Wednesday, 17 September 2025

Hazrat Maulana Shah Izzuddin Nadvi Phulwarvi

 

حضرت مولانا شاہ عزّ الدین میاں صاحب ندوی

        مولانا شاہ عزالدین،حضرت قبلہؒ مولانا شاہ سلیمان پھلوارو ی کےحقیقی نواسے تھے۔ ۱۳۲۳؁ ھ میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے ناناؒ کے زیر تربیت رہے۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فارغ التحصیل ہوئے اور وہیں مدرس (علوم عربیہ) مقرر ہو گئے۔ ادب عربی میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ علامّہ سر محمد اقبال مرحوم کی دعوت پر ندوہ چھوڑ کر شاہی مسجد کے خطیب و امام اورمفتی ہو کر لاہور چلے گئے۔ کئی سال تک وہاں یہ خدمتیں انجام دیتے رہے۔ پھر علامہ سر محمد اقبال کا انتقال ہو گیا اور شاہ عز الدین تقسیم ہند سے پہلے اپنے وطن پھلواری شریف واپس چلے گئے۔ پھر دارالعلوم ندوۃ العلماء میں ادب تفسیر کے پروفیسر ہو گئے کچھ عرصے بعد ملازمت سے سبکدوش ہو کر حج و زیارت سے فارغ ہوئے۔ پھر قومیات اور مذہبی تحریکات میں زیادہ دلچسپی لینے لگے۔ اپنے ناناؒ کے چہیتے نواسے اور مرید وخلیفہ تھے اور ان کے سلسلے کی اشاعت فرماتے رہے ہیں۔ ایک مشہور و متعارف واعظ و مقرر ہیں ان کی تصنیفوں میں ”کشف الظلام“ (اردو ترجمہ شفاء السقام للامام تاج الدین السبکی تصوف میں) کا فی مقبول ہوئی۔ دوسری تصنیفوں میں ”علوم الحدیث“،”حیات احمد بن حنبلؒ“،اور”سیدات اسلام“ چھپ کے شائع ہو چکی ہیں۔آپ عربی مجلّوں کے بھی نامہ نگار تھے۔ آپ کی عربی دانی کے اعتراف میں صدر جمہوریہ ہند نے ۱۹۷۶ء میں صدارتی تمغہ کارکردگی سے نوازا ۔

آپ بہار کی مرکزی دینی درسگاہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ میں عربی ادب اور حدیث کا درس بھی دیتے رہے تھے۔۱۹۷۷ ء میں آپ کا وصال پورنیہ (بہار) میں ہوا، سیرت النبی کے ایک جلسے کی صدارت کے لیٔے تشریف لے گیٔے تھے کہ دل کا دورہ پڑا، پھلواری شریف میں مدفون ہیں۔

ریحان چشتی قادری

No comments:

Post a Comment