Friday, 7 November 2025

Hazrat Qibla Maulana Shah Sulaiman Phulwarvi by Allama Syed Sulaiman Nadvi

 مولانا سید سلیمان ندوی

شمس المشائخ حضرت مولانا شاہ سید سلیمان صاحب پھلوارویؒ 


ہندوستان کے مشہور پُرانے عالم وواعظ و خطیب مولانا شاہ سلیمان صاحب قادری چشتی پھلواروی نے جن کے نغموں نے ہمارے ملک کے پورے طول وعرض کو کم از کم نصف صدی تک پر شور رکھا تھا، وفات پائی، ۲۷؍ صفر ۱۳۵۴ھ کی تاریخ، جمعہ کا دن اور صبح ۷بجے کا وقت تھا کہ یہ طوطیٔ خوشنوا، ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا۔ پھلواریؔ صوبہ بہارؔ میں عظیم آباد پٹنہ سے ملحق ایک مردم خیز مشہور قصبہ ہے، جہاں ڈیڑھ سو برس کے عرصہ میں بہت سے باکمال اہل علم، علماء و صلحاء، مشائخ اور شعراء پیدا ہوئے،مرحوم بھی یہیں کے رہنے والے، اور یہاں کے بزرگوں کے مستند و معتبر خانوادہ کے چشم و چراغ تھے، ستتر اٹھتر برس کی عمر پائی، غالباً ۱۲۷۶ھ میں پیدا ہوئے۔

مرحوم کی جوانی کے عہد میں تین باکمالوں کے درس کی مسندیں ہندوستان میں بچھی تھیں فرنگی محل لکھنؤؔ میں مولانا عبدالحئی صاحب، سہارن پور میں مولانا احمد علی صاحب اور دلّی میں مولانا سید نذیر حسین صاحب کی، شاہ صاحب مرحوم نے فیض کے ان تینوں سر چشموں سے فائدہ اُٹھایا۔ پہلے فرنگی محل آئے، اور یہاں سے فارغ ہو کر سہارن پور اور دہلی گئے،دلّی کے قیام کا زمانہ جس کو ان کی تعلیم کا آخری عہد کہنا چاہئے۔ ۱۲۹۷ ھ مطابق ۱۸۸۰ء  ہے۔

لکھنؤ کے قیام میں درسیات کے ختم کرنے کے بعد انہوں نے طب پڑھی، اور اسی طبیب کی حیثیت سے انہوں نے دنیا میں اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ چنانچہ شروع میں حکیم محمد سلیمانؔ کہلائے، اور اسی کا اثر تھا کہ شاعری میں جس کا چسکا ان کو بچپن سے تھا، اور لکھنؤ کی صحبت میں جس کا چٹخارا اور بڑھ گیا تھا اپنا تخلص حاذق ؔرکھا تھا، وہ زیادہ تر اُردو اور عربی میں اور کمتر فارسی میں شعر کہتے تھے۔ اور لکھنؤ کے مشاعروں میں پڑھے بھی تھے۔ صوبہ بہار کے مشہور عالم شاعر شوقؔ نیموی ان کے ہمدرس و ہم صحبت و ہم استاد تھے، شاہ صاحب مرحوم کی زبان سے ان کے اس عہد کے ایک دو شعر سنے تھے،

اس عہد کے نوجوان علماء نے جو زمانہ کے انقلاب سے متاثر اور قوم و ملّت کی تباہ حالی کے درد سے بیتاب ہو کر روش زمانہ کے مطابق کچھ کام کرنا چاہتے تھے، ندوۃ العلماء کے نام سے پہلے کانپور میں اور پھر لکھنؤ میں ایک انجمن کی بنیاد ڈالی، مولانا سید محمد علی صاحب، مولانا شبلی صاحب، مولانا عبدالحق صاحب حقانی، مولانا ظہور الاسلامؔ صاحب فتح پوری، مولانا ابراہیم صاحب آروی، مولانا شاہ سلیمان صاحب پھلواروی وغیرہ اس جماعت کے ممتاز ارکان تھے۔ اسی انجمن کا پلیٹ فارم تھا۔ جس میں شاہ صاحب مرحوم کی خطیبانہ قوتِ بیان و تسخیر قلوب کا شہرہ عام ہوا۔ ندوۃ العلماء کا کانپورؔ سے لکھنؤ آنا اور وہاں دارالعلوم کی بنیاد پڑنا بھی شاہ صاحب ہی کی تحریک و تجویز کا نتیجہ ہے، ورنہ وہ کھینچ کرکب کا دہلی پہنچا ہوتا۔

ندوہ کی مجلسوں سے مرحوم کی خوش بیانیوں کی داستان اُڑ کر ملک کی انجمنوں اور مجلسوں اور کانفرنسوں میں عام ہوئی۔ سر سید مرحوم نے شاہ صاحب مرحوم کی وہ تقریر جو انہوں نے ندوہؔ کے ایک جلسہ سالانہ میں کی تھی، اپنے اخبار میں’’ شاہ سلیمان کا نیچریانہ وعظ‘‘ کی سرخی سے چھاپی، سر سیّد کے بعد نواب محسن الملک مرحوم نے ان کو اپنی محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس میں شریک کیا۔ جنہوں نے ان دنوں’’نیچری مسلمانوں‘‘ کو بھی مسحور کیا، رنگونؔ وغیرہ میں نواب صاحب کے ساتھ شاہ صاحب بھی کانفرنس کے کاموں میں شریک تھے، اور صاحبزادہ آفتاب احمد خاں کے زمانہ تک شریک رہے۔

مرحوم وسیع النظر عالم، بذلہ سنج ادیب، خوش بیان خطیب، پر اثر واعظ، موقع شناس مقرر اور بڑے بڑے بزرگوں کے حلقوں کے فیضیاب صوفی تھے، ان کو تاریخ کا شوق اور عربی نظم و نثر کا اچھا ذوق تھا۔ اچھے کتب خانوں اور کتابوں کی تلاش رہتی تھی۔ اور اس حیثیت سے وہ اپنے ہمعصروں میں پورا امتیاز رکھتے تھے۔ وہ مذہب کے لحاظ سے وسیع المشرب تھے، وہ سب کچھ تھے، اور سب کے ساتھ تھے:

باما شراب خورد، دوبہ زاہد نماز کرد

( ایک شخص نے ہمارے ساتھ شراب پی، اور (پھر وہی) زاہد نے دو بار نماز پڑھی۔")

تاہم دو باتوں میں وہ نہایت سخت تھے، ایک تو اعتزال کے خیالوں سے بہت برہم ہوتے تھے، اور دوسر ے حضرت علیٰ مرتضیٰ اور اہلبیت کرام رضی اللہ عنہم کی محبت و تعظیم میں بیحد غلو فرماتے تھے، اور اس راہ میں جب جوش میں آتے تھے، تو بڑوں بڑوں پر ہاتھ صاف کردیتے تھے، اس قسم کے ان کے دوستانہ مناظروں کے کئی منظر میں نے اپنی طالب علمی میں دیکھے ہیں۔

ان کا خاندان صوفیہ کا مجمع تھا، تصوف کے گودوں میں پیدا ہوئے، پرورش پائی اور پروان چڑھے، اور عمر بھر اسی رنگ میں رہے۔ اور یہی رنگ ان پر غالب تھا، قادری بھی تھے اور چشتی بھی تھے۔ جہاں اپنے گھر سے فیض پایا تھا، حاجی شاہ امداد اللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے بھی نسبت رکھتے تھے، پنجابؔ، مدراس، شمالی بہار، اور صوبہائے متحدہؔ میں ان کے مریدوں کی بڑی تعداد تھی۔

ان کے وعظوں میں عجب اثر تھا، کبھی رلاتے اور کبھی ہنساتے تھے، ان کے سنجیدہ چٹکلے اور ظریفانہ نکتے لوگوں کو بیحد محظوظ کرتے تھے، ان کی آواز بہت سُریلی اور موثر تھی، ان کالحن نہایت دلپذیر تھا، مثنوی خاص انداز سے پڑھتے تھے، کہ سننے والے جھوم جھوم جاتے تھے، ان کے وعظوں سے ہر خیال اور ہر قماش کے لوگ یکساں دلچسپی رکھتے تھے۔ جاہل، عالم، مولوی،مشائخ، دڑھ منڈے اور بزرگ ریش، نئے پرانے تعلیم یافتہ اور اہل علم سب لذت اندوز ہوتے تھے۔

میرے ساتھ مرحوم کے گوناگوں تعلقات تھے، مجھے اپنے عزیز سے کم نہیں سمجھتے تھے، میرے والد مرحوم ان کے ہم پیر، اور ان کے خسر کے مسترشد تھے، میرے بھائی مرحوم طبؔ میں ان کے شاگرد تھے۔ میں نے بچپن میں پھلواریؔ کے قیام کے زمانہ میں اُن سے ابتدائی منطق کے دو چار سبق پڑھے تھے، وہ جب ۱۹۰۲ء میں ندوہ کے معتمد تعلیمات منتخب ہوئے تھے۔ اور مستقل قیام ندوہؔ میں اختیار فرمایا تھا تو ان کی بزرگانہ عنایات اور حوصلہ افزائیوں نے میری علمی ترقیوں میں مدد دی۔ شاہ صاحب نے مجھے اور میرے ہمدرس مولانا ظہورؔ احمد صاحب وحشی شاہ جہاں پوری کو امتحاناً پیش فرمایا تھا۔ میں نے نواب صاحب کے خیر مقدم میں عربی میں ایک قصیدہ لکھا تھا۔ شاہ صاحب نے یہ کہہ کر مجھے پیش کیا کہ یہ میرے عزیز ہیں اور آپ کو اپنا قصیدہ سنائیں گے، نواب صاحب نے مزاحاً فرمایا کہ یہ جب آپ کے عزیز ہیں تو میں ان کا امتحان نہیں لوں گا۔ کہ امتحان سے پہلے ہی ان پر ایمان لا چکا۔ شاہ صاحب نے فرمایا یہ میرے ہم نام بھی ہیں تو اور بھی یہ امتحان سے بالا تر ہیں۔

میں نے اپنا قصیدہ پڑھا جو افسوس ہے کہ اب موجود نہیں، تو نواب صاحب نے فرمایا۔ کہ میں تو اس پرانی ادب دانی کا قائل نہیں۔ عربی کا کوئی اخبار منگوائیے، اس کو یہ پڑھیں تو البتہ اس زمانہ میں اللواء اور المویدؔ عربی کے مشہور اخبار تھے، وہ منگوائے گئے، اور میں نے اُن کو پڑھا اور صحیح ترجمہ کیا۔ تو بیحد خوش ہوئے، شاہ صاحب بھی بیحد محظوظ ہوئے،اور اس زمانہ کے اخبارات،وکیلؔ،وطن، اور کرزن گزٹ میں نواب صاحب کے اس معائنہ کی جو کیفیت چھپوائی، اس میں میرا ذکر خاص طور سے فرمایا۔ یہ اخبارات میں میرا پہلا ذکر تھا، ان کی اس تحریر میں ایک فقرہ یہ بھی تھا کہ ’’ملک و ملت کی خدمت کے لئے ان شاء اللہ صوبہ بہار ہر دور میں ایک سلیمان پیش کرتا رہے گا‘‘۔رحمہ اللہ،۔

بات میں بات یاد آتی ہے، ندوہ کے ایک جلسہ میں جو لکھنؤ میں غالباً ۱۹۱۵ء؁ میں تھا، چار سلیمان جمع ہو گئے تھے، قاضی محمد سلیمان منصور پوری مصنف رحمتہ اللعالمینؔ، مولانا سلیمان اشرف صاحب بہاری(استاذ دینیات مسلم یونیورسٹی) مولانا شاہ سلیمانؔ صاحب پھلواروی، اور خاکسار سلیمانؔ، شاہ صاحب نے فرمایا کہ آج کل کئی کئی سلیمان پیدا ہو گئے ہیں، لیکن ان میں سلیمانؒ بن دائود میں ہوں۔ع

پریاں نئی نئی ہیں سلیمان نئے نئے

(شاہ صاحب کے والد ماجد کا نام داؤد تھا، اور اسی لئے ان کی مہر میں وورِثَ سلیمان داؤداً، کندہ تھا) مجمع بے اختیار ہنس پڑا۔

پھر فرمایا’’پہلے سلیمان فرد تھا(۱) ذو معینین ہے، فرد ایک بمعنی شعر فرد، دوسرا بمعنی یگانہ)اور اب رباعی ہے، چار چار سلیمان یکجا ہیں۔‘‘ افسوس کہ یہ رباعی قاضی سلیمانؔ کی وفات سے چند سال گزرے کہ مثلّت بن چکی تھی، اور اب ۲۷؍ صفر کو قطعہ ہو گئی، اب اس رباعی کے صرف دو مصرے باقی ہیں خدا جانے یہ بھی کب اس صفحۂ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جائیں گے۔واللہ ھو الباقی۔

شاہ صاحب کے چٹکلے اور تقریری دلآویز نکتے اس قدر ہیں کہ ان کو کوئی جمع کرے تو رسالہ بن جائے۔ رنگون میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا جلسہ تھا، مولویوں نے کانفرنس والوں پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔ شاہ صاحب بھی نواب محسن الملک مرحوم کے ساتھ اس جلسہ میں گئے تھے، تقریر کرنے کھڑے ہوئے۔ تو فرمایا ، یہاں کے مولویوں نے اہل کانفرنس پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے، جس میں شاید میں بھی داخل ہوں مگر غور تو کیجئے کہ نواب محسن الملک تو مہدی ہیں (نام مہدی علی تھا) ان کوکون مسلمان دجال کہے گا۔ اور مجھ پر تو کفر کا فتویٰ لگ ہی نہیں سکتا، کہ خود اللہ تعالیٰ کی شہادت ہے۔ وَ ما کَفَرَ سُلَیْمانُ وَ لکِنَّ الشَّیاطینَ کَفَرُوا (سلیمان علیہ السلام نے کفر نہیں کیا بلکہ شیطانوں نے کفر کیا) مجمع ان نکتوں سے بیحد محظوظ ہوا، اور مولویوں کی فتویٰ گری کا بادل شاہ صاحب کے ان دو چٹکلوں سے ہوا ہو گیا۔

پورے پچاس برس تک ہندوستان کا گوشہ گوشہ ان کے پر کیف و پر اثر خطبوں سے معمور رہا ہے۔ جس جلسہ میں وہ ہوتے تھے،ان کے سوا ہر آواز ماند پڑ جاتی تھی، جلسہ کے اہم موقعوں پر ان کی طوطی گفتاری بڑی بڑی پیچیدگیوں کو حل کردیتی تھی، شاید ۱۹۰۰ء میں ندوہؔ کا عظیم الشان اجلاس پٹنہ میں تھا۔ شرکاء میں ملک کی مشہور ممتاز ارباب عمائم ایک طرف اور اس عہد کے مشہور تعلیم یافتگان جدید آنریبل جسٹس شرف الدین، سید علی امام، سید حسن امام۔ نصیر حسین بیرسٹر، شیخ(سر) عبدالقادر وغیرہ دوسری طرف شریک جلسہ تھے، یہ پہلا موقع تھا جس میں دستار بند اور ہیٹ پوش ایک جگہ مل بیٹھے تھے، اور ملک و ملّت کے درد کا درماں سوچ رہے تھے، حسنؔ امام صاحب کی تقریر کے ایک بے محل فقرہ پر علماء میں برہمی پیدا ہوئی، شاہ صاحب فوراً کھڑے ہو گئے، اور ایسی تقریر کی کہ سب دُھل گیا۔ فرمایا آج پہلا موقع ہے، کہ نئے اور پُرانے مل رہے ہیں، بدگمانیاں دور ہو رہی ہیں، پھر ایک دو فقروں کے بعد حافظ کا یہ شعر اس مزہ سے پڑھا کہ فریقین مسکرا کر رہ گئے۔

لللّٰہ الحمد میاں من واصلح فتاد حوریاں رقصِ کناں نعرئہ مستانہ زدند

  (اللہ کا شکر ہے! میرے اور محبوب کے درمیان صلح ہو گئی / وصل نصیب ہو گیا۔ حوروں نے رقص کرتے ہوئے مستانہ نعرے لگائے۔")

ندوہؔ کے اسی اجلاس میں نصیر حسینؔ صاحب بیرسٹر پٹنہ نے جواب صوفی صافی ہو چکے ہیں، ایک نہایت پر جوش و پر اثر تقریر کی تھی، اثر یہ تھا کہ صدر سے لے کر پائیں تک جو تھا رورہا تھا، بڑے بڑے عمامہ والوں اور ہیٹ پوشوں کو میں نے خود دیکھا(میری عمر اس وقت ۱۵۔۱۶ برس کی ہوگی) کہ وہ ڈھاریںمار مار کر رو رہے تھے، شاہ صاحب کی موقع شناسی ملاحظہ ہو۔ اسی عالم میں لوہا گرم تھا،  چندہ کی تحریک شروع کردی۔ نصیر حسینؔ صاحب نے اپنا کوٹ اور ویسٹ کوٹ اور جو کچھ ان جیبوں میں تھا، مع گھڑی کے ندوہ کی نظر کردیا۔ اسی حالت میں شاہ صاحب نے بر محل ایک شعر اپنی مخصوص لے میں ایسا پڑھا کہ سارے مجمع میں جادوکر گیا۔ مجھے صرف ایک مصرع یاد ہے۔ع

اے خوشا وقتیکہ من عریاں شوم (جسم گلزارم سراپا جاں شوم)

(ترجمہ:"وہ وقت کتنا اچھا ہوگا جب میں (دنیاوی پردوں سے) آزاد ہو جاؤں، اور میرا (یہ) جسم مکمل طور پر روح بن جائے (خالص روحانی وجود میں بدل جائے)۔"

یہ عالم ہو گیا کہ ہر طرف سے روپے کپڑے، گھڑیاں اور زیورات برسنے لگے۔ علماء نے جبے اور دستاریں اُتار اُتار کر نذر کردیں، یاد آیا کہ ایک بزرگ اس میں حضرت شاہ امداد اللہ صاحب مہاجر مکی کے خلیفہ تھے۔ اُن کے سر پر پیر کی دستار تھی، جوش میں آکر وہ بھی انہوں نے اُتار ڈالی وہ دستار جلسہ میں نیلام ہوئی، اور جناب مولانا حبیب الرحمن شروانی جیسے قدر شناس کی قسمت میں آئی۔ بات کہاں سے کہاں نکلی۔ع

لذیذ بود حکایت وراز تر گفتم

(کہانی مزے دار تھی، اور میں نے تمہارا راز بھی بتا دیا۔)

معلوم نہیں کہ عہد ماضی کی یہ کہانیاں حال کے ناظرین کو بھی لذیذ معلوم ہوں یا نہ ہوں، اس لئے اپنے مزہ کے لئے ان کو بے مزہ کرنا مناسب نہیں، شاہ صاحب کی ذات ایک جامع ہستی تھی۔ ایسے لوگ اب پیدا نہ ہوں گے زمانہ بدل رہا ہے، ہوا کا رخ اور طرف ہے، وہ قدیم و جدید کے درمیان حلقۂ اتصال تھے، اب قدیم بھی جدید ہو رہا ہے، اور جدید جدید ترین بن رہا ہے، دعاء ہے کہ ان کے اخلاف برادرم شاہ حسین میاں صاحب اور ان کے بھائی اپنے بزرگ باپ کے سچے جانشین ثابت ہوں۔

(نقل ازخاتمِ سلیمانی)                                                                      (معارف ۔ ماہ جولائی ۱۹۳۵ء)




 


Friday, 26 September 2025

Shah Muhammad Raihan Chishti Qadri

 

عکس شاہ  محمد ریحان چشتی قادری

ادب کا انمول خزانہ 

       ریحان شاہ ایک معروف شاعر، مصنف، اور صحافی ہیں، جو اردو زبان کے لیے اپنی زندگی بھر کی لگن کے لیے جانے جاتے  ہیں۔اپنی بےپناہ تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے انہوں نے تخلیقی ادب، صحافت، اور معاشرے کے لیے انمول اور دیرپا خدمات انجام دی ہیں۔

ادب اور زبان کے لیے خدمات:

   ریحان شاہ کا اردو سے گہرا تعلق ان کے وسیع  کام سے ظاہر ہوتا ہے، جس میں ان کی اپنی شاعری اور اہم تالیفات شامل ہیں۔ ان کی تصنیف کردہ  کتابوں میں شامل ہیں۔

   شعری مجموعہ:     صحراصحرا 

نسب نامہ:          خاندانی شجرہ نسب پرمبنی ایک کتاب۔
گلدستۂ سلیمانیہ: مختلف شخصیات پر مبنی  مضامین کا مجموعہ   

 اپنی تحریروں کے علاوہ، ریحان شاہ ادارت اور تالیف کے شعبے میں ایک اہم شخصیت ہیں، جنہوں نے مختلف موضوعات پر 25 سے زیادہ کتابیں مرتب کی ہیں۔ انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ تحریر، ادارت اور ترجمہ اور کراچی میں فاران پبلیکیشنز کے لیے بھی اہم خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے متنوع کام میں اسلامی   (فقہ) پر ترجمہ شدہ مضامین کا ایک مجموعہ بھی شامل ہے، جو ان کی ہمہ گیریت اور فکری گہرائی کو اجاگر کرتا ہے۔

کمیونٹی اور سماجی خدمات:

          ریحان شاہ نے مختلف کمیونٹی اور سماجی تنظیموں میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے، جو سماجی بہبود کے لیے ان کے عزم  کا   مظاہرہ ہے۔ 1989 سے، وہ کوآپریٹو تحریک میں سرگرم ہیں اور فی الحال کراچی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز یونین لمیٹڈ کے ڈائریکٹر اور فاران کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ کے اعزازی سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ کراچی میں سید علی اکبر میموریل ٹرسٹ کے منیجنگ ٹرسٹی بھی ہیں۔

اہم اداروں کے بانی:  

سید علی اکبر لائبریری اینڈ ریسرچ سینٹر، کراچی

بزمِ ادب    (ادبی سوسائٹی)

حلقہ ِ یاراں   (کلب)

          سن چوراسی سے ستاسی تک، انہوں نے کراچی میں عمران ڈائجسٹ کے سب ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ریحان شاہ کا تعلق ایک معزز اور صوفی گھرانے سے ہے، جس کی تاریخ برصغیر کی تحریک جنگِ آزادی اور پاکستان کی تخلیق سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔


Cooperation in Cooperatives, Page...24
Poet Digital Directory, Published at Calcutta, India, Page...221

ریحان شاہ کے چند اشعار کی تصویری جھلکیاں




























  مرتبہ :شجاع الدین مصباح



Tuesday, 23 September 2025

Sheema Salman Chishti

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

میں نے پاکستان بنتے دیکھا

        زندگی اپنی جو اِس رنگ سے گذری غالبؔ …

جانے کیا سوچ کر میں نے قلم اُٹھایا ہے۔ اِس وقت میرے ذہن میں ماضی ریشم کے کپڑے کی مانند آہستہ آہستہ رینگ رہا ہے۔ بس یہ جی چاہا کچھ لکھوں۔

        ہاں تو بھئی جیسے سب بچے اپنے والدین کے ساتھ کہیں نہ کہیں رہتے ہیں کسی نہ کسی گھر میں رہتے ہیں ہم لوگ بھی ریاست کپور تھلہ میں رہ رہے تھے۔ والد وہاں کی شاہی مسجد میں خطیب تھے۔ ننیھال میری قنوّج میں تھی اورو ہاں ہم لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ مگر ایک بار ایسی مشرقی پنجاب کپور تھلے گئی کہ دوبارہ قنوج جانا نصیب ہی نہ ہوا۔ 1947 ء جب آخری بار قنوّج سے واپس آئی تو کپور تھلے میں بھی رہنا نصیب نہ ہوا۔ اور ایک ماہ میں ہی ہجرت کرنا پڑی۔کپور تھلے کی یادیں آج بھی سینے میں ویسے ہی پنہاں ہیں جیسے اپنے پیارے وطن قنوج کی۔ ہجرت کی کہانی کیونکہ کپور تھلے سے شروع ہوئی۔ لہذا وہیں سے شروع کرتی ہوں۔

کپور تھلہ کی شاہی مسجد

ایرل ویو

میں، میرے والدین اور میری بہنیں سب ٹھاٹھ دار اور عزت دار زندکی گذار رہے تھے گھر میں کسی شئے کی کمی نہ تھی۔ بے حد سجا سجایا خوبصورت گھر۔ والد چونکہ شاہی مسجد کے خطیب تھے لہٰذا اُس شاندار مسجد کا بے حد لق ودق باغ بھی تھا ۔میں تصور میں اکثر وہاں کے عظیم الشان باغ میں تتلیاں پکڑتی رہتی ہوں اپنی پالتو بکری کو بھگا رہی ہوں یا اپنے گھر کے دروازے پر لگے امرود کے درختوں پر چڑھی امرود توڑ رہی ہوں، گرمیوں کی جلتی دوپہروںمیں گھر سے ذرا فاصلے پر فالسے کے جو درخت تھے اُن کے فالسے میں نے کبھی پکنے نہ دئیے۔ امرودوں کی وہ قطار جو ہمارے گھر کے سامنے تو تھی مگر ہماری نہ تھی۔ جب والد صاحب نے یہ دیکھا کہ بچے توڑنے سے باز نہیں آتے تو انہوں نے کئی درخت خرید لئے۔ پھر تو ہمارے مزے ہو گئے تھے ہمارے گھر کے بائیں جانب ایک بالکل ’’منّا‘‘ سا کھیت تھا۔ جس میں ہمارے گھر کے لئے ہر قسم کی سبزیاں لگائی جاتی تھیں اور جو باغبانوں کے حصے میں بھی آتی تھیں۔ پچھواڑے پہلے ہری مرچوں کا کھیت تھا مختصر سا۔ اِس کے بعد دیوان صاحب کا آموں کا باغ تھا اور وہیں درختوں کے درمیان اُن کی بے حد شاندارکوٹھی تھی۔ کبھی کبھی دو چار ساتھی مل جاتے یا بڑی بہنیں اُکساتیں کہ جاؤ کچی کیریاں دو چار توڑ لاؤ۔ تو ہم تمھاری گڑیا کے اچھے اچھے کپڑے سی دیں گے۔ تو میں فوراً راضی ہو جاتی۔ آج بھی میرے کانوں میں وہاں کے مالی کی رعب دار آواز گونجا کرتی ہے جو وہ طوطوں اور دیگر پرندوں کو اڑانے کے لئے لگایا کرتا تھا۔

        کیا پرُسکون زمانہ تھا نہ کوئی فکر نہ کوئی غم بس ہنسنا کھیلنا سمجھتی تھی زندگی اِسی کا نام ہے۔ مجھے خاصہ ہوش تھا جب ہم اپنا پیارا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ہم لوگوں کو قنوج سے آئے ہوئے صرف ایک ڈیڑھ ماہ کا قلیل عرصہ ہوا تھا کہ اچانک ایک روز دوپہر کے وقت ہمارے والد کے ایک دوست کیپٹن ڈاکٹر عباس نے ایک آدمی کے ہاتھ ایک مختصر سا پرچہ لکھ کر بھیجا ’’ابھی اور اِسی وقت بال بچوں سمیت میرے پاس آجائیے شہر میں فسادات کا شدید خطرہ ہے‘‘۔اور پھر ہم بد نصیب ایسے گھر سے نکلے کہ دوبارہ گھر میں آنا نصیب نہ ہوا والدین نے سوچا دو چار دنوں میں جب حالات قدرے بہتر ہو جائیں گے تو پھر گھر لوٹ آئیں گے۔ مگر کرفیو لگ گیا۔ مجھے یاد ہے جب گھر سے چلنے لگے تو والدہ نے ایک دری اپنا پاندان ایک بیگ میں چند کپڑے اور زیور کے سوا کچھ نہ لیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی کوٹھی میں ہم لوگ آٹھ دس روز رہے۔ جب کرفیو کھلاتو ہمارے والد کے ساتھ ڈاکٹر صاحب نے دو محافظ ہمراہ کئے جن کے ساتھ ہمارے والد گھر آئے، اُف والد صاحب نے جو کچھ آ کر بتایا۔ وہ دل دہلانے کے لئے کافی تھا۔جب میں سپاہیوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوا تو سکھ ننگی تلواریں لئے گھر میں گھوم رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگے کیا لینے آئے ہو۔ میں نے کتابوں کی طرف اشارہ کیا یہ کتابیں لینا چاہتاہوں۔ غرض کہ دو بوریوں میں کتابیں بھریں سپاہیوں نے اُن سکھوں سے کچھ کہہ سن کر باورچی خانے میں رکھا ہوا آٹا چاول اور کچھ برتن بوری میں بھر لئے اور یہ تھا ہمارا  اثاثہ۔ہاں کچھ کپڑے بھی یاد ہیں جو والد صاحب نے اپنے گھر سے اجنبی بن کر سکھوں کی اجازت سے اُٹھائے تھے۔ پھر والد صاحب نے پالتوکبوتروں کو ڈھیر سا دانہ ڈالا۔ اور پھر اپنے بھرے ہوئے خوبصورت گھر پر آخری نظر ڈال کر تانگے پر سوار ہو گئے۔ مجھے تو آج بھی ایسا محسوس ہوتا ہے۔ جیسے ہمارا گھر ہمارا منتظر ہے۔ آج بھی چینی کے خوبصورت برتن قیمتی صوفے مسہریاں میز کرسیاں کھلونے اور ہر ہر چیز ویسے ہی سلیقے سے رکھی ہے آج بھی وہاں کی ہر چیز ہمیں پکار رہی ہے۔ ہمیں یاد کر رہی ہے۔ وہاں کے پھل پھُول۔ آہ کیا کیا یاد کروں کیا کیا بھولنے کی کوشش کروں کیپٹن عباس کے وہاں چند دن رہنے کے بعد ہم سب لوگ ایک بڑے قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے۔ اُس قافلے میں سوائے ریل ہوائی جہاز کے ہر سواری تھی حتیٰ کہ پیدل بھی لوگ سفر کررہے تھے۔ کیپٹن عباس کی سربراہی میں یہ عظیم الشان قافلہ روانہ ہوا ،ہاں یاد پڑتا ہے کہ راستے میں کیپٹن عباس پر دو تین بار قاتلانہ حملہ ہوا ایک بار چھُرا کھینچ کر مارا گیا جو شیشہ توڑتا ہوا دوسری جانب نکل گیا اور خدا نے اُن کو بچا لیا۔ دوسری بار ایک سکھ ایک بم کی پن نکالتا رہ گیا جو اتفاق سے نہ نکل سکی۔ راستے میں چند ایسے خوفناک مناظر دیکھے جو آج بھی لرزا دیتے ہیں قافلہ چیونٹی کی چال سے رواں دواں تھا ،ہر سواری میں لوگ ماچس کی تیلیوں کی طرح بھرے ہوئے تھے۔ ہمارے گھر سے ٹوٹل لوگ یہ تھے نانی، والد والدہ دو بڑی بہنیں پھر میں، مجھ سے چھوٹی دو بہنیں۔ہماری سب سے چھوٹی بہن پانچ ماہ کی تھی۔ مجھے تھوڑا بہت یاد ہے کہ بھوک پیاس سے دونوں چھوٹی بہنوں کا بُرا حال تھا۔ ٹرک میں لوگ ایسے ٹھُسے ہوئے تھے جیسے ماچس کی تیلیاں۔ اگر کسی کے پاس تھوڑا بہت کھانا پانی تھا بھی تو وہ رش کی اِس دھکم پیل میں نکالنے کی پوزیشن میں نہیں تھے غرضکہ چھوٹی بہن جب روتے روتے بے ہوش ہو گئی تو لوگوں نے والدہ سے کہا’’ اِسے یہاں پھینک دو۔ ویسے بھی یہ تو مر ہی جائے گی‘‘۔ مگر ماں کی ممتا نے اُسے مزید سینے سے لگا لیا۔ کہ جب تک اس کے دم میں دم ہے ایسا نہیں کروں گی مجھے یاد ہے میں کھڑکی سے منہ نکالے باہر دیکھ رہی تھی۔ کہ اچانک میری نظر سات آٹھ درختوں کے ایک جھنڈ پر پڑی جن کے سائے میں تین سکھ بیٹھے تھے۔ آئیے آپ کو بتاؤں کہ اُن میں سے دو سکھ کہاں بیٹھے تھے وہ ایک آدمی کی پیٹھ پر اطمینان سے بیٹھے تھے جو اوندھا پڑا تھا اور مر چکا تھا۔ اُس کی پیٹھ میں چمکتا ہوا خنجر گڑا تھا۔ تیسراسکھ وہیں کھڑا خونخوار نظروں سے اُس شہید کو دیکھ رہا تھا ،آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ یہ منظر دیکھ کر ننھّے سے دل پر کیا گذری ہو گی ذہن پر کیسا دھجکا لگا ہو گا پھر ایک میں ہی کیا جانے کتنوں نے یہ بھیانک منظر دیکھا ہوگا بہر حال قافلے والے ہزاروں وسوسے دلوں میں لئے سفر کرنے پر مجبور تھے۔ ہر قدم پر خوف، تھکان، ہر ایک کو اپنا اپنا گھر اُجڑنے کا غم۔ غرضکہ اپنے لُٹنے بکھر جانے کی داستان ہر چہرے پرعیاں تھی۔اب سوچتی ہوں تو ایک شعر ذہن میں آتا ہے۔

اندھیری رات، تھکی ہمتیں، کڑی منزل

سلامتی کی دعا مانگ    کارواں   کے لئے

بہر حال بھوکے پیاسے تھکے ہارے جیسے تیسے کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد ہم لوگ اپنے قافلے کے ساتھ جالندھر پہنچ گئے، اٹھارہ دن کیمپ میں کیسے گذرے۔ شدید گرمی میں بھی فوجیوں کی لمبی لمبی بیرکوں میں اندھا دھند لوگ ٹھنسے ہوئے تھے ،باہر جدھر نگاہ جاتی تھی لوگ ہی لوگ نظر آتے تھے ایک حشر کا ساسماں تھا۔ جالندھر کیمپ میں جس مسلمان سپاہی نے ہماری مدد کی تھی۔ اُس کا نام فضل الٰہی تھا اور وہ ہم لوگوں کے لئے اپنے نام کی طرح ثابت ہواشدید ترین گرمی لوگوںمیں کو ایک ایک لوٹے پانی کے لئے شدیدجدوجہد کرنا پڑتی ایسے میں اُس نے بڑی بڑی دو بالٹی پانی کا بندوبست کیا کہ آپ لوگ تھوڑے تھوڑے پانی سے غسل کر لیں تو ہم لوگ خوشی کے مارے رو دئیے۔ میں تو وہ دو جھلنگی چار پائیاں بھی نہیں بھولی جن کو اُس سپاہی نے مہیا کیا تھا کہ جب اندھیرا ہو جائے تو اِن چارپائیوں کو آڑ بنا کر اِن پر کوئی کپڑا ڈال کر آپ لوگ نہا لیں۔ پھر فوجی کینٹین سے کئی بار کھانے کا بندوبست کیا۔ وہ اللہ کا بندہ ملا کیسے تھا آئیے میں آپ کو بتاتی ہوں۔ ہوا یوں کہ میں تھوڑے سے پانی کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی تھی۔ کیمپ سے کچھ ہی فاصلے پر ملٹری کی بیرک تھی۔ وہاں نلکا نظر آیا مگر نلکا کھول کرسوائے مایوسی کے کچھ نہ ملا جس تڑپ اور لگن سے نلکے کی طرف بڑھی تھی۔ اُتنی ہی مایوسی ہوئی، میں نے بڑی بے چارگی سے چاروں طرف دیکھا اور پھر جانے کیا سوچ کر نلکاکی ٹوٹی گھمانے لگی۔ اِتنی دیر میں ایک آدمی بیرک کے برآمدے میں نظر آیا اُس نے میرے ہاتھ میں خالی برتن دیکھ کر پوچھا، ’’بیٹی پانی چاہئے اندر آ کر لے لو‘‘۔’’ نہیں میں اندر نہیں آؤں گی تم پانی میں زہر ملا دو گے‘‘ اُس نے میری بات سنی۔ پھر ایک مہربان سی ہنسی اُس کے ہونٹوں پر آگئی۔ ’’بیٹی ڈرو نہیں میں مسلمان ہوں مجھے یقین نہ آیا‘‘۔ ذہن میں سکھوں، ہندؤں کی درندگی بسی ہوئی تھی۔ میں نے کچھ سوچا اور پھر یوں گویا ہوئی ’’ٹھیک ہے آپ کلمہ پڑھ کر سنا دیں پھر میں پانی لے لوں گی‘‘ اُس نے غور سے میری طرف دیکھا میں اُس کی آنسوؤں سے بھری آنکھیں کبھی نہیں بھول سکتی۔ پھر بغیر ایک منٹ کی دیر کئے وہ روانی سے کلمہ پڑھنے لگا۔ اندر میں پھر بھی نہیں گئی۔ پانی کا برتن بلا تاخیر اُس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ پانی وہ جب اندر سے لے کر آیا تو میرے سر پر ہاتھ پھیر کر کہنے لگا۔ بیٹی اپنے والد کو میرے پاس مغرب کے بعد بھیج دینا مجھے اُن سے ملنا ہے اور پھر وہ فرشتہ رحمت بن کر ہماری مدد کرتا رہا۔ جو بھی اُس سے ہو سکا۔ کیمپ کا یہ حال تھا تا حدِ نگاہ سر ہی سر نظر آتے تھے۔ سامنے جو میدان تھا لوگ انتہائی مجبوری کی حالت میں اُس کو باتھ روم بنائے ہوئے تھے۔ نہ کوئی اُوٹ تھی نہ کوئی پردہ۔ اگرچہ باتھ روم بنے ہوئے ضرور تھے مگر فاصلہ زیادہ ہونے پر لڑکیوں کو وہاں جانے نہیں دیا جاتا تھا۔ مبادہ سکھ اور ہندو وہاں گھات میں ہوں۔ میرے کانوں میں وہ دردناک چیخیں آج بھی گونج رہی ہیں اُن بیکس لڑکیوں کی چیخیں جو ہندؤں اور سکھوں کی بے رحمی کا نشانہ بنتے گھسیٹی جاتی تھیں۔ اُس بے رحم دور میں ہندؤں اور سکھوں کی بے رحمی قابلِ دید تھی۔ ہندؤں اور سکھوں نے مل کر مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جس طرح عزتیں خراب کیں جس طرح اذیتیں دیں جس طرح گھروں کو آگ لگائی جس طرح اپنی کرپانوں تلواروں کی پیاس بجھانے کے لئے مسلمانوں کا قتلِ عام کیا وہ تاریخ میں تو لکھا ہی گیا تاریخ اُسے رقم کرے گی ہی۔دلوں پر بھی پتھر کی لکیر کی طرح رقم ہے اور جو واقعات دل پر رقم ہوجائیں وہ تو انمٹ ہوتے ہیں ہمیشہ کے لئے ایک نفسا نفسی کا عالم تھا۔اپنی یاداشت سے وہ موٹے چاول کیسے نکال دوں جو ایک فیملی نے باجی کو دئیے تھے کہ آپ لوگ کل سے بھوکے بیٹھے ہوئے ہیں یہ کچے چاول شاید آپ کے کچھ کام آسکیں۔ جن کا وزن آدھا کلو سے زیادہ نہیں تھا۔ کیمپ میں کئی لوگ کھانا پکا رہے تھے ایک فیملی جب پکا چکی توہماری والدہ نے اُن کے جلتے بجھتے چولھے پر وہ چاول چڑھا دئیے۔ جیسے تیسے کر کے آخر وہ پک ہی گئے نمک پاس تھا جو چاولوں پر ڈال دیا گیا مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں وہ چاول کھا رہی تھی تو رو رہی تھی کیونکہ ایسا کھانا پہلے کبھی کھانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ حلق سے وہ موٹے چاول اُترنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ والدہ اور بڑی بہنوں کی ڈانٹ بھی پڑی۔مگر خدا بڑا رحیم ہے۔اُسی کیمپ میں اُس نے تندوری روٹیاں اور آلو گوشت بہت مزیدار بھی کھلایا۔ ہوا یوں کہ جب ہماری آپا نے دعا کی۔’’یا اللہ تو میری دعا سن آلو گوشت اور تندوری روٹیاں کھلا دے ‘‘واقعی دعا کی قبولیت کا وقت تھا۔ کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے کے بعد کیا دیکھتے ہیں کہ فضل الٰہی آلو گوشت اور گرم گرم تندوری روٹیاں لئے کھڑا ہے۔ کینٹین والوں سے میں نے کہہ رکھا تھا کہ اس کیمپ میں میرے عزیز ٹھہرے ہوئے ہیں مجھے کچھ کھانا چاہیے اور یوں وہ کھانا ہم تک پہنچا۔

        یاد ہے کہ اُس کیمپ سے ہم لوگوں کو کہیں اور منتقل ہونا تھا جو بھی تھوڑا بہت سامان تھا وہ اُٹھائے ہوئے ہم لوگ چلے جا رہے تھے پیدل کہ اتنے میں کالی کالی گھٹاؤں نے آسمان کو ڈھانپ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بارش کے آثار ہونے لگے جلدی جلدی والد نے اِدھر اُدھر نظر ڈالی تو ایک بڑی سی کوٹھی نظر آئی۔ پھر اُس کوٹھی کے برآمدے میں گھر والوں کی اجازت سے بیٹھ گئے اتنی ہی دیر میں شدید بارش شروع ہو گئی۔ ہم سب بے یادومددگار ایک دوسرے سے جڑے سکڑے سمیٹے بیٹھے تھے وہ کوٹھی کسی میجر صاحب کی تھی تھوڑی ہی دیر میں میجر صاحب نے گرم گرم چائے اور پاپے لا کر دئیے۔ ہائے وہ کسمپرسی کا عالم اور وہ چائے۔ کیونکہ اگر اُس وقت کوئی سونے کے ڈلے بھی دے دیتا تو ہماری ضرورت شاید پوری نہ ہوتی۔ جو اِس بے چارگی کے عالم میں اِس طوفانی بارش میں اِس چائے نے پوری کی اور پھر سب سے بڑی بات، اُن بڑے میاں کا شفیق سلوک اور میٹھی زبان نے اُن کو زندہ جاوید بنا دیا،یقینا وہ میجر صاحب اِس نکتے سے پوری طرح واقف تھے کہ۔

اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں اِس جہاں میں

ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

اور پھر یوں ہوا کہ چائے کی چند پیالیوں اور تھوڑے سے پاپوں نے میجر صاحب کو’’مرنے‘‘ نہیں دیا، کسی نہ کسی طرح قافلہ پھر روانہ ہوا،اور جو والٹن کیمپ پہونچے،بھوکے پیاسے تھکے ہارے مگر یہاں اتنا اطمینان ضرور تھا کہ کوئی قتل کرنے نہیں آئے گا۔ یہاں بھی غدر کا سا عالم تھا اور ہم سب اپنے والد کے ساتھ سائے کی تلاش میں پھر رہے تھے، پھر ایک جگہ ایک ٹوٹا پھوٹا برآمدہ نظر آیا جس کے اندر ایک چھوٹا سا کوٹھری نما کمرہ بھی تھا، ہمارے والد نے ہم سب کو یہاں بیٹھا دیا اور خود بھی ایک طرف بیٹھ گئے،اتفاق سے کوٹھری میں ایک چھوٹی جھاڑو پڑی مل گئی وہ لے کر آپا نے جگہ صاف کی دری بچھائی اور جو تھوڑا بہت سامان تھا ایک طرف رکھ دیا۔ گھنٹہ بھر بھی مشکل سے آرام کیا ہو گا سب نے کہ میرے والد نے جن کو ہم سب بھائی میاں(حضرت مولانا شاہ محمد جعفر پھلوروی) کہتے تھے ۔مجھے کہنے لگے چلو بیٹا چل کر کچھ کھانے کا بندوبست کریں،وہاں سے نکلے تو معلوم ہوا کہ وہاں پر رضاکار مہاجروں کے قافلے کے لئے بڑی بڑی دیگیں چڑھا رہے ہیں مگر وہ دیگیں ایسی نہیں تھیں،جیسی آج کل شادی بیاہ میں پکائی جاتی ہیں۔ وہاں تو لٹے پٹے لوگوں کا پیٹ بھرنے سے مطلب تھا جو بھی پک جائے جیسا بھی پک جائے، بھائی میاں نے کہا بیٹا ایک طرف تم جاؤ ،مگر بہت دور مت جانا کہیں رستہ نہ بھول جاؤ، کوئی نشانی یاد رکھنا، دوسری سمت میں جاتا ہوں جو تمھیں مل جائے تم لے لینا جو مجھے ملا میں لے آؤں گا۔ اپنا ٹھکانہ یاد رکھنا،بھولنا مت۔اور پھر ایک چھوٹی سی لڑکی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں ایک برتن تھامے بڑے عزم و حوصلے کے ساتھ کھانے کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔چار مختلف جگہ دیگیں چڑھ رہی تھیں اُس ننھی منّی سی لڑکی نے ہر جگہ پوچھا کہ یہ کھانا کب تیار ہوگا کب ملے گا۔ایک جگہ معلوم ہوا کہ مونگ پک رہے ہیں تھوڑی دیر میں تیار ہو جائیں گے، یہ سن کر وہ بچاری بڑے صبر سے ایک طرف بیٹھ گئی اور اپنے برتن کو مضبوطی سے پکڑ لیا، مبادہ اُس سے کوئی یہ برتن ہی نہ چھین لے،پھر میں اپنے گھروالوں کے لئے کھانا کیسے اور کس چیز میں لے کر جاؤں گی کھانا پکنے میں دیر تھی وہ اپنے خیالوں میں گم ہو کر تصورات کی دنیا میں چلی گئی،ہاں ریاست کپورتھلہ میں، جہاں اُس کے والد کا خوبصورت سجا سجایا گھر تھا اور ہر آرام و آسائش کی چیز موجود تھی،شاہی مسجد کا باغ کوئی معمولی باغ نہیں تھا، لق ودق باغ شاندار روشیں، خوبصورت فوارے، پھولوںپھلوں سے لدے اُونچے اُونچے تناور درخت اور لا تعداد رنگین تتلیاں،اُس کا چھوٹا سا بکری کا بچہ بھی اُسے بُری طرح یاد آنے لگا جسے وہ باغ میں بے دریغ بھگاتی پھرتی تھی،تصور میں وہ اب بھی تتلیاں پکڑ رہی تھی، خوبصورت سافراک پہنے سر میں ربن لگائے جوتے موزے پہنے ،مگر ایک دم کچھ آدمیوں کے لڑنے کی آوازوں سے وہ چونک اُٹھی، اُس نے بے ساختہ اپنے سراپے پر نظر ڈالی،یہ بچی اُس تتلیاں پکڑنے والی بچی سے کتنی مختلف تھی،اُلجھے ہوئے بال جو کئی دنوں سے تیل سے محروم تھے، ننگے پیر میلے کپڑے ہونٹوں پر جمی پپڑیاں ،جوتا تو کیمپ میں ہی چوری ہو گیا تھا، اپنے ننگے پیروں پر نظر پڑتے ہی اُسے صاف ستھری جوتے موزے پہنے وہ لڑکی بہت یاد آئی اور اِس سے پہلے کہ اُسے بہت سی یادیں گھیر لیتیں،تیز بھوک کے احساس نے اُسے تصور کی دنیا سے نکال باہر کیا، وہ تیزی سے اُٹھی مونگ تیار ہو چکے تھے اُن کی بھینی بھینی خوشبو نے اُس میں ایک انجانی قوت پیدا کردی، بڑے بڑے لوگوں کی دھکم پیل میں وہ کچھ روٹیاں اور مونگ لینے میں کامیاب ہو گئی۔پھر تو جیسے اُس کے پَر لگ گئے ۔ اِس وقت اُس کے تصور میں بھوک سے نڈھال وہ چہرے تھے جو اُس کے اپنے تھے،اپنی نانی اپنی والدہ اپنی بہنیں اور والد۔اپنے ٹھکانے پر پہونچتے پہونچتے کئی بار ٹھوکر کھاتے کھاتے بچی اور جب اپنے ٹھکانے پر پہونچی،تو ننھے ننھے ہاتھوں میں کھانا اور آنکھوں میں کھانا حاصل کرنے کی چمک لئے وہ صرف شیما تھی، ہاں وہ میں تھی۔کچھ دیر میں بھائی میاں آگئے وہ بھنے چنے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے،غرض سب نے مل کر مونگ اور روٹیاں کھا لیں چنے رات کے لئے رکھ دئے گئے، کھانا کھا کر بھائی میاں نے کہا تم سب یہاں آرام سے بیٹھو،لاہور میں میرے ایک دوست ہیں ملک نصراللہ خاں عزیز ؔاُن کا پتہ میرے پاس ہے میں جا کر اُن کو تلاش کرتا ہوں وہ یقینا ہماری مدد کریں گے۔یوں بھائی میاں روانہ ہو گئے،جاتے جاتے کہہ گئے دیر سویر ہو سکتی ہے پریشان مت ہونا۔ مجھے یاد پڑتا ہے مغرب کے بعد جب بھائی میاں آئے تو اُن کے ساتھ ملک صاحب کے دو بیٹے اُن کے ہمراہ تھے اُن لوگوں نے دو تانگوں کا بندوبست کیا تقریباً ہم لوگ عشاء کے وقت والٹن کیمپ سے روانہ ہوئے۔پھر تقریباً بارہ بجے رات کو ملک صاحب کے گھر،جو گوالمنڈی میں تھا پہونچے،چھوٹا سا صحن مختصر سا برآمدہ اور ایک کمرہ ہم لوگوں کو رہنے کے لئے مل گیا سب انتہائی تھکے ہوئے تھے،جاتے ہی سو گئے۔صبح سب سے پہلے آپا اُٹھیں اور ہر چیز کو ٹھیک ٹھاک کرنے لگیں ابھی وہ چیزیں رکھ ہی رہی تھیں کہ دروازے پر دستک ہوئی،دیکھا تو ملک صاحب کی نوکرانی ایک بڑی ٹرے میں مکمل ناشتہ لئے کھڑی ہے گھر چھوڑنے کے بعد پہلی مرتبہ سکون سے ناشتہ کیا،اور پھر اِس کے بعد تو جیسے اِس گھر کے لوگوں نے احسانات کی بارش کردی ہم لوگوں پر۔نہ صرف پورے خاندان کو ٹھہرنے کی جگہ دی بلکہ ضرورت کی ہر چیز مہیا کرتے رہے، کھانا کپڑے روپے برتن اور سیکڑوں چیزیں، حتیٰ کہ اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو دوا علاج بھی کرواتے۔

        سوچتی ہوں کہ وہ نہ تو ہمارے رشتہ دار تھے نہ برادری کے نہ ہمارا خون،صرف دوستی کا حق ادا کیا اور کچھ اس خوبصورتی سے ادا کیا کہ آج ساٹھ برس گذرنے کے باوجود نہیں بھول پائے۔ ہمارے بدترین وقت میں ایسا بھرپور ساتھ دیا جس کی مثال کہیں نہیں مل سکتی،جب تک بھائی میاں بیکار رہے ملک صاحب برابر مدد کرتے رہے، اور کچھ اِس انداز سے کہ دوسرا شرمندہ نہ ہونے پائے وہ ایک سچا مسلمان گھرانہ تھا دیندار شریف مخلص،آنحضرتﷺ نے بار بار جو اخلاق پر زور دیا ہے تو اُس میں کتنی بڑی مصلحت ہے اخلاق کے معنیٰ بہت وسیع ہیں۔اخلاق کے معنی یہ نہیں کہ کسی کومسکرا کر دیکھ لو،لفظ اِخلاق میں وہ تمام کی تمام ذمہ داریاںآجاتیں ہیں جو ملک صاحب کے گھرانے نے ادا کیں۔ اب میں سوچتی ہوں کہ کبھی نہ کبھی ہم لوگوں سے اُن لوگوں کو کوئی تکلیف بھی ضرور پہونچی ہو گی، مگر آفرین ہے اُن سب پر، اُن لوگوں کے لہجوں کی نرمی طبیعتوں کی انکساری اور بیکراں خلوص نے ہم لوگوں کے دلوں میں ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں،جو رہتی دنیا تک نہیں مٹیں گے۔ میں نے اُن کی بیگم کو کبھی درس میں جاتے نہیں دیکھا، کبھی وعظ کہتے نہیں سنا جو باتیں انسان کو درس اور وعظ سے سیکھنا چاہیے وہ اُن کے عمل میں موجود تھیں ،انسان کا کام اللہ کے بنائے ہوئے راستوں پر چلتے ہوئے اللہ کی مخلوق کے کام آنا ہے اس میں کوئی جمع ضرب تقسیم نہیں، خاص طور سے پردیسیوں مسافروں یتیموں بیکسوں اور پریشان حال لوگوں کے لئے، میرا اپنا پنجابی ایک شعر ہے

ہک دارنوں اودا ہک پھڑا دلدارانوں دے چھڈپیار

دیر توں کلیّاں بہہ کے سوچن جت ہوئی کہ ہار

آج وہ لوگ بہت یاد آرہے ہیں جو مر کے بھی زندہ ہیں۔

        ہم اپنی ذات میں جتنے بُرے سہی مگر اپنے عظیم محسنوں کو بھولنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے، جنہوں نے ہمیں اُس وقت سہارا دیا جب نہ پیر میں جوتی تھی نہ سر پہ چادر، اُن پناہ گزینی کی گھڑیوں میں ایک وقت ایسا بھی آیا، کہ والد صاحب ہم سب کے ساتھ کسی سایہ دار درخت کی تلاش میں تھے جہاں نظر جاتی تھی وہاں ہماری طرح کے بے یارومددگار پہلے سے کسی نہ کسی درخت کی چھاؤں میں بیٹھے تھے پھر ایسے بے رحم دور میں اللہ تعالیٰ نے فضل الٰہی ،میجر صاحب اور ملک نصراللہ خاں جیسے ’’دل ‘‘والے ہم لوگوں کو عطا کردئیے۔

سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

الغرض کپورتھلے میں اپنا گھر چھوڑنا،کیمپ میں گذارے ہوئے دن در در کی ٹھوکریں۔اچھے اور بُرے لوگوں کا ملنا داستان تو بہت طویل ہے،مگر جو جو باتیں یاد آتی جا رہی ہیں لکھتی جا رہی ہوں، مگر جو کچھ بھی لکھ رہی ہوں وہ سو فی صد سچائی پر مبنی ہے یہ کوئی افسانہ نہیں ہے۔جیسے  

بڑھا بھی لیتے ہیں کچھ زیبِ داستاں کے لئے

            1947 ءمیں پارٹیشن کے نام پر جو آندھی زور دار آندھی چلی اُس نے بہت سے نہیں بلکہ ہزاروں گھروں کو اُجاڑدیا،لوگوں کے سروں سے چھتیں چھین لیں،ماؤں کی گودوں سے بچے چھین لئے،لوگ تباہ وبرباد ہوگئے خواتین بیوہ ہو گئیں سہاگ اُجڑ گئے گھر لٹ گئے صدیوں کی جمی جمائی گرہستیاں پل کے پل میں مٹ گئیں،عزتیں گئیں،لاکھوں جوان شہید ہوئے۔  1947 ء  میں جو آندھی آئی وہ اتنی شدید تھی،ایسی خوفناک تھی کہ لوگ آج تک اُسے نہیں بھول پائے۔اور پھر جب آندھی اپنی پوری شدت کے ساتھ چل رہی ہو اور انسان اُس میں خشک پتوں کی طرح اُڑتے پھر رہے ہوں،ڈولتے پھر رہے ہوں،اور ایسے بے رحم دور میں جب ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہواور حشر کا سماں ہو تو پھر ایسے وقت میں،مدد کے لئے بڑھے ہوئے کچھ ہاتھ اور آنکھوں میں سچائی کی چمک لئے کچھ مہربان چہرے کون بھول سکتا ہے اگر مہربان چہرے اُن کا شفیق سلوک، انتہائی آڑے وقتوں میں کی گئی مدد ہم بھلا دیں تو پھر ہمارے اندر کیا رہ جائے گا بس صرف ہماراکھوکھلا وجود ہی باقی رہ جائے گا۔اور ہم جیتے جی اپنے وجود کو کھوکھلا نہیں ہونے دیں گے۔اُن مہربان پیارے بزرگوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے، اُن کی یادوں کی شمع اُس وقت تک جلائے رکھیں گے جب کہ ہماری اپنی زندگی کی روشن ہے،اتنا سب کچھ لکھنے کا مقصد ہی اُن لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

اور پاکستان عالمِ وجود میں آ گیا

 ہجرت کے مناظر






کارپنڈرس سمیٹری ،لندن، 12 اکتوبر 1938،،،2نومبر 2019

مرتبہ: شاہ محمد ریحان  چشتی قادری

Monday, 22 September 2025

Shah Muhammad Salman Chishti "Abul-Insha"

                         

                

شاہ محمد سلمان چشتی ابوالانشاءؔ

ابوالانشاءؔ یا شاہ محمد سلمان چشتی صوبہ بہار (ہندوستان) کے مشہور ومعروف خانوادہ تصوف کے چشم وچراغ ہیں۔یہ 17 نومبر     1930  کوپھلواری شریف (پٹنہ) میں پیدا ہوئے۔ ان کا گھرانہ جس تصوف کا حامل رہا ہے اس کا دوسرا نام ”احسان“ہے۔ اور یہی تصوف اصلی اور اسلامی ہے۔ ”احسان“ کا ماحصل نیکوکاری اور حسنِ عمل ہے کہ دین ودنیاکا جوکام بھی ہواس کوحسن وکمال اورخوبی واخلاص کے ساتھ ہمہ تن ڈوب کر انجام دیا جائے،اس تصوف میں دین اور دنیا دو الگ چیزیں نہیں ہیں۔اس تصوف کی روح محبت ہے اصلاً اللہ سے،پھر خلق اللہ سے۔

         پھلواری شریف صوبہ بہار کی ایک چھوٹی سی مشہوربستی ہے۔اورصدیوں سے اسی تصوف اورعلم و فضل اوراخلاق وکردارکا مرکزہے۔یہاں کی خاک سے بڑے بڑے علماء صوفیا،ادبااورشعراء ہردورمیں اٹھتے رہے ہیں،جن کی علمی اورادبی خدمات نے سارے برعظیم کومتاثرکیا ہے،اوران صاحبان احسان کا نصب العین ہمیشہ خدمت خلق رہا ہے۔

بزرگی بہ از  خدمتِ خلق نیست     

بہ تسبیح  و  سجّادہ  و  دلق نیست

           1857 ء کے انقلاب کے بعدپھلواری کے سجادے پر صوفی بزرگ حضرت مولانا شاہ محمد علی حبیب نصرؔمرجع خاص وعام تھے۔ حضرت مولانا شاہ بدرالدین قادری و حضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی جو اپنے زمانے میں اہل تصوف کے امام مانے گئے،انہیں حضرت نصرکے داماد تھے ۔

         حضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی اپنے عہدکے مقدس مقتدائے قوم اورمقبول ترین رہنمائے ملک و ملت تھے۔ان کا نام آج بھی سارے برعظیم میں اپنی فکر و نظر،بزرگی، علم و فضل اوران خدمات جلیلہ کی وجہ سے زندہ و تابندہ ہے جوامت مسلمہ کی ذہنی و فکری تربیت کے لئے انجام دیں۔اوران بے شماراداروں کی وجہ سے جو ملک کے طول و عرض میں ان کی مساعی سے وجودمیں آئے۔وہ مولانا سیداحمدخاں کی تعلیمی تحریک کے ز بردست معاون اورمسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی روحِ رواں تھے۔قدیم علماء اورصوفیاء کے خانوادے سے پہلی اورموثر آوازحضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی ہی کی تھی جس نے تعلیمی تحریک کوقوت بخشی۔ وہ مجلس ندوۃ العلماء کے بانیوں میں تھے جس نے قدیم وجدیدکے تفرقے کو دور کیا۔اورعلماء کے نزاع باہمی کوختم کر کے سب کوایک مرکزپرسمیٹا، وہ انجمن حمایت اسلام لاہور کے مقبول رہنما تھے جس نے نوخیز اذہان کوصحیح رستے پرلگایا۔ علامہ اقبالؔ بھی اپنی نوجوانی میں وہیں سے چمکے۔مختصریہ کہ وہ تمام مسلک و خیال کے حلقوں میں یکساں مقبول و محبوب تھے اور ان کی حیثیت ان سب کے لئے نقطۂ وصل کی تھی وہ بڑے صاحبِ دل صوفی، صاحبِ نظرعالم،صاحبِ ٖفکرسیاستدان،سماجی رہنما،ماہرتعلیم اورمصلح قوم تھے

         انہوں نے 1302 ھمیں آج سے 145سال پہلے سیرت نبوی کی تحریک شروع کی۔ اور سارے برعظیم میں سیرت کاصحیح ذوق اور روحانیت کا کیف پیدا کیا اوریہ انہیں کی تحریک تھی جس نے بے شمار لوگوں کوسیرت نبوی کے باقاعدہ مطالعہ وتصنیف کی طرف متوجہ کیا اورمناظرانہ بحث وجدال کا رخ موڑا۔وہ سحرالبیان خطیب تھے۔مثنوی مولانا روم کوبھی ملک کے گوشے گوشے میں قبول عام انہیں کی خطابت اورمخصوص ترنم نے عطا کیا اورلوگ علم کلام سے آشنا ہوئے۔آج جومثنوی کا موجودہ ترنم زبانوں پرہے۔وہ انہیں کی خطابت اورمخصوص ترنم کا عکس ہے۔وہ علی گڑھ ایم اے ا و کالج کے ٹرسٹی بھی تھے۔اور اس  کالج کویونیورسٹی بنانے کی مہم میں بھی ان کی شخصیت ایک بڑا سہارا تھی۔برعظیم میں کوئی تحریک اورکوئی جدوجہدایسی نہ تھی جس میں ان کی عظیم شخصیت موجبِ تقویت اور راہنما نہ سمجھی جاتی ہو۔ مئ 1935  میں انہوں نے رحلت فرمائی۔

         حضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی کے چار صاحبزادے تھے۔مولانا شاہ حسن میاں،مولانا  شاہ حْسین میاں،مولانا  شاہ  غلام حسنین چشتی اورمولانا  شاہ جعفرندوی پھلواروی اورایک صاحبزادی تھیں،جن کی یادگارمولانا شاہ عزالدین ندوی پھلواروی تھے۔جو پہلے دارالعلوم ندوۃالعلماء میں ادیب و مفسر تھے۔ علامہ اقبال نے اپنی  زندگی میں ان کو شاہی مسجدلاہورکے خطیب ومفتی کی حیثیت سے بلوا لیا تھا۔بعدہٗ مدرسہ شمس الہدٰی پٹنہ،میں شیخ الحدیث رہے۔متعدد کتابیں اردو اور عربی میں ان کے قلم سے نکلیں۔ عربی ادب میں ان کی خدمات کے اعتراف میں صدرجمہوریہ ہند نے  1976 ء میں انہیں تمغہ حسنِ کارکردگی سے نوازا۔

         مولانا شاہ حسن میاں نے جوانی میں انتقال کیا۔اس کم عمری میں ہی انہوں نے درجنوں کتابیں تصنیف کیں۔ انہوں نے اپنے والدماجدکے حکم سے سیرتِ نبویؐ کی تالیف شروع کی، اس وقت تک کوئی مستنداورجامع کتاب سیرت پراردو زبان میں موجود نہیں تھی، اولاً اس مقصدکی تکمیل کے لئے مولانا حسن میاں نے قلم اٹھایا اورمولانائے پھلواروی کی تحقیق و جستجو اور بیانات کو سمیٹ کر ایک جامع سیرتِ نبویؐ  لکھنا شروع کی۔ حسن میاں کی سیرۃالنبی کے کچھ اجزاء میلادالرسول،حْبِ رسول اور خلقِ حسن کے نام سے چھوٹی چھوٹی کتابوں کی صورت میں تو سامنے آئے مگر جامع سیرتِ نبوی کی تکمیل وہ نہ کر سکے۔

         مولانا حسن میاں کے صاحبزادے مولانا حسن مثنٰی ندوی علمی ادبی،سیاسی اور مذہبی دنیا میں محتاجِ تعارف نہیں۔ وہ ملک کے ممتاز صحافی، محقق، ادیب و شاعراور تحریک ِ  پاکستان کے ممتاز اورسرگرم رہنما اور قائداعظم کی مسلم لیگ کاؤنسل کے رکن تھے۔ان کی تصانیف و تالیف چالیس کے قریب ہیں۔ان کا انتقال  1998ء میں کراچی میں ہوا۔

         مولانا شاہ حسین میاں نے 1947 ء میں رحلت کی۔ ان کی زندگی سراپا جدوجہدتھی۔ وہ عہدِ خلافت سے لے کرمسلم لیگ کی نشاۃ ثانیہ اور قیام پاکستان کے فیصلے تک مسلسل مصروف رہے۔بزمِ صوفیا،جمعیت العلماء،آل انڈیا مسلم کانفرنس،اورآل انڈیا مسلم لیگ کے ممتازقائدین میں ان کا شمارتھا،وہ خوش بیان خطیب اورسیاسی رہنماتھے۔وہ حضرت مولانا سلیمان پھلواروی کے جانشین اورصاحبِ سجادہ تھے۔ان کے خلفِ اکبرسید علی اکبر کی ذات گوناگوں خصوصیات اور خوبیوں کا مجموعہ تھی۔ وہ اس ملک کے امداد باہمی کی تحریک کے صفِ اوّل کے لیڈراورممتازتاجر ہونے کے ساتھ ہی شاعر،ادیب،اور صحافی تھے۔انہوں نے قومی زندگی کے مختلف اورمتنوع شعبوں میں کام کیا۔اورہرجگہ اپنی لیاقت،صلاحیت ااور قابلیت کے سکے جما دئیے۔سید علی اکبرنے متعددبارتحریکِ امداد باہمی کے قائد کی حیثیت سے پاکستان کی بین الاقوامی اجتماعات میں نمائندگی بھی کی اور ان بین الاقوامی اجتماعات میں پاکستان کا نام سربلندکیا۔

        ان کا مزارشہیدِملّت روڈپرہل پارک کے قریب بڑے پْرفضا مقام پرہے۔بہادر آبادچورنگی،کراچی کا سرکاری نام علی اکبراسکوائران ہی کے نام سے منسوب ہے۔

         مولانا حْسین میاں کی وفات کے بعدحضرت مولانا شاہ غلام حسنین صاحب چشتی زیبِ سجادہ ہوئے اور ہندوستان میں ہی رہے۔ان کے قلم سے متعدد علمی،ادبی، تحقیقی مضامین نکلے۔تصانیف میں ”خاتمِ سلیمانی“اور”شمس المعارف“کوخاص شہرت حاصل ہوئی۔1974میں انتقال  کیا اورشاہی سنگی مسجدکے احاطہ میں مدفون ہوئے۔

         ان کےچھوٹے بھائی حضرت مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی  1947کےقتل عام کے وقت کپورتھلے میں تھے۔ اورمسلمانوں کا قافلہ جب پاکستان آیا تو وہ قافلے کے ساتھ لاہورتشریف لے آئے،وہ خالص علمی فکرونظرکے بزرگ تھے۔وہ سرزمین پاک و ہند میں اپنی بیش بہا تصانیف اورعلم و تحقیق میں اعلیٰ مقام کے حامل تھے۔کم و بیش چالیس کتابوں کے مصنف تھے،جن میں سے متعدد تصنیف ملک میں مشہور ہیں۔آپ کا انتقال 1982میں کراچی میں ہوا۔

        شاہ محمدسلمان چشتی جن کا ہم آپ سے تعارف کرا رہے ہیں  حضرت مولانا غلام حسنین چشتی کے بڑے صاحبزادے تھے۔نیزعلامہ  شاہ محمدجعفرپھلواروی کے بھتیجے اورداماد بھی تھے۔

        تقسیمِ ہند کے وقت برصغیرمیں سیاسی ہنگاموں کا دورتھا۔پورا ملک ایک انقلاب سے گذررہا تھا۔ان دنوں شاہ سلمان چشتی نے مسلم ہائی اسکول پٹنہ سے میٹرک پاس کرنے کے بعدمزیدتعلیم کے حصول کے لئے پھلواری شریف کوخیربادکہا۔اور 1949میں کلکتہ چلے گئے وہاں میڈیکل کالج میں داخل ہوگئے لیکن شدیدفرقہ وارانہ فساد کی وجہ سے  ہجرت کرکے ڈھاکہ مشرقی پاکستان کا رخ کیا۔وہاں نا مساعد حالات کی وجہ سے میڈیکل کی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اورکامرس پڑھنے کا ارادہ کیا۔ وہاں ان دنوں قائد اعظم کالج قائم ہورہا تھا۔ اس کے قیام میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔اور وہیں داخلہ لے کرانٹرکامرس کا امتحان پاس کیا۔

        شاہ سلمان چشتی 1952 میں کراچی آگئے۔یہاں کراچی یونیورسٹی سے بی کام کرنے کے بعد  1958 میں نیشل بینک آف پاکستان سے منسلک ہو گئے اوراسی سال بینک کی لندن برانچ میں ان کی پوسٹنگ ہوگئی۔  1963 میں وطن لوٹے اورجوش وجذبہ سے قومی بینک کے بنانے اورسنوارنے میں اپنا بھرپور کرداراداکیا۔انہوں نے بینکنگ سے متعلق نہایت مفیدکتابچے بھی ترتیب دیئے۔انتھک محنت، خدمت اوراحساسِ ذمہ داری ان کا نصب العین ہے۔  1965 ءکی جنگ کے دوران سیکورٹی کے انچارج رہے۔ اس دورمیں انکی ہردلعزیزی اپنے حسن کارکردگی کے باعث قابلِ دیدتھی۔جس کا اعتراف اس وقت کے صاحبانِ اختیارنے مختلف سندیں عطا کرکے کیا تھا۔

         انہوں نے عاضۂ قلب کے باعث 1987میں بنک سے اختیاری ریٹائرمنٹ لے لی،اس کے باوجودکہ صحت اچھی نہیں رہتی سماجی کاموں میں اپنی دلچسپیاں اپنے خاندانی روایت کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہیں۔وہ آج کل فاران کوآپریٹوہاوسنگ سوسائیٹی کے چیئرمین،کوآپریٹوہاوسنگ سوسائیٹیزیونین لمیٹڈکے ڈائریکٹر،علی اکبر ممیوریل ٹرسٹ کے مینیجنگ ٹرسٹی،علامہ سیدسلیمان ندوی فاؤنڈیشن کے بورڈآف گورنرزکے ممبرہیں  اوردیگر متعدد اداروں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں جوسب کے سب اعزازی ہیں۔

               شاہ محمدسلمان چشتی صاحب نے مرنجان مرنج شخصیت اورباغ وبہارطبیعت پائی ہے۔ ادب اور شعروسخن کا اعلی مذاق رکھتے ہیں،عمدہ نثرونظم لکھنے پرقدرت ہے۔اور خاص طورپرفی البدیہہ شعرگوئی پرعبورہے،قلمی نام کہیے یا تخلص اس میں بھی نْدرت کا خیال رکھا یعنی ابوالانشاء ؔکے نام  سے لکھتے ہیں انشاءاللہ خان انشاء ؔاورابن انشاء ؔکے بعدابوالانشاءؔ کی ترکیب ہی باقی رہتی تھی،انشاء پردازی ہویا انشایۂ تحقیق وتجسس ہویا خطوط کا آئینہ طنزو مزاح، غزل گوئی،نعت گوئی، رباعی  قطعات غرض تمام اصنافِ سخن پر خامہ فرسائی  کی ہے  اورابھی بقول انکے ارتقاء کے ابتدائی منازل میں ٹامک ٹوئیاں ماررہے ہیں،انہیں کس صنف میں فوقیت حاصل ہے اس کا تعین مشکل ہے،دراصل ادب آرٹ شعریا اسلوب کی جامع  تعریف کرنا حروفِ مقطعات کے معنی تلاش کرنے کے برابرہے،جس طرح ذہنی ارتقاء ہوتا ہے،اسی طرح شعری اورادبی ارتقاء بھی ہوتا ہے،جس طرح انسانی شخصیت موروثی کردار،بول چال،رہن سہن،حرکات وسکنات اورفطری سطح سے عبارت ہے اسی طرح کسی فنکارکے اسلوب کے تعین میں اس کا تخیل،انتخاب موضوع،لفظیات اورروّیہ یا برتاؤ ممدومعاون ثابت ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی شاعرکا جائزہ لیں توساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ شعری اورفنی روایت سے اس کا تعلق کس قسم کا ہے۔

        ابوالانشاءؔ کے فن اورشاعری پرایک سرسری نظرسے تو بس ہم ان کے موروثی اورخاندانی پسِ منظرمیں جس کا حوالہ ہم نے  اجمالی طورپراوپردرج کیا ہے،ان کی طبیعت کی سادگی،تصوف کی لطافت،حالات کا ایک اندرونی کرب اوراس پرپردہ پوشی کی کوشش میں طنزومزاح کی چاشنی دیکھتے ہیں،ان کے نعتیہ کلام میں جہاں عشقِ رسول کی گہرائی نمایاں ہے وہیں شوکت الفاظ،لطیف استعارے اورکمال احتیاط بھی بڑا  واضح نظرآتا ہے۔

12جولائی2015 میں آپ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ عیسیٰ نگری قبرستان، کراچی میں مدفون ہوۓ۔  

ریحان چشتی