصل کی تھی وہ بڑے صاحبِ دل صوفی، صاحبِ نظرعالم،صاحبِ ٖفکرسیاستدان،سماجی رہنما،ماہرتعلیم اورمصلح قوم تھے

         انہوں نے 1302 ھمیں آج سے 145سال پہلے سیرت نبوی کی تحریک شروع کی۔ اور سارے برعظیم میں سیرت کاصحیح ذوق اور روحانیت کا کیف پیدا کیا اوریہ انہیں کی تحریک تھی جس نے بے شمار لوگوں کوسیرت نبوی کے باقاعدہ مطالعہ وتصنیف کی طرف متوجہ کیا اورمناظرانہ بحث وجدال کا رخ موڑا۔وہ سحرالبیان خطیب تھے۔مثنوی مولانا روم کوبھی ملک کے گوشے گوشے میں قبول عام انہیں کی خطابت اورمخصوص ترنم نے عطا کیا اورلوگ علم کلام سے آشنا ہوئے۔آج جومثنوی کا موجودہ ترنم زبانوں پرہے۔وہ انہیں کی خطابت اورمخصوص ترنم کا عکس ہے۔وہ علی گڑھ ایم اے ا و کالج کے ٹرسٹی بھی تھے۔اور اس  کالج کویونیورسٹی بنانے کی مہم میں بھی ان کی شخصیت ایک بڑا سہارا تھی۔برعظیم میں کوئی تحریک اورکوئی جدوجہدایسی نہ تھی جس میں ان کی عظیم شخصیت موجبِ تقویت اور راہنما نہ سمجھی جاتی ہو۔ مئ 1935  میں انہوں نے رحلت فرمائی۔

         حضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی کے چار صاحبزادے تھے۔مولانا شاہ حسن میاں،مولانا  شاہ حْسین میاں،مولانا  شاہ  غلام حسنین چشتی اورمولانا  شاہ جعفرندوی پھلواروی اورایک صاحبزادی تھیں،جن کی یادگارمولانا شاہ عزالدین ندوی پھلواروی تھے۔جو پہلے دارالعلوم ندوۃالعلماء میں ادیب و مفسر تھے۔ علامہ اقبال نے اپنی  زندگی میں ان کو شاہی مسجدلاہورکے خطیب ومفتی کی حیثیت سے بلوا لیا تھا۔بعدہٗ مدرسہ شمس الہدٰی پٹنہ،میں شیخ الحدیث رہے۔متعدد کتابیں اردو اور عربی میں ان کے قلم سے نکلیں۔ عربی ادب میں ان کی خدمات کے اعتراف میں صدرجمہوریہ ہند نے  1976 ء میں انہیں تمغہ حسنِ کارکردگی سے نوازا۔

         مولانا شاہ حسن میاں نے جوانی میں انتقال کیا۔اس کم عمری میں ہی انہوں نے درجنوں کتابیں تصنیف کیں۔ انہوں نے اپنے والدماجدکے حکم سے سیرتِ نبویؐ کی تالیف شروع کی، اس وقت تک کوئی مستنداورجامع کتاب سیرت پراردو زبان میں موجود نہیں تھی، اولاً اس مقصدکی تکمیل کے لئے مولانا حسن میاں نے قلم اٹھایا اورمولانائے پھلواروی کی تحقیق و جستجو اور بیانات کو سمیٹ کر ایک جامع سیرتِ نبویؐ  لکھنا شروع کی۔ حسن میاں کی سیرۃالنبی کے کچھ اجزاء میلادالرسول،حْبِ رسول اور خلقِ حسن کے نام سے چھوٹی چھوٹی کتابوں کی صورت میں تو سامنے آئے مگر جامع سیرتِ نبوی کی تکمیل وہ نہ کر سکے۔

         مولانا حسن میاں کے صاحبزادے مولانا حسن مثنٰی ندوی علمی ادبی،سیاسی اور مذہبی دنیا میں محتاجِ تعارف نہیں۔ وہ ملک کے ممتاز صحافی، محقق، ادیب و شاعراور تحریک ِ  پاکستان کے ممتاز اورسرگرم رہنما اور قائداعظم کی مسلم لیگ کاؤنسل کے رکن تھے۔ان کی تصانیف و تالیف چالیس کے قریب ہیں۔ان کا انتقال  1998ء میں کراچی میں ہوا۔

         مولانا شاہ حسین میاں نے 1947 ء میں رحلت کی۔ ان کی زندگی سراپا جدوجہدتھی۔ وہ عہدِ خلافت سے لے کرمسلم لیگ کی نشاۃ ثانیہ اور قیام پاکستان کے فیصلے تک مسلسل مصروف رہے۔بزمِ صوفیا،جمعیت العلماء،آل انڈیا مسلم کانفرنس،اورآل انڈیا مسلم لیگ کے ممتازقائدین میں ان کا شمارتھا،وہ خوش بیان خطیب اورسیاسی رہنماتھے۔وہ حضرت مولانا سلیمان پھلواروی کے جانشین اورصاحبِ سجادہ تھے۔ان کے خلفِ اکبرسید علی اکبر کی ذات گوناگوں خصوصیات اور خوبیوں کا مجموعہ تھی۔ وہ اس ملک کے امداد باہمی کی تحریک کے صفِ اوّل کے لیڈراورممتازتاجر ہونے کے ساتھ ہی شاعر،ادیب،اور صحافی تھے۔انہوں نے قومی زندگی کے مختلف اورمتنوع شعبوں میں کام کیا۔اورہرجگہ اپنی لیاقت،صلاحیت ااور قابلیت کے سکے جما دئیے۔سید علی اکبرنے متعددبارتحریکِ امداد باہمی کے قائد کی حیثیت سے پاکستان کی بین الاقوامی اجتماعات میں نمائندگی بھی کی اور ان بین الاقوامی اجتماعات میں پاکستان کا نام سربلندکیا۔

        ان کا مزارشہیدِملّت روڈپرہل پارک کے قریب بڑے پْرفضا مقام پرہے۔بہادر آبادچورنگی،کراچی کا سرکاری نام علی اکبراسکوائران ہی کے نام سے منسوب ہے۔

         مولانا حْسین میاں کی وفات کے بعدحضرت مولانا شاہ غلام حسنین صاحب چشتی زیبِ سجادہ ہوئے اور ہندوستان میں ہی رہے۔ان کے قلم سے متعدد علمی،ادبی، تحقیقی مضامین نکلے۔تصانیف میں ”خاتمِ سلیمانی“اور”شمس المعارف“کوخاص شہرت حاصل ہوئی۔1974میں انتقال  کیا اورشاہی سنگی مسجدکے احاطہ میں مدفون ہوئے۔

         ان کےچھوٹے بھائی حضرت مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی  1947کےقتل عام کے وقت کپورتھلے میں تھے۔ اورمسلمانوں کا قافلہ جب پاکستان آیا تو وہ قافلے کے ساتھ لاہورتشریف لے آئے،وہ خالص علمی فکرونظرکے بزرگ تھے۔وہ سرزمین پاک و ہند میں اپنی بیش بہا تصانیف اورعلم و تحقیق میں اعلیٰ مقام کے حامل تھے۔کم و بیش چالیس کتابوں کے مصنف تھے،جن میں سے متعدد تصنیف ملک میں مشہور ہیں۔آپ کا انتقال 1982میں کراچی میں ہوا۔

        شاہ محمدسلمان چشتی جن کا ہم آپ سے تعارف کرا رہے ہیں  حضرت مولانا غلام حسنین چشتی کے بڑے صاحبزادے تھے۔نیزعلامہ  شاہ محمدجعفرپھلواروی کے بھتیجے اورداماد بھی تھے۔

        تقسیمِ ہند کے وقت برصغیرمیں سیاسی ہنگاموں کا دورتھا۔پورا ملک ایک انقلاب سے گذررہا تھا۔ان دنوں شاہ سلمان چشتی نے مسلم ہائی اسکول پٹنہ سے میٹرک پاس کرنے کے بعدمزیدتعلیم کے حصول کے لئے پھلواری شریف کوخیربادکہا۔اور 1949میں کلکتہ چلے گئے وہاں میڈیکل کالج میں داخل ہوگئے لیکن شدیدفرقہ وارانہ فساد کی وجہ سے  ہجرت کرکے ڈھاکہ مشرقی پاکستان کا رخ کیا۔وہاں نا مساعد حالات کی وجہ سے میڈیکل کی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اورکامرس پڑھنے کا ارادہ کیا۔ وہاں ان دنوں قائد اعظم کالج قائم ہورہا تھا۔ اس کے قیام میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔اور وہیں داخلہ لے کرانٹرکامرس کا امتحان پاس کیا۔

        شاہ سلمان چشتی 1952 میں کراچی آگئے۔یہاں کراچی یونیورسٹی سے بی کام کرنے کے بعد  1958 میں نیشل بینک آف پاکستان سے منسلک ہو گئے اوراسی سال بینک کی لندن برانچ میں ان کی پوسٹنگ ہوگئی۔  1963 میں وطن لوٹے اورجوش وجذبہ سے قومی بینک کے بنانے اورسنوارنے میں اپنا بھرپور کرداراداکیا۔انہوں نے بینکنگ سے متعلق نہایت مفیدکتابچے بھی ترتیب دیئے۔انتھک محنت، خدمت اوراحساسِ ذمہ داری ان کا نصب العین ہے۔  1965 ءکی جنگ کے دوران سیکورٹی کے انچارج رہے۔ اس دورمیں انکی ہردلعزیزی اپنے حسن کارکردگی کے باعث قابلِ دیدتھی۔جس کا اعتراف اس وقت کے صاحبانِ اختیارنے مختلف سندیں عطا کرکے کیا تھا۔

         انہوں نے عاضۂ قلب کے باعث 1987میں بنک سے اختیاری ریٹائرمنٹ لے لی،اس کے باوجودکہ صحت اچھی نہیں رہتی سماجی کاموں میں اپنی دلچسپیاں اپنے خاندانی روایت کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہیں۔وہ آج کل فاران کوآپریٹوہاوسنگ سوسائیٹی کے چیئرمین،کوآپریٹوہاوسنگ سوسائیٹیزیونین لمیٹڈکے ڈائریکٹر،علی اکبر ممیوریل ٹرسٹ کے مینیجنگ ٹرسٹی،علامہ سیدسلیمان ندوی فاؤنڈیشن کے بورڈآف گورنرزکے ممبرہیں  اوردیگر متعدد اداروں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں جوسب کے سب اعزازی ہیں۔

               شاہ محمدسلمان چشتی صاحب نے مرنجان مرنج شخصیت اورباغ وبہارطبیعت پائی ہے۔ ادب اور شعروسخن کا اعلی مذاق رکھتے ہیں،عمدہ نثرونظم لکھنے پرقدرت ہے۔اور خاص طورپرفی البدیہہ شعرگوئی پرعبورہے،قلمی نام کہیے یا تخلص اس میں بھی نْدرت کا خیال رکھا یعنی ابوالانشاء ؔکے نام  سے لکھتے ہیں انشاءاللہ خان انشاء ؔاورابن انشاء ؔکے بعدابوالانشاءؔ کی ترکیب ہی باقی رہتی تھی،انشاء پردازی ہویا انشایۂ تحقیق وتجسس ہویا خطوط کا آئینہ طنزو مزاح، غزل گوئی،نعت گوئی، رباعی  قطعات غرض تمام اصنافِ سخن پر خامہ فرسائی  کی ہے  اورابھی بقول انکے ارتقاء کے ابتدائی منازل میں ٹامک ٹوئیاں ماررہے ہیں،انہیں کس صنف میں فوقیت حاصل ہے اس کا تعین مشکل ہے،دراصل ادب آرٹ شعریا اسلوب کی جامع  تعریف کرنا حروفِ مقطعات کے معنی تلاش کرنے کے برابرہے،جس طرح ذہنی ارتقاء ہوتا ہے،اسی طرح شعری اورادبی ارتقاء بھی ہوتا ہے،جس طرح انسانی شخصیت موروثی کردار،بول چال،رہن سہن،حرکات وسکنات اورفطری سطح سے عبارت ہے اسی طرح کسی فنکارکے اسلوب کے تعین میں اس کا تخیل،انتخاب موضوع،لفظیات اورروّیہ یا برتاؤ ممدومعاون ثابت ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی شاعرکا جائزہ لیں توساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ شعری اورفنی روایت سے اس کا تعلق کس قسم کا ہے۔

        ابوالانشاءؔ کے فن اورشاعری پرایک سرسری نظرسے تو بس ہم ان کے موروثی اورخاندانی پسِ منظرمیں جس کا حوالہ ہم نے  اجمالی طورپراوپردرج کیا ہے،ان کی طبیعت کی سادگی،تصوف کی لطافت،حالات کا ایک اندرونی کرب اوراس پرپردہ پوشی کی کوشش میں طنزومزاح کی چاشنی دیکھتے ہیں،ان کے نعتیہ کلام میں جہاں عشقِ رسول کی گہرائی نمایاں ہے وہیں شوکت الفاظ،لطیف استعارے اورکمال احتیاط بھی بڑا  واضح نظرآتا ہے۔

12جولائی2015 میں آپ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ عیسیٰ نگری قبرستان، کراچی میں مدفون ہوۓ۔  

ریحان چشتی

No comments:

Post a Comment